مردان کی فاطمہ کے فن پاروں میں ماحولیاتی تبدیلیوں کا پیغام

فاطمہ کے مطابق: ’ماحولیاتی تبدیلی ایک حقیقت ہے، جس سے انکار نہیں کیا سکتا اور یہی وجہ ہے کہ اس کے بارے میں آگاہی دینا صرف حکومت اور چند اداروں کا کام نہیں بلکہ ہم سب کو مل کر اس کے برے اثرات کے تدارک کے لیے کام کرنا پڑے گا۔‘

14 سالہ فاطمہ فراز اپنے گھر کے ایک کونے میں بیٹھی فن پارے کو مکمل کر رہی ہیں۔ یہ فن پارہ ماحولیاتی تبدیلی سے متعلق آگاہی کے حوالے سے ہے، جس میں وہ عوام کو یہ پیغام دے رہی ہیں کہ اس زمین پر بسنے والے لوگ ہی اسے ماحولیاتی تبدیلیوں اور آلودگی سے بچا سکتے ہیں۔

فاطمہ کا تعلق خیبر پختونخوا کے ضلع مردان سے ہے اور وہ ابھی نویں جماعت میں تعلیم حاصل کر رہی ہیں۔ فاطمہ کو بچپن سے پینٹنگز اور فن سے لگاؤ ہے، تاہم انہوں نے اپنے لیے ماحولیاتی آلودگی کا موضوع منتخب کیا ہے۔

انہوں نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا: ’میرے ذہن میں یہ آیا کہ کیوں نہ تصویر کے ذریعے عوام میں آگاہی پھیلائی جائے تاکہ ماحولیاتی تبدیلیوں کے برے اثرات سے ماحول کو بچایا جا سکے۔‘

فاطمہ نے اب تک درجنوں فن پارے ماحولیاتی آلودگی اور اس سے جڑے دیگر عوامل کے بارے میں بنائے ہیں اور وہ اب بھی آرٹ سیکھ رہی ہیں۔

انہوں نے بتایا: ’میں نے اپنے فن پاروں کی نمائش زیادہ تر سکولوں میں کی ہے تاکہ بچوں کو بھی اس مسئلے کا اندازہ ہو سکے۔ اس کے علاوہ میں نے ایک کلب بھی بنایا ہوا ہے، جس میں ہم کچھ دوست مل کر مختلف ایونٹس کا انعقاد کرتے ہیں جبکہ شجر کاری مہم بھی چلاتے ہیں۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

فاطمہ کے والدین اس سارے کام میں ان کو سپورٹ کرتے ہیں۔ فاطمہ نے بتایا کہ ایک سال پہلے جب انہوں نے ماحولیاتی تبدیلیوں کے حوالے سے کام شروع کیا تو گھر والوں نے آغاز میں ان سے کہا کہ ’وہ کسی اور موضوع پر کام کریں تاہم جب ان کو اس موضوع کی اہمیت کا اندازہ ہوا تو تب سے اب مجھے ہر قسم کی سپورٹ فراہم کر رہے ہیں۔‘

اس سارے کام سے تعلیم پر اثر تو نہیں پڑتا؟ اس سوال کے جواب میں فاطمہ نے بتایا کہ ’میں نے اپنا شیڈول بنا رکھا ہے، ہر کام اس کے وقت پر کرتی ہوں تاکہ تعلیم اور سماجی کاموں کے لیے بھی وقت مل سکے۔‘

وہ کہتی ہیں کہ ’ماحولیاتی تبدیلی ایک حقیقت ہے، جس سے انکار نہیں کیا سکتا اور یہی وجہ ہے کہ اس کے بارے میں آگاہی دینا صرف حکومت اور چند اداروں کا کام نہیں بلکہ ہم سب کو مل کر اس کے برے اثرات کے تدارک کے لیے کام کرنا پڑے گا۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی آرٹ