پشاور کے کرونا وارڈ میں ڈیوٹی دینے والے نرس کی کہانی

لیڈی ریڈنگ ہسپتال میں نرسز ٹیم لیڈر محمد سلمان کہتے ہیں کہ جب وبا آئی تو ہر شخص کو جان بچانے کی فکر تھی، لیکن ہسپتالوں کے طبی عملے میں ایسے بھی لوگ تھے جنہوں نے اپنی مرضی سے کرونا وارڈز میں ڈیوٹی دینے کی ہامی بھری۔

پاکستان میں کرونا (کورونا) وائرس کی وبا سے مجموعی طور پر اب تک دس ہزار سے زائد اموات واقع ہو چکی ہیں۔ ملک کے مختلف صوبوں میں مختلف عوامل کی وجہ سے اموات کی یہ تعداد کم یا زیادہ ہے، تاہم اگر صرف خیبر پختونخوا کی بات کی جائے تو اس صوبے میں کرونا سے اس رپورٹ کے فائل ہونے تک 1638 اموات ہو چکی ہیں۔

وبا کی اس صورت حال میں کرونا سے متاثرہ مریضوں کے علاج اور تیمارداری میں مصروف فرنٹ لائن ڈاکٹروں، نرسوں اور سٹاف کے دیگر افراد سے متعلق انڈپینڈنٹ اردو نے ایک ڈائری کا سلسلہ شروع کیا ہے تاکہ طبی عملے سے ان کی زبانی تازہ ترین اپڈیٹس کے ساتھ یہ بھی معلوم کیا جا سکے کہ وہ موجودہ وقت میں کن مسائل اور چیلنجز سے گزر رہے ہیں اور روزانہ کیا حالات دیکھتے ہیں۔

اس سلسلے میں سب سے پہلے خیبر پختونخوا کے بڑے سرکاری ہسپتال لیڈی ریڈنگ (ایل آر ایچ) میں نرسز ٹیم لیڈر محمد سلمان کی ڈائری پیش کی جارہی ہے، جس میں وہ انٹینسیو کیئر یونٹ (آئی سی یو) کے احوال پر روشنی ڈال رہے ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

محمد سلمان کرونا وبا کے آغاز سے ایل آر ایچ میں ڈیوٹی سرانجام دے رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ جب وبا آئی تو ہر شخص کو جان بچانے کی فکر تھی، لیکن ہسپتالوں کے طبی عملے میں ایسے بھی لوگ تھے جنہوں نے اپنی مرضی سے کرونا وارڈز میں ڈیوٹی دینے کی ہامی بھری۔

بقول سلمان: 'میں بھی ان ہی میں سے ایک ہوں اور تب سے مسلسل یہاں ڈیوٹی کر رہا ہوں۔اس دوران سٹاف کے آدھے سے زیادہ لوگ متاثر ہوئے۔ کچھ جان سے چلے گئے اور باقی صحت یاب ہو گئے۔'

نرس محمد سلمان نے بتایا کہ اگر کرونا کا کوئی مریض آئی سی یو میں ہو تو مریض کے گھر والے سخت خوفزدہ ہوجاتے ہیں اور انہیں لگتا ہے کہ وہ وہاں سے زندہ بچ کر نہیں جائیں گے، لیکن یہاں سے کئی مریض صحت یاب ہو کر گئے ہیں جبکہ بہت سوں کی اموات بھی ہوئیں۔ یہ مناظر ہمارے لیے کافی تکلیف دہ ہوتے ہیں۔'

زیادہ پڑھی جانے والی صحت