پی ڈی ایم کا ضمنی انتخابات میں حصہ لینے کا فیصلہ

پی ڈی ایم کے طویل اجلاس کے بعد مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ اگر حکومت ایک ماہ میں مستعفی نہ ہوئی تو فیصلہ کریں گے کہ لانگ مارچ کا رخ اسلام آباد کی جانب ہو یا پھر راولپنڈی کی جانب۔

پاکستان جمہوری تحریک (پی ڈی ایم) کے چیئرمین مولانا فضل الرحمٰن نے جمعے کو اعلان کیا ہے کہ پی ڈی ایم میں شامل جماعتیں مختلف حلقوں میں ہونے والے ضمنی انتخابات میں حصہ لیں گی البتہ سینیٹ الیکشن کے حوالے سے فیصلہ حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے بعد میں کیا جائے گا۔

آج رائیونڈ میں پی ڈی ایم میں شامل جماعتوں کا سربراہی اجلاس ہوا، جس میں سینیٹ اور ضمنی الیکشن، لانگ مارچ اور اجتماعی استعفوں پر طویل مشاورت ہوئی۔ اجلاس میں جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن اور پاکستان مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز نے اپنے اپنے وفود کے ساتھ شرکت کی جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کراچی سے بذریعہ ویڈیو لنک شرکت کی، تاہم پی پی پی کی سینیئر قیادت پر مشتمل وفد اجلاس میں شریک تھا۔

10 جماعتوں کے اتحاد پی ڈی ایم بننے کے بعد پہلے مرحلے میں کئی بڑے شہروں میں مشترکہ جلسے منعقد کیے گیے۔ لاہور میں اس مرحلے کا آخری جلسہ ہوا جس میں توقع کی جا رہی تھی کہ اپوزیشن جماعتیں آئندہ کا لائحہ عمل شیئر کریں گے۔ تاہم بات فروری میں لانگ مارچ کے امکان اور اجتماعی استفعوں کے اعلان تک محدود رہی۔

پی ڈی ایم کے چیئرمین مولانا فضل الرحمٰن نے دسمبر کے اوائل میں ایک پریس کانفرنس میں اعلان کیا تھا کہ تمام اپوزیشن جماعتوں کے قومی و صوبائی اسمبلیوں میں نمائندے استعفے اپنی اپنی قیادت کو 31 دسمبر تک جمع کرا دیں۔

آج اجلاس کے اختتام پر مولانا فضل الرحمٰن نے میڈیا کو بتایا کہ اجلاس میں تمام جماعتوں نے آگاہ کیا کہ ان کی مرکزی قیادت کے پاس تمام استعفے جمع ہو چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کے پاس ایک ماہ کی مہلت ہے اگر وہ گھر نہ گئی تو پی ڈی ایم لانگ مارچ کی تاریخ کا اعلان کرے گی اور یہ بھی طے کیا جائے گا کہ لانگ مارچ کا رخ اسلام آباد کی جانب ہو یا پھر راولپنڈی کی طرف۔

انہوں نے الزام عائد کیا کہ ’سٹیبشلمنٹ نے پورا نظام یرغمال بنا رکھا ہے، عمران خان ایک مہرہ ہیں۔ یہ فوج ہماری فوج ہے، ہم تمام جرنیلوں کا احترام کرتے ہیں لیکن اگر فوج سیاست میں مداخلت کرتی ہے تو معاملات خراب ہوتے ہیں، اب تحریک کا رخ صرف مہرے کی طرف نہیں ہو گا۔‘

انہوں نے اعلان کیا کہ پی ڈی ایم 19 جنوری کو الیکشن کمیشن آف پاکستان کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کرے گی جبکہ قومی احتساب بیورو (نیب) آفس کے سامنے بھی احتجاج کا لائحہ عمل بنایا جا رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ وہ احتساب سے نہیں بھاگتے لیکن احتساب کے نام پر انتقام لیا جا رہا ہے۔

گذشتہ دنوں پاکستان مسلم لیگ فنکشنل کے سکریٹری جنرل محمد علی درانی کی صدر مسلم لیگ ن شہباز شریف سے جیل میں اور جمعرات کو مولانافضل الرحمٰن سے الگ الگ ملاقاتیں ہوئیں تھیں۔ درانی سے ملاقات سے متعلق ایک سوال کے جواب میں مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ وہ خود چل کر آئے تھے اور انہوں نے جو تجاویز دیں وہ ’میں نے یکسر مسترد کر دیں۔‘

مریم نواز نے میڈیا سے مشترکہ گفتگو میں مختصراً کہا کہ ن لیگ کے تمام اراکین کے استعفے جمع ہوچکے ہیں، اگر کوئی یہ امیدیں لگا کر بیٹھا ہے کہ ن لیگی اراکین کو روک لیں گے تو وہ ایسا نہیں کر سکیں گے۔

مریم نواز نے میڈیا سے علیحدہ بات چیت کرتے ہوئے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ نہ پی پی پی، نہ ن لیگ یا پی ڈی ایم میں شامل کسی اور جماعت نے سینیٹ الیکشن کے حوالے سے کوئی فیصلہ کیا ہے۔ ’سینیٹ الیکشن میں ابھی وقت ہے، ہم اس پر مزید غور کریں گے کیونکہ اس کے کچھ اہم قانونی اور آئینی نکات ہیں جن پر غور ضروری ہے۔‘

ایک سوال پر کہ آیا ان سے رابطے کیے جا رہے ہیں؟ مریم نواز نے جواب دیا کہ وہ تصدیق کرتی ہیں کہ رابطوں کی کوشش ہو رہی ہے۔ انہوں نے ایک اور سوال کے جواب میں کہا کہ ضمنی انتخابات میں مشترکہ امیدوار سامنے لائے جا سکتے ہیں لیکن ابھی کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہوا، اس کا انحصار مقامی سیاست پر ہو گا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انہوں نے بتایا کہ پی ڈی ایم ضمنی انتخابات میں ’جعلی حکومت‘ کے لیے راستہ کھلا نہیں چھوڑے گی بلکہ مقابلہ کرے گی۔ ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ وہ لانگ مارچ کو ضمنی یا سینیٹ الیکشن سے لنک نہیں کر رہے۔

دوسری طرف وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ اگر سابق صدر آصف علی زرداری اور سابق وزیر اعظم نواز شریف بیرون ملک سے پیسہ واپس لے آئیں تو بہت سے مسائل حل ہوجائیں گے۔

انہوں نے ایک بار پھر دہرایا کہ وہ اپوزیشن سے این آر او کے علاوہ ہر معاملے پر مذاکرات کو تیار ہیں، این آر او کے دباؤ میں گھٹنے ٹیک دیے تو ملک تباہ ہو جائے گا۔ انہوں نے آج ایک ٹی وی انٹرویو کے دوران کہا کہ ’میرے اور فوج کے خلاف غیر ملکی سازش ہو رہی ہے اور پی ڈی ایم اس کا حصہ ہے۔

وفاقی وزیر برائے اطلاعات شبلی فراز نے پی ڈی ایم کے اجلاس کے بعد جیو نیوز سے گفتگو میں کہا کہ اپوزیشن میں اصل سٹیک ہولڈرز پی پی پی ہے، جو استعفی نہیں دینا چاہتی۔ انہوں نے کہا کہ ن لیگ کو اپنے دو ارکان کے قومی اسمبلی میں سپیکر کے سامنے استعفے دینے سے انکار پر خفت اٹھانا پڑی ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی سیاست