براستہ افغانستان وسط ایشیا تک ریلوے لائن: پیش رفت

اسلام آباد میں وزیر اعظم کے دفتر میں منعقدہ اس دستخطی تقریب میں ازبکستان کے وزیر برائے مواصلات محکموف ایلخام نے بھی شرکت کی۔ مشترکہ خط پر ازبکستان اور افغانستان کے صدور پہلے ہی دستخط کر چکے ہیں۔

(فائل فوٹو: اے ایف پی)

پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان نے وسطی ایشیا تک ریلوے لائن بچھانے کے لیے بین الاقوامی ایجنسیوں سے 4.8 ارب ڈالر کی مالی معاونت حاصل کرنے کے لیے افغانستان اور ازبکستان کے ساتھ مشترکہ  یادداشت پر دستخط کیے ہیں۔

تجارت کے لیے وزیر اعظم کے مشیر عبد الرزاق داؤد نے ٹوئٹر پر لکھا: ’آج وزیر اعظم نے افغانستان اور ازبکستان کے ساتھ مشترکہ لائحہ عمل کے تحت ایک خط پر دستخط کیے ہیں جس میں بین الاقوامی مالیاتی ایجنسیوں سے پاکستان سے ازبکستان تک براستہ افغانستان ریلوے لائن بچھانے کے لیے مالی اعانت کی فراہمی کا کہا گیا ہے۔‘

انہوں نے مزید کہا: ’یہ منصوبہ افغانستان کے ذریعے وسطی ایشیائی ریاستوں سے رابطے اور تجارت کی ہمارے وژن کی عکاسی کرتا ہے۔‘

عبد الرازاق داؤد نے کہا کہ منصوبے کے تحت افغانستان کے ساتھ تجارتی معاہدوں کے بعد ازبکستان کے ساتھ بھی اسی طرح کے معاہدے کیے جائیں گے۔

مشیر تجارت نے کہا: ’مجھے امید ہے کہ میں جنوری 2021 میں ازبکستان کا دورہ کروں گا جس سے ہماری برآمدات میں اضافہ کے لیے نئے دروازے کھلیں گے۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

عرب نیوز کے مطابق اسلام آباد میں وزیر اعظم کے دفتر میں منعقدہ اس دستخطی تقریب میں ازبکستان کے وزیر برائے مواصلات محکموف ایلخام نے بھی شرکت کی۔ مشترکہ خط پر ازبکستان اور افغانستان کے صدور پہلے ہی دستخط کر چکے ہیں۔

ازبک وزیر نے وزیر اعظم خان سے بھی علیحدہ ملاقات کی اور دوطرفہ تعلقات، علاقائی رابطے اور خطے میں امن و سلامتی پر تبادلہ خیال کیا۔

وزیر اعظم کے دفتر سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ وزیر اعظم عمران خان نے وسطی ایشیائی ممالک کے ساتھ قریبی تجارت، سرمایہ کاری، توانائی اور عوام کے درمیان تعلقات کو مضبوط بنانے کے لیے پاکستان کے عزم کا اظہار کیا۔

عمران خان نے اقتصادی ترقی اور خطے کی مجموعی ترقی کے لیے علاقائی رابطوں کو فروغ دینے کے لیے مشترکہ کوششوں کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ پاکستان وسط ایشیائی ریاستوں کو اپنی بندرگاہوں کے ذریعے بحر ہند تک رسائی فراہم کر سکتا ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی ایشیا