یمن: شادی ہال میں دھماکہ، پانچ خواتین ہلاک

جمعے کی رات شہر کے ہوائی اڈے کے قریب واقع شادی ہال پر ہونے والے حملے کا الزام حکومت اورحوثی باغیوں نے ایک دوسرے پر عائد کیا ہے۔

(فائل فوٹو: اے ایف پی)

یمن کے شہر حدیدہ میں شادی ہال میں ہونے والی تقریب پرحملے میں ہونے والے دھماکے میں پانچ خواتین ہلاک ہو گئیں۔

جمعے کی رات شہر کے ہوائی اڈے کے قریب واقع شادی ہال پر ہونے والے حملے کا الزام حکومت اورحوثی باغیوں نے ایک دوسرے پر عائد کیا ہے۔

باغیوں کے زیرقبضہ حدیدہ شہر حکومتی اور باغی فورسز کے درمیان جنگ کا محاذ بن چکا ہے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق تازہ حملے سے  دو روز پہلے جنوبی شہر عدن میں حکومتی وزرا کے طیارے سے اترنے کے بعد ہوائی اڈے پر ہونے والے دھماکوں میں 26 لوگ مارے گئے تھے۔

عینی شاہد نے اے ایف پی کو بتایا:  'دھماکہ مختلف شادی ہالز پر مشتمل کمپلیکس کے داخلی راستے پر ہوا ۔ شادی ہال میں باغیوں کے ایک حامی کی تقریب جاری تھی جن کی حال ہی میں شادی ہوئی۔'

مقامی حکام نے بتایا ہے کہ دھماکے میں پانچ خواتین ہلاک ہو گئیں جب کہ سات دوسرے افراد زخمی ہوئے جن میں بچے بھی شامل ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

گمان کیا جا رہا ہے کہ شادی ہال کو مارٹر گولے سے نشانہ بنایا گیا۔

یمن میں جنگ بندی کی نگرانی کرنے والے اقوام متحدہ کی حمایت سے بننے والے مشترکہ کمیشن میں حکومتی نمائندے جنرل صادق دوئید نے دھماکے کی مذمت کرتے ہوئے اسے حوثی باغیوں کا شہریوں کے خلاف  بھیانک جرم قرار دیا ہے۔

حدیدہ میں حوثیوں کی جانب سے مقرر کئے گئے گورنر محمد ایاچی نے باغیوں کے زیرانتظام المسیرا ٹیلی ویژن پر کہا ہے کہ جارح فورسز اپنے جرائم کا الزام ایک دوسرے پر عائد کرنے سے کبھی نہیں کتراتیں۔ سرکاری فورسز نے حدیدہ پر دوبارہ قبضے کے لیے  2018  میں حملے کا آغاز کیا تھا۔ یہ شہر عرب دنیا کے غریب ترین ملک کے انسانی بنیادوں پر فراہم کی جانے والی امداد کا مرکزی داخلہ راستہ ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا