زمین پر زندگی کی بقا محض ’خوش قسمتی‘ کا نتیجہ ہے: سائنس دان

ایک نئی تحقیق میں سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ زمین جیسے سیاروں پر اربوں سالوں سے زندگی کی موجودگی اور بقا کا انحصار محض ’چانس‘ یعنی قسمت پر ہو سکتا ہے۔

زمین پر تین ارب سال سے زندگی موجود ہے (ناسا/ اے ایف پی)

نظام شمسی میں ہمارے سیارے زمین کے ایک طویل عرصے سے آباد رہنے اور یہاں زندگی قائم رہنے کی ایک سادہ سی وجہ ہے اور وہ ہے خوش قسمتی۔

برطانیہ کی یونیورسٹی آف ساؤتھ ہیمپٹن کے محققین کی تحقیق میں تصادفی طور پر ایک لاکھ سیاروں کا انتخاب کیا گیا اور ان کے موسمیاتی ارتقا کی سیمولیشن (نقل) بنائی۔

ہر سیارے کی سو مرتبہ سیمولیشن بنائی گئی اور اس میں ہر بار تصادفی طور پر موسم میں ردوبدل جیسے واقعات کا جائزہ لیا گیا تاکہ یہ دیکھا جا سکے کہ کیا یہاں بھی زندگی جاری رہ سکتی ہے جیسے زمین پر تین ارب سال سے ہے۔

ان ایک لاکھ سیاروں میں سے صرف نو فیصد (8700) پر کم از کم ایک بار ایسا ممکن دکھائی دیا لیکن ان میں سے بھی تقریباً تمام سیارے (آٹھ ہزار) زندگی کی بقا کے لیے سو میں سے 50 مرتبہ کم کامیاب تھے اور زیادہ تر (تقریباً 4500) سو میں سے صرف دس بار سے بھی کم کامیاب رہے۔

ارضیاتی نظام کی سائنس کے ماہر پروفیسر ٹوبی ٹرریل نے کہا کہ ’نیچر‘ کے جریدے ’کمیونیکشنس ارتھ اینڈ انروائرنمنٹ‘ میں شائع ہونے والے اس مطالعے کے نتائج سے معلوم ہوتا ہے کہ زمین جیسے سیاروں پر اربوں سالوں سے زندگی کی بقا کا انحصار محض ’چانس‘ (یعنی قسمت) پر ہو سکتا ہے۔

پروفیسر ٹرریل نے کہا: ’زمین پر ایک مستحکم اور رہائش کے قابل آب و ہوا کا دستیاب ہونا حیرت انگیز بات ہے۔ ہمارے ہمسایہ سیاروں زہرہ اور مریخ پر مناسب درجہ حرارت میسر نہیں ہے تاہم ایک بار مریخ پر ایسا ہوا تھا۔‘

ان کے بقول: ’کرہ ارض کا درجہ حرارت زندگی کی بقا کے لیے صرف آج ہی مناسب نہیں ہے بلکہ زمین نے تین سے چار ارب سالوں سے اسے ایسے ہی برقرار رکھا ہوا ہے۔ یہ ارضیاتی وقت کی ایک غیر معمولی مدت ہے۔‘

انہوں نے کہا کہ ’اب ہم یہ سمجھ سکتے ہیں کہ زمین طویل عرصے تک زندگی کے لیے موزوں رہی اور اس کی وجہ، کم از کم اس وقت تک، قسمت ہی ہے۔ 

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

بہت سارے دوسرے بڑے عوامل بھی ہو سکتے تھے جو زمین پر زندگی کے پھلنے اور پھولنے پر اثر انداز ہوتے جیسے کوئی اور زیادہ سیارچہ زمین سے ٹکرا جاتا یا کسی اور وقت میں ٹکراتا (بمقابل اس سیارچے کے جو 6.6 کروڑ سال قبل زمین سے ٹکرایا اور جو ڈائنوسارز کی معدومیت کا باعث بنا۔)

پروفیسر ٹرریل نے مزید کہا: ’اگر ایک ذہین مبصر ابتدائی دنوں میں، جب زمین پر زندگی کا ارتقا ہو رہا تھا، اگلے کئی ارب سالوں تک اس سیارے پر زندگی کی بقا کے امکانات کا حساب لگانے کے قابل ہوتا تو اس حساب کتاب میں پتہ چلتا کہ اس کے امکانات کم ہی ہیں۔‘

ان کم امکانات کا مطلب یہ ہے کہ کائنات میں کہیں بھی رہائش کے نا قابل ہونے والے ’زمین کے جڑواں‘ سیارے کے ملنے کے امکانات بھی بہت محدود ہوتے۔ ایک ایک چیز ہے جس کچھ ماہر فلکیات زیادہ پر دھیان دے رہے ہیں پر خاص طور پر اب جب انٹرسٹیلر مشنز میں اضافہ ہو رہا ہے۔

اگرچہ زمین کے جڑواں سیارے کا پتہ لگانا مشکل ہوسکتا ہے تاہم سائنس دانوں نے چاند کے کھوئے ہوئے جڑواں بھائی کو مریخ کے پیچھے چلتے دریافت کر لیا ہے۔

حال ہی میں سائنسدانوں کو ہمارے نظام شمسی سے باہر کسی سیارے سے آنے والے عجیب و غریب ریڈیو سگنل بھی ملے ہیں۔ یہ سگنلز ہمیں شمالی آسمان میں دکھائی دینے والے ستاروں کے نکشتر  Boötes سے موصول ہو رہے ہیں۔

اضافی رپورٹنگ ایجنسیز سے

© The Independent

زیادہ پڑھی جانے والی تحقیق