کالعدم لشکر طیبہ کے کمانڈر ذکی الرحمٰن لکھوی کو پندرہ سال قید

لاہور میں انسداد دہشت گردی کی عدالت نے ان کی سزا کے وارنٹ اڈیالہ جیل بھجوا دیے تاکہ سزا پر فوری عمل درآمد شروع ہوسکے۔

ذکی الرحمٰن لکھوی کو کالعدم تنظیم جماعت الدعوۃ کے امیر حافظ سعید کا قریبی ساتھی سمجھا جاتا ہے(ٹوئٹر)

لاہور میں انسداد دہشت گردی کی ایک عدالت نے جمعے کو کالعدم تنظیم لشکر طیبہ کے کمانڈر ذکی الرحمٰن لکھوی کو 15 سال قید اور تین لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنا دی۔

جج اعجاز احمد بٹر نے مقدمے کا ٹرائل مکمل ہونے پر انسداد دہشت گردی ایکٹ 1997 کے تحت لکھوی کو دفعہ 11ایچ(2) اور 11این کے تحت پانچ سال قید اور ایک لاکھ روپے جرمانہ، زیر دفعہ 11آئی(2) اور 11این کے تحت بھی پانچ سال قید اور ایک لاکھ روپے جرمانہ، اسی طرح دفعہ11جے (2)کے ساتھ 11این کے تحت بھی پانچ سال قید اور ایک لاکھ روپے جرمانےکی سزا سنائی۔

یہ سزائیں ایک ہی وقت میں شروع ہوں گی۔ عدالتی حکم کے مطابق جرمانہ ادا نہ کرنے کی صورت میں 18 ماہ قید مزید کاٹنا ہوگی۔ لکھوی کے خلاف مقدمہ محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ڈی) پنجاب نے سات دسمبر، 2020 کو درج کیاتھا، جس میں ان پر دہشت گردی کی معاونت کے لیے غیر قانونی چندہ جمع کرنے اور دہشت گروں کی مالی مدد کرنے کا الزام لگا تھا۔

سی ٹی ڈی نے انہیں دو جنوری کو گرفتار کیا تھا۔ ترجمان سی ٹی ڈی کے مطابق انہیں خفیہ معلومات کی بنیاد پر ایک ٹارگٹ آپریشن کے دوران گرفتار کیا گیا۔

عدالت نے لکھوی کے ساتھی ملزم ابو انس محسن کو بھی فوری گرفتار کرنے کا حکم دیتے ہوئے قرار دیا کہ ملزم کے خلاف قابل سزا شواہد موجود ہیں لہٰذا انہیں گرفتار کیا جائے یا پھر اشتہاری قرار دلوایا جائے۔ عدالت نے ملزم کی سزا کے وارنٹ سپرٹینڈنٹ اڈیالہ جیل کو بھجوا دیے ہیں تاکہ سزا پر فوری عمل درآمد شروع ہوسکے۔

عدالت نے فیصلے میں یہ بھی کہا کہ لکھوی اپنے ساتھی انس کی مدد سے پاکتپن میں ابو حریرہ نامی ڈسپنسری کی آڑ میں چندہ جمع کر کے دہشت گردوں کی مالی معاونت کرتے تھے۔ عدالت کے مطابق اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل اور حکومت پاکستان نے لکھوی پر چندہ جمع کرنے پر پابندی عائد کر رکھی تھی۔

ذکی الرحمٰن کون ہیں؟

کالعدم تنظیم لشکر طیبہ کے مرکزی رہنما ذکی الرحمٰن لکھوی پنجاب کے ضلع اوکاڑہ میں 1960میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی مذہبی تعلیم بھی وہیں مدرسہ سے حاصل کی اس کے بعد وہ لاہور آگئے۔ ذکی الرحمان لکھوی کو کالعدم تنظیم جماعت الدعوۃ کے امیر حافظ سعید کا قریبی ساتھی سمجھا جاتا ہے اور وہ کالعدم تنظیم لشکرطیبہ کے کمانڈر ہیں۔

انہوں نے بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں لڑائی کے موقعے پر بھی حافظ سعید کے ہمراہ حصہ لیا تھا۔ 2008 میں بھارت کے شہر بمبئی میں دہشت گردی کا واقعہ پیش آنے کے بعد بھارت نے حافظ سعید اور ذکی الرحمٰن لکھوی پر اس حملے کی منصوبہ بندی کا الزام بھی لگایا تھا۔ ان دونوں کو دیگر ساتھیوں سمیت نظر بند بھی رکھا گیا تھا جس کے بعد ذکی الرحمٰن کو گرفتار کر کے جیل منتقل کر دیا گیا۔

ان کی جانب سے انسداد دہشت گردی کی عدالت اسلام آباد میں درخواست ضمانت دائر کی گئی تھی جس پر سماعت کرتے ہوئے عدالت نے دسمبر 2014 میں ان کی ضمانت منظور کرتے ہوئے رہائی کا حکم دیا تھا۔

سماعت کے دوران عدالت کا کہنا تھا کہ سی آئی ڈی افسران کے بیانات میں بھی تضاد ہے۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ ذکی الرحمٰن لکھوی کی ٹیلی فونک آواز کو بھی شناخت نہیں کیا گیا، ملزم چھ سال سے جیل میں بند ہیں، پروسیکویشن کی غلطی کی سزا ملزم کو نہیں دی جاسکتی۔

اس سے قبل راولپنڈی کی انسدادِ دہشت گردی کی خصوصی عدالت  نے ملزم ذکی الرحمٰن لکھوی کی ضمانت منظور کرلی تھی تاہم بعد میں حکومت نے انہیں 16 ایم پی او کے تحت نظر بند کردیا۔ ذکی الرحمٰن لکھوی کی ضمانت کے معاملہ پر بھارت کا سخت ردِعمل سامنے آیا تھا اور بھارتی وزارت خارجہ نے پاکستانی حکومت سےان کے خلاف موثر کارروائی کا مطالبہ کیاگیاتھا۔

رہائی کے بعد ان کو ایک مرتبہ پھر گھر میں ہی نظربند کر دیا گیا تھا جس کے خلاف انہوں نے 2015 میں لاہور ہائی کورٹ سے رجوع کیا تھا۔ ہائی کورٹ نے پنجاب حکومت کو ہدایت کی کہ ذکی الرحمان لکھوی کی نظر بندی کے بارے میں تمام ریکارڈ اور حساس معلومات پیش کی جائیں۔

ذکی الرحمٰن لکھوی نے درخواست میں اپنی نظری بندی کو چیلنج کرتے ہوئے موقف اپنایا تھا کہ ریویو بورڈ کے احکامات کے بغیر کسی شہری کی چوتھی بار نظر بندی کا حکم نہیں دیا جا سکتا۔ ان کے وکیل نے بتایا کہ اُن کے موکل کی چوتھی بار نظر بندی کے احکامات جاری کیے گئے ہیں اور ریویو بورڈ سے بھی کوئی اجازت نہیں لی گئی ہے جس پر عدالت نے ان کی نظر بندی ختم کرنے کا حکم دیا تھا۔

ذکی الرحمٰن کی گرفتاری اور ایف اے ٹی ایف پر سوالات:

پاکستان کے دفاعی تجزیہ کار لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ امجد شعیب نے ذکی الرحمٰن کی گرفتاری کو بلاجواز قرار دیا۔

انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئےانہوں نے کہا کہ لکھوی کو بمبئی حملوں میں ملوث ہونے کے الزام میں پہلے بھی گرفتار کیا جاچکاہے لیکن شواہد نہ ملنے کی بنیاد پر وہ رہاہوگئے تھے۔ اب بھی انہیں بے بنیاد الزامات پر گرفتار کیا گیا ہے کیونکہ یہ کارروائیاں حکومت فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) کے مطالبے پر کر رہی ہے۔

امجد شعیب نے الزام لگایاکہ ایف اے ٹی ایف عالمی قوت کا آلہ کار ادارہ ہے جو سیاسی بنیادوں پر پاکستان کو گرے لسٹ سے بلیک لسٹ میں ڈالنے کی دھمکیاں دے کر بلیک میل کرتا ہے۔ انہوں نے کہاکہ ایف اے ٹی ایف بھارت کی شکایت پر پاکستان کو دبا کر رکھنا چاہتاہے کیوں کہ بغیر ثبوت اس طرح کے لوگوں کے خلاف کارروائیاں زیادتی ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ 'امریکہ نے دہشت گرد حملوں کے بعد مطلوب افراد کے خلاف ثبوتوں پر ایک کروڑ ڈالر انعام رکھاتھا لیکن ابھی تک ثبوت نہیں مل سکے۔ اگر ایف اے ٹی ایف غیر جانبدار اور غیر سیاسی فورم ہے تو بھارت کے خلاف بے شمار ثبوت ہونے کے باوجود کارروائی کیوں نہیں کرتا؟ بمبئی حملوں میں پاکستان کے ملوث ہونے کا کوئی ثبوت نہیں مل سکا، پٹھان کوٹ واقعہ کو پاکستان کی بدنامی کے لیے استعمال کرنا ثابت ہوگیا تو ان کا نام کیوں گرے یا بلیک لسٹ میں نہیں ڈالاگیا؟'

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

امجد شعیب نے کہا کہ منی لانڈرنگ اور غیر قانونی فنڈنگ سے متعلق پاکستانی حکومت کے اقدامات قابل ستائش ہیں وہ اگر کوئی مطالبہ نہ بھی کرے تو پاکستان کے لیے بہتر ہیں مگر اس طرح لوگوں کو گرفتار کرنا وہ بھی بے بنیاد الزامات اور بغیر ثبوت کے کسی طور درست نہیں۔

انہوں نے کہاکہ پاکستانی حکومت بھی ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ سے بلیک لسٹ میں جانے کے خوف سے کارروائیاں کر رہی ہے جب کہ مطالبہ کرنا چاہیے کہ ایف اے ٹی ایف اپنے غیر سیاسی ہونے کی حیثیت واضع کرے اور بلاوجہ کے مطالبات سے باز رہے۔

میجر جنرل (ریٹائرڈ)اعجاز ہارون نے ذکی الرحمٰن لکھوی کی گرفتاری سے متعلق کہا کہ منی لانڈرنگ یا غیر قانونی فنڈنگ میں ملوث تمام افراد کے خلاف بلا امتیاز کارروائی ہونی چاہیے، ملک میں جہادی تنظیموں کے نام پر فنڈز جمع کرنے کی کسی کو اجازت نہیں ہوسکتی۔

انہوں نے کہا 'لیکن یہ کارروائیاں بلا امتیاز ہونی چاہییں چاہے کوئی سیاسی جماعت ہو یا مذہبی جماعت یا کوئی انفرادی حیثیت میں منی لانڈرنگ یا غیر قانونی سرگرمیوں کے لیے فنڈز جمع کرے انہیں قانون کی گرفت میں لانا ضروری ہے۔'

انہوں نے کہا کہ برطانیہ جیسے ممالک کو بھی چاہیے کہ دوسرے ممالک میں منی لانڈرنگ کے ملزموں کو پناہ دینے کی بجائے ان کے خلاف کارروائی میں مدد کرے۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان