بوسنیا کی سرحد پہ ڈیرے ڈالے پاکستانی تارکین وطن

پاکستانی تارک وطن محمد عادل آفریدی کے مطابق ’میں چار کلو میٹر دور ایک چشمے میں نہانے جاتا ہوں۔ یہاں گرم پانی نہیں ہے۔ بجلی نہیں۔ سونے کے لیے کمرہ نہیں۔ بہت بری حالت ہے اس کیمپ میں۔‘

بوسنیا کی سرحد پر ڈیرے ڈالے ہوئے یہ غیر قانونی تارکین وطن یورپی یونین میں  داخل ہونے کے منتظر ہیں۔

پاکستانی تارک وطن طارق اعوان کہتے ہیں ’کروشیا اور سلووینیا سے میری التجا ہے کہ مہربانی کر کے مجھے اور ان تارکین وطن کو ایک موقع دے دو تاکہ یہ اٹلی جا سکیں۔ بوسنیا میں زندگی خطرے سے دوچار ہے۔ یہ لوگ بوسنیا میں بہت بری حالت میں ہیں۔‘

بے سروسامانی کا شکار تیرہ سو سے زائد تارکین وطن میں سے بیشتر کا تعلق پاکستان اور افغانستان سے ہے۔ دو ہفتے قبل ان کی عارضی رہائشگاہیں آتشزدگی کی نذر ہو گئی تھیں۔ بوسنیا کی پولیس نے پناہ گزینوں پر ہی شبہ ظاہر کیا ہے کہ انہوں نے بطور احتجاج یہ آگ لگائی۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

خان، پاکستانی تارک وطن جو اس وقت بوسنیا میں ہیں ان کا کہنا تھا ’میرا گھر جل گیا۔ یہ کیمپ میرا گھر ہے۔ میں کہیں اور نہیں جا سکتا۔ ساری رہائش جل گئی۔ ہمارے پاس کوئی سہولت نہیں۔ میں واش روم میں سوتا ہوں۔ بہت سے لوگ بیمار ہیں۔ کوئی دوائیں نہیں۔ کوئی ڈاکٹر نہیں۔ کوئی سہولت نہیں۔ ‘

ایک اور پاکستانی تارک وطن محمد عادل آفریدی کے مطابق ’میں چار کلو میٹر دور ایک چشمے میں نہانے جاتا ہوں۔ یہاں گرم پانی نہیں ہے۔ بجلی نہیں۔ سونے کے لیے کمرہ نہیں۔ بہت بری حالت ہے اس کیمپ میں۔‘

برے حالات کے باوجود بوسنیا سمیت مغربی بلقان ممالک کے راستے یورپی یونین کا رخ کرنے والے تارکین وطن کی تعداد میں تعداد میں گذشتہ سال 75 فیصد اضافہ ہوا۔

 

زیادہ پڑھی جانے والی ملٹی میڈیا