'پرانے سیاست دان اسمبلیوں میں نوجوانوں کی نمائندگی کے قائل نہیں'

شہیرہ جلیل نے پاکستان کے سینیٹ، قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلیوں میں نوجوانوں کی نمائندگی کے لیے چار نکاتی تحریک شروع کی ہے۔

شہیرہ جلیل ایک سالہ فل برائٹ سکالرشپ پروگرام مکمل کر کے پاکستانواپس آئی ہیں

پاکستان کی قومی و صوبائی اسمبلیوں اور سینیٹ میں نوجوانوں کی نمائندگی کے لیے سرگرم شہیرہ جلیل الباسط ’سیاست دانوں کی غیر دلچسپی‘ کے باوجود اپنے چار نکاتی پروگرام کے حوالے سے پرعزم ہیں۔

امریکی جامعات میں تدریس اور تحقیق کے لیے معاونت فراہم والا ایک سالہ فل برائٹ سکالرشپ پروگرام مکمل کر کے وطن واپس آنے والی شہیرہ جلیل الباسط نے پاکستان کے سینیٹ، قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلیوں میں نوجوانوں کی نمائندگی کے لیے ایک تحریک کا آغاز کیا ہے۔

شہیرہ نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں بتایا کہ 35 سال سے کم عمر لوگ نوجوان تصور کیے جاتے ہیں اور پاکستان میں نوجوانوں کی اکثریت کے باجود ان کو ایوانوں میں نمائندگی نہیں دی جاتی، اس لیے وہ چار نکاتی تحریک چلا رہی ہیں۔  

شہیرہ مئی 2018 میں امریکی ریاست ٹیکساس کے سانٹافے ہائی سکول میں فائرنگ سے اپنی کزن سبیکا شیخ کی ہلاکت کے بعد واشنگٹن ڈی سی میں ایک گن سیفٹی آرگنائزیشن ’سٹوڈنٹ ڈیمانڈ ایکشن‘ مہم میں بھی حصہ لے چکی ہیں۔  

انہوں نے سرکاری اعداد و شمار کے حوالے سے بتایا کہ ملک کی 64 فیصد آبادی نوجوانوں پر مشتمل ہے مگر اس کے باوجود سیاسی پارٹیاں نوجوانوں کو ایوانوں میں نہیں لے جاتیں۔

 

’وفاقی کابینہ کے 26 ارکان میں صرف دو ارکان 35 سال سے کم عمر ہیں، اسی طرح پنجاب کی صوبائی کابینہ کے 36 ارکان میں سے دو، سندھ اور خیبر پختونخوا کابینہ میں ایک، ایک اور بلوچستان اسمبلی میں کابینہ کا کوئی بھی رکن نوجوان نہیں۔‘  

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ان کے چار نکات کے مطابق ہر سیاسی پارٹی پر لازم ہونا چاہیے کہ وہ الیکشن کے دوران 30 فیصد ٹکٹ 35 سال سے کم عمر امیدواروں کو دیں، نوجوانوں کی الیکشن مہم پر آنے والا خرچہ بھی سیاسی پارٹیاں اٹھائیں، جب نوجوان ایوانوں میں آجائیں تو کابینہ اور پارٹی اپنی ایگزیٹیو کمیٹی میں بھی انھیں 30 فیصد کوٹہ دے اور وہ نوجوان جن کو سماجی اور معاشی طور پر پیچھے دھکیلا گیا، انھیں زیادہ مواقع دیے جائیں۔ 

شہیرہ اپنا پروگرام لے کر کئی ارکان قومی اسمبلی اور سینیٹ سے ملاقات کرچکی ہیں۔ مگر انہوں نے کہا کہ ’ان ارکان نے کوئی خاص دلچسپی نہیں دکھائی لیکن وہ پھر بھی اپنی مہم جاری رکھیں گی۔‘ 

زیادہ پڑھی جانے والی نئی نسل