کرونا ویکسین پاکستان آ رہی ہے مگر پہلے کس کو لگے گی؟

ویکسین لگانے کا پہلا مرحلہ جنوری کے آخر میں شروع ہو جائے گا مگر حکومت ابھی تک یہ طے نہیں کر پائی کہ کس ملک سے ویکسین لی جائے گی۔

پاکستان میں پہلے ہی سے دو چینی کمپنیاں ویکسین کے ٹرائل کر رہی ہیں۔ (فائل فوٹو: اے ایف پی)

قومی صحت کے ادارے این آئی ایچ کے مطابق پاکستان میں کرونا وائرس کے خلاف ویکسینیشن کا عمل جنوری کے آخری ہفتے سے شروع کیا جائے گا۔

کرونا وائرس ویکسین سرکاری سطح پر مفت لگائی جائے گی اور صحت سے منسلک تمام عملے کو پہلے مرحلے اور 60 سال سے زائد عمر کے بزرگ شہریوں کو ترجیحی بنیادوں پر دوسرے مرحلے میں ویکسین لگائی جائے گی۔

ڈاکٹر فیصل سلطان نے پیر کے روز ہیلتھ  کی کمیٹی کے بعد میڈیا سے گفتگو میں بتایا کہ تین چار روز میں حتمی طور پہ طے کر لیا جائے گا کہ کرونا ویکسین کس کمپنی سے لی جائے گی۔

انہوں نے مزید بتایا کہ چار پانچ کمپنیوں سے بات چیت چل رہی ہے اور پاکستان کی کوشش یہی ہے کہ ویکسین کے لیے دو تین آپشنز موجود ہوں تاکہ پوری آبادی تک ویکسین پہنچ سکے۔ جب اُن سے پوچھا گیا کہ کون سی ویکسین کے لیے بات چیت کی جا رہی تو انہوں نے واضح جواب نہیں دیا تاہم یہ ضرور کہا کہ ’چین اور مغربی ممالک سے بات کی جا رہی ہے۔‘

کرونا وائرس ویکسین کے حوالے سے پمز ہسپتال سے فوکل پرسن ڈپٹی ڈائریکٹر ڈاکٹر ارم نوید نے انڈپینڈنٹ اردو کو تفصیل سے بتایا کہ پمز سمیت تمام سرکاری ہسپتالوں میں نرسوں، ہیلتھ ورکروں اور دیگر عملے کو کرونا وائرس ویکسین لگانے کی تربیت دے دی گئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ صحت سے منسلک زیادہ تر عملہ ویکسین کے لیے رجسٹر ہو چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہر ہسپتال کا عملہ جس میں ڈاکٹر، نرسیں، صفائی کا عملہ، ڈرائیور اور گارڈز شامل ہیں، انہیں متعلقہ ہسپتال میں ویکسین لگائی جائے گی۔

ڈاکٹر ارم نے بتایا کہ اسلام آباد کے نواحی علاقے ترلائی میں بھی ویکسین سینٹر بنایا گیا ہے وہاں موجود ہیلتھ سینٹر میں ویکسین کے لیے جگہ مختص کی گئی ہے۔ پورے اسلام آباد میں سرکاری ہسپتالوں سمیت آٹھ نو مقامات کرونا ویکسن کے لیےمختص کیے گئے ہیں کولڈ سٹوریج کا انتظام بھی کیا گیا ہے۔ تاہم انہوں نے ویکسین مقامات کی نشاندہی نہیں کی۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ڈاکٹر ارم نے تصدیق کی کہ ویکسین لگانے کا پہلا مرحلہ جنوری کے آخر میں شروع ہو جائے گا، اور اس سے پہلے جو ویکسین فائنل ہو گی وہ پاکستان پہنچ جائے گی۔

انہوں نے بتایا کہ ویکسین کا دوسرا مرحلہ جس میں 60 سال سے زائد افراد کو ویکسین لگائی جائے گی، وہ رواں برس مارچ میں شروع ہو گا۔

جب ڈاکٹر ارم سے پوچھا گیا کہ 60 برس سے زائد افراد بھی کیا آن لائن رجسٹریشن کروائیں گے اور انہیں ویکسین  پولیو قطروں کی طرز پہ گھروں پہ لگائی جائی گی؟ اس سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ 60 برس سے زائد افراد کی تعداد کافی زیادہ ہے آن لائن رجسٹریشن اور پھر گھروں میں جا کر ویکسین لگانا ممکن نہیں ہو گا، اس کے علاوہ اس عمل میں بہت وقت لگ جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ مارچ میں جب دوسرا مرحلہ شروع ہو گا تو 60 برس سے زائد عمر کے افراد اپنا قومی شناختی کارڈ لے کر ویکسین سینٹر آئیں گے اور وہیں پہ آ کر رجسٹر ہوں اور اسی وقت انہیں ویکسین بھی لگا دی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ ویکسین سینٹر میں کمپیوٹر سسٹم نادرا سے منسلک ہو گا جہاں تمام ریکارڈ ان کے شناختی کارڈ نمبر کے ساتھ محفوظ ہو جائے گا۔

ویکسین کا تیسرا مرحلہ کب شروع ہو گا؟ اس سوال کے جواب میں انہوں بتایا کہ تیسرے مرحلے کی تاریخ ابھی حتمی نہیں ہے لیکن دوسرا مرحلہ مکمل ہوتے ہی تیسرے اور حتمی مرحلے کا آغاز ہو گا جس میں سب کو ویکسین لگائی جائے گی۔ سرکاری سطح پر رجسٹریشن کے ساتھ ویکسین مفت ہو گی۔ لیکن جو اپنے تئیں پرائیویٹ ہسپتال سے ویکسین لگوائے گا تو اپنی فیس کا وہ خود مجاز ہو گا۔

مفت ویکسین لگوانے کے لیے رجسٹریشن ضروری ہے۔ حکومت پاکستان نے اس ضمن میں اشتہار بھی شائع کیا ہے جس کے مطابق سرکاری سطح پر مفت ویکسین لگوانے کے لیے پہلے رجسٹریشن کروانا ہو گی۔ این سی او سی کی ویب سائٹ اس سے متعلق طریقہ کار بتایا گیا ہے کہ رجسٹریشن کیسے کروانی ہے۔

فرنٹ ہیلتھ کئیر ورکر میں کون کون شامل ہے:

  1. کرونا وائرس وارڈز میں کام کرنے کرنے واے ڈاکٹر، نرسیں، صفائی کے عملے کے علاوہ ہر طرح کا عملہ جوکرونا وارڈ میں کام کرتے ہیں
  2. ہیلتھ سٹاف یا لیبارٹری سٹاف جو کوارنٹین سینٹر میں کام کرتے ہیں یا گھروں سے کرونا ٹیسٹ نمونےحاصل کرتے ہیں
  3. ویکسین لگانے پر جو عملہ لگایا جائے گا اُسے بھی پہلے ویکسین دے کر مخفوظ کیا جائے گا۔
  4. ایدھی اور چیپا ریسکیو 1122 کا عملہ جو ایمرجنسی میں مریضوں کو لانے لے جانے کا کام کرتا ہے

رجسٹریشن کیسے ہو گی؟

صوبہ پنجاب سندھ اور خیبر پختونخوا میں سرکاری اور نجی ہسپتالوں اور لیبارٹریوں میں کام کرنے والا صحت کا تمام عملہ اپنےصوبے میں موجود محکمہ صحت سے رابطہ کر کے نام، فون نمبر اور شناختی کارڈ سے اپنی رجسٹریشن کروائے گا۔ جبکہ اسلام آباد، بلوچستان، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کا صحت کا عملہ متعلقہ محکمہ صحت کے زریعےریسورس مینجمنٹ سسٹم میں رجسٹر ہو گا۔

زیادہ پڑھی جانے والی صحت