کے پی میں وزرا کی کرونا ایس او پیز کی خلاف ورزی: 'چراغ تلے اندھیرا'

صوبائی وزیر صحت تیمور سلیم جھگڑا، سپیکر قومی اسمبلی اور دیگر شرکا کی پشاور میں ایک تقریب میں فیس ماسک کے بغیر شرکت اور کرونا ایس او پیز نظر انداز کرنے پر سوشل میڈیا صارفین انہیں تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں۔

تقریب میں شریک وزیر صحت، سپیکر قومی اسمبلی  اور دیگر افراد بغیر ماسک پہنے سیلفیاں لیتے نظر آئے ( اسد قیصر آفیشل   فیس بک پیج)

خیبر پختونخوا پولیس کی جانب سے گذشتہ ہفتے سوات کی تحصیل مالم جبہ میں ایک ہوٹل میں طلبہ کے تفریحی پروگرام کے خلاف درج مقدمے میں کرونا (کورونا) وائرس ایس او پیز کی خلاف ورزی کی دفعات بھی شامل کی گئی تھیں، تاہم دوسری جانب جمعرات کو پشاور میں ایک پروگرام کے دوران وزیر صحت خیبر پختونخوا سمیت سپیکر قومی اسمبلی اور دیگر شرکا میں سے کسی نے بھی ماسک نہیں پہن رکھا تھا۔

صوبائی وزیر صحت تیمور سلیم جھگڑا کی ماسک کے بغیر تقریب میں شرکت کو سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے تنقید کا نشانہ بنایا جارہا ہے اور صارفین کا کہنا ہے کہ ایک طرف تو وزیر صحت عوام کو کرونا سے بچاؤ کے لیے احتیاطی تدابیر پرعمل کرنے کا کہتے ہیں لیکن دوسری جانب نہ وہ خود سماجی دوری کے اصول کو مدنظر رکھتے ہیں اور نہ ہی ماسک پہنتے ہیں۔

تیمور سلیم جھگڑا نے حال ہی میں اپوزیشن جماعتوں کے اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کے جلسوں میں کرونا ایس او پیز کی خلاف ورزی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا تھا کہ پشاور میں پی ڈی ایم کے جلسے میں ایس او پیز پر عمل نہ کرنے کی وجہ سے کرونا کیسز میں اضافہ ہوا۔

خیبر پختونخوا حکومت کی جانب سے کرونا سے بچاؤ کے لیے خصوصی ہدایات جاری کی گئی ہیں اور اس حوالے سے صوبائی حکومت نے اخبارات میں اشتہارات بھی دیا ہے، جس کے تحت صوبے کے تمام عوامی مقامات پر سیفٹی ماسک کا استعمال لازمی قرار دیا گیا ہے اور خلاف ورزی کی صورت میں نینشل ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی کی دفعہ 33 کے تحت قانونی کارروائی کی جائے گی۔

مالم جبہ  میں سیر و تفریح کے لیے جانے والے طلبہ کے خلاف درج مقدمے میں بھی اسی دفعہ کو استعمال کیا گیا ہے کہ انہوں نے ہوٹل کے اندر ماسک نہیں پہنا تھا۔

دوسری جانب سوشل میڈیا صارفین جس حکومتی تقریب کو نشانہ بنا رہے ہیں، وہ پشاور میں واقع جھگڑا ہاؤس میں سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کے اعزاز میں منعقد کی گئی تھی، جس میں صوبائی وزیر صحت تیمور سلیم جھگڑا، مشیر اطلاعات کامران خان بنگش سمیت قومی و صوبائی اسمبلی کے ارکان اور پاکستان تحریک انصاف کے کارکنان نے شرکت کی تھی۔

اس تقریب کی تصاویر سپیکر قومی اسمبلی کے آفیشل فیس بک پیج پر بھی شیئر کی گئیں، جن میں دیکھا جا سکتا ہے کہ رہنماؤں سمیت کسی کارکن نے ماسک نہیں پہنا ہوا اور نہ ہی سماجی فاصلے کا خیال رکھا گیا ہے۔

سوشل میڈیا پر انہی تصاویر کو شیئر کرکے خاص طور پر وزیر صحت تیمور سلیم جھگڑا پر تنقید کی جارہی ہے۔ ایک ٹوئٹر صارف ارشد آفریدی نے وزیر صحت کی تصویر شیئر کرتے ہوئے کہا ہے کہ 'یہ دہرا معیار ہے۔'

عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی ترجمان ثمر ہارون بلور نے ٹوئٹر پر طنز کرتے ہوئے لکھا: 'بہت اچھا لگ رہا ہے کہ تقریب میں ماسک پہنے گئے، سماجی فاصلہ برقرار رکھا گیا اور سینیٹا ئزرز کا استعمال کیا گیا ہے۔

ایک صارف رحمان اللہ ساگر نے لکھا کہ کرونا وائرس کا حکومتی پارٹی سے اتحاد ہو چکا ہے اور وہ صرف اپوزیشن جماعتوں کو ٹارگٹ کرتا ہے۔

پاکستان پیپلز پارٹی کی صوبائی سیکرٹری اطلاعات سینیٹر روبینہ خالد نے تیمور ظفر جھگڑا کی تصویر پر مختصر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا ہے: 'چراخ تلے اندھیرا۔'

اس حوالے سے جب وزیر صحت تیمور سلیم جھگڑا سے رابطہ کرکے ایس او پیز پر عمل نہ کرنے سے متعلق پوچھا گیا تو انہوں نے کوئی جواب نہیں دیا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

صحافی عبد القیوم آفریدی  کرونا کی ابتدا سے صوبے میں اس کی کوریج کر رہے ہیں۔ انہوں نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں ہے کہ صوبائی وزرا کی جانب سے کرونا ایس او پیز پر عمل نہیں کیا گیا بلکہ اس سے پہلے بھی سیاسی تقریبات منعقد کیے گئے ہیں، جن میں کسی قسم کی احتیاطی تدابیر پر عمل نہیں کیا جاتا۔

آفریدی نے بتایا: 'کرونا کو بعض لوگوں کی جانب سے سنجیدہ نہ لینے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ عوامی رہنماؤں کی جانب سے باتیں تو کی جاتی ہے تاہم خود  ان احتیاطی تدابیر پر عمل نہیں کیا جاتا تو پھر عوام بھی ان کو سنجیدہ نہیں لیتے۔'

ان کا مزید کہنا تھا: 'قانون سب کے لیے ایک ہونا چاہیے، اگر سوات میں طلبہ کی ایک تفریحی محفل پر ایس او پیز کی خلاف ورزی پر مقدمہ درج کیا جا سکتا ہے تو صوبائی وزرا کے خلاف بھی قانونی کارروائی کی جائے۔'

خیبر پختونخوا میں کرونا کیسز کی صورتحال

صوبے میں کرونا کے مجموعی کیسز کی تعداد 60 ہزار سے تجاوز کر گئی ہے جبکہ مجموعی طور اس وائرس سے 1710 اموات واقع ہوئی ہیں۔سرکاری اعداد و شمار کے مطابق صوبے میں مثبت کیسز کی شرح گزشتہ ہفتے کے مقابلے میں دوبارہ اوپر جا رہی ہے۔  پانچ جنوری کوصوبے میں 226 کیسز سامنے آئے ہیں جبکہ چھ جنوری کے یہ بڑھ کر 274 ہوگئے ہیں۔ اسی طرح آٹھ جنوری کو صوبے بھر میں 307 کیسز سامنے آئے ہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی ٹرینڈنگ