دھماکوں کے سائے میں ’2020 کی مس اور مسٹر افغانستان‘ کا انتخاب

خوبصورت ماڈلز کے انتخاب کے لیے یہ مقابلہ قطر کے دارالحکومت دوحہ میں افغانستان حکومت اور طالبان رہنماؤں کے درمیان مذاکرات کے دوسرے دور سے نو روز قبل کروایا گیا۔

اس مقابلہ حسن میں شرکت کے لیے فیشن اور بیوٹی کے شعبے سے تعلق رکھنے والے تقریباً 60 نوجوان مرد اور خواتین ماڈلز سٹیج پر آئے (انڈپینڈنٹ فارسی)

افغانستان کے دارالحکومت کابل میں یکے بعد دیگرے ہونے والے چار بم دھماکے بھی ماڈلز کے انتخاب کے لیے کروایا جانے والا ’افغانستان کے خوبصورت مرد اور عورت کا مقابلہ‘ رکوانے میں ناکام رہے۔

مسلح اسلامی گروپوں کی جانب سے حملے کے خطرے کے باوجود منتظمین نے 2020  کے تین خوبصورت مرد اور خاتون کے مقابلے کا اہتمام کیا۔

اس مقابلہ حسن کا مقصد یہ دکھانا تھا کہ سیاسی مقاصد کے حصول کی جدوجہد کے نتیجے میں پیدا ہونے والے عدم تحفظ کے باوجود زندگی معمول پر ہے۔

وہ لوگ جن کے لیے بم ایک تلخ مذاق بن چکے ہیں وہ بھی مقابلہ حسن میں زندگی سے لطف اٹھانے اور مستقبل کے لیے روزگار حاصل کرنے کی خاطر گھروں سے نکلے۔ اس مقابلہ حسن میں شرکت کے لیے فیشن اور بیوٹی کے شعبے سے تعلق رکھنے والے تقریباً 60 نوجوان مرد اور خواتین ماڈلز سٹیج پر آئے۔

مقابلہ حسن کے اس راؤنڈ کا مقصد ’2020 کی مس اور مسٹر افغانستان‘ کا انتخاب کرنا تھا۔ مقابلے کے منتظمین نے ایک تقریب کا اہتمام بھی کیا جس کا مقصد نئے ماڈلز کی تلاش اور انہیں کمپنیوں اور اشتہاری اداروں میں متعارف کروانا تھا۔

افغانستان میں اشتہاری صنعت کئی سال سے زندہ تو ہے لیکن اسے اب خوبصورت ماڈلز کی کمی کا سامنا ہے۔ بعض کیسوں میں ہمسایہ ملک ایران اور پاکستان کے اشتہارات کے شعبے کے لوگ افغانستان سے خریدی گئی اشیا کو افغان خریداروں میں متعارف کروانے کے لیے ان کے اشتہارات ٹیلی ویژن پر دکھاتے ہیں۔

مقابلہ حسن کے ڈائریکٹر حامد ولی نے صحافیوں کو بتایا ’انہیں2020 کی خوبصورت خاتون مل جائیں گی۔‘

اس انتخاب کے لیے مختلف قواعدوضوابط پر غور کیا جا چکا ہے جس میں وضع قطع، چہرے اور جسم کی خوبصورتی، گفتگو کا انداز، ذوق اور کام کے طریقہ شامل ہے جس کی بنیاد پر ججز بہترین ماڈل کا انتخاب کرتے ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

مقابلہ حسن میں شریک زیادہ ماڈلز نے افغانستان کا روایتی لباس پہن رکھا تھا تاہم بعض کے لباس میں مقامی کے ساتھ ساتھ مغربی فیشن کی جھلک بھی دکھائی دے رہی تھی۔

میک اپ میں بھی مقامی کے ساتھ غیرملکی انداز اپنایا گیا تھا۔

یہ پہلا سال ہے جس میں دارالحکومت کابل میں اس قسم کے مقابلے کا اہتمام کیا گیا۔ پروگرام کے منتظمین کا منصوبہ ہے کہ خوبصورت خاتون اور مرد ماڈلز کے انتخاب کے بعد انہیں ضروری تربیت دی جائے گی تاکہ وہ ماڈلنگ کی دنیا میں نیا روزگار حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائیں۔

ماڈلنگ مختلف مصنوعات کی تشہیر تک محدود نہیں ہے بلکہ اس کے ذریعے ماڈل کاروبار، فلم اور سینیما کی دنیا میں بھی قدم رکھ سکتے ہیں۔

خوبصورت ماڈلز کے انتخاب کے لیے یہ مقابلہ قطر کے دارالحکومت دوحہ میں افغانستان حکومت اور طالبان رہنماؤں کے درمیان مذاکرات کے دوسرے دور سے نو روز قبل کروایا گیا۔ بات چیت میں حکومتی نمائندے کئی برس سے شہروں اور اہم سماجی تقاریب سے دور رہنے والے طالبان کو ملک کے نئے حقائق اور اس کے سیاسی مستقبل سے آگاہ کریں گے۔

زیادہ پڑھی جانے والی سٹائل