شراکت اقتدار کا معاہدہ یمن میں جنگ کے خاتمے کی نئی امید

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے یمن کے لیے خصوصی نمائندے مارٹن گرفتھز نے یمن کی نئی حکومت کے بارے میں کہا ہے کہ ’زیادہ استحکام، ریاستی اداروں کی بہتری اور زیادہ سیاسی شراکت داری کے لیے نئی حکومت ایک اہم قدم ہے۔‘

(تصویر: عرب نیوز)

اہم عہدے داروں کا کہنا ہے کہ سعودی عر ب کی قیادت میں یمن میں شراکت اقتدار کی بنیاد پر نئی حکومت کے قیام کی مہم کے نتیجے میں ملک میں جاری تباہ کن جنگ ختم ہونے کی امید بڑھ گئی ہے۔

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے یمن کے لیے خصوصی نمائندے مارٹن گرفتھز نے یمن کی نئی حکومت کے بارے میں کہا ہے کہ ’زیادہ استحکام، ریاستی اداروں کی بہتری اور زیادہ سیاسی شراکت داری کے لیے نئی حکومت ایک اہم قدم ہے۔‘

عرب پارلیمنٹ کے چیئرمین عبدل بن عبدالرحمان السومی کا کہنا ہے کہ نئی حکومت کی تشکیل سے سلامتی، استحکام، اتحاد، ریاستی ادارے فعال بنانے، آزاد کرواائے گئے علاقوں میں ترقی منصوبوں کو عملی شکل دینے اور یمن کے عوام کی مشکلات کم کرنے میں مدد ملے گی۔

خلیج تعاون کونسل کے سیکرٹری جنرل ڈاکٹر نائف مبارک الحجرف نے یمنی عوام کے مفادات کو ترجیح دینے، نئی حکومت کی حمایت اور یمن کا بحران ختم کرنے میں کردار پر یمنی سیاسی جماعتوں کی تعریف کی ہے۔

انہوں نے یمن کی عالمی سطح پر تسلیم کی جانے والی یمن کی حکومت کی حمایت پر سعودی عرب کی قیادت میں قائم اتحاد کا بھی شکریہ ادا کیا ہے۔

ادھر متحدہ عرب امارات نے امید ظاہر کی ہے کہ یمن میں نئی پیشرفت سے سیاسی بحران کے حل کی راہ ہموار ہو گی۔ بحرین نے اسے ایران کی حمایت یافتہ حوثی ملیشیا کے مقابلے میں یمنی کوششوں کی مضبوطی اور اتحاد اور یمنی شہریوں کے لیے سلامتی، امن اور استحکام کے حصول کے لیے اہم قدم قرار دیا ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

یمن کے صدر عبدالربومنصورہادی نے  جمعے کو اعلان کیا کہ شراکت اقتدار کی بنیاد پر حکومت کی تشکیل معاہدہ ریاض کے مطابق ہے جو گذشتہ برس جنوبی عبوری کونسل کے ساتھ کیا گیا تھا۔

سیکرٹری خارجہ ڈومینک راب اس حوالے سے کہتے ہیں کہ ’یہ امن کی جانب ایک اور قدم ہے جس کی یمن کے لوگوں کو شدت سے ضرورت تھی۔‘

برطانیہ کے شمالی افریقہ اور مشرق وسطیٰ کے وزیر جیمز کلیورلی نے یمن کی نئی حکومت پر زور دیا ہے کہ ملک کے ’وسیع تر سیاسی عمل‘ کی خاطراقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے خصوصی نمائندے کے ساتھ مل کر کام کرے۔

(بشکریہ عرب نیوز)

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا