افواہیں دل لگی نہیں، جان لیوا ثابت ہو سکتی ہیں

کوئی کہے گا کہ بھئی کیا ہوا اگر ایک آدھ افواہ پھیلا دی، تھوڑا شغل ہی لگتا ہے، کسی کا کیا جاتا ہے۔ یہ بات بالکل غلط ہے، بےبنیاد افواہیں ان گنت لوگوں کو ہلاک یا شدید بیمار بنا سکتی ہیں۔

اس وقت دنیا دو قسم کے لوگوں میں تقسیم ہے، ایک وہ جو انسانیت کو بچانے کی کوششوں میں اپنے شب و روز قربان کررہے ہیں اور ایک وہ لوگ جو انسانیت کو گمراہ کرنے کے کام میں لگے ہوئے ہیں۔(تصویر: پکسابے)

ایک وبا تو کرونا (کورونا) کی ہے جس نے دنیا کو لپیٹ میں لیا ہوا ہے، لیکن ایک اور وبا بھی ہے جس کا زور کرونا کی وبا سے کم خطرناک نہیں، اور وہ ہے افواہوں اور سازشی نظریوں کی وبا۔

بہرحال اب کرونا وائرس کی مختلف ویکسینیں بھی مارکیٹ میں آ چکی ہیں اور کروڑوں لوگوں کو لگ بھی چکی ہیں۔ دنیا کے ذہین سائنسدان انسانیت کو بچانے کے اپنے کام پر مامور ہیں اور اس کے لیے ہر ممکن کوشش کررہے ہیں۔

ان کے مدمقابل ایک اور تخلیقی اور ذہین مخلوق ہے جو آئے دن کوئی نہ کوئی شوشہ مارکیٹ میں پھینک دیتی ہے اور بندہ سوچتا رہتا ہے کہ ان کے ذہن میں یہ بات آئی کیسے؟

گویا یہ کہنا بھی غلط نہ ہوگا کہ اس وقت دنیا دو قسم کے لوگوں میں تقسیم ہے، ایک وہ جو انسانیت کو بچانے کی کوششوں میں اپنے شب و روز قربان کررہے ہیں اور ایک وہ لوگ جو انسانیت کو گمراہ کرنے کے کام میں لگے ہوئے ہیں۔

مثلاً ایک سابق سینیٹر نے سینکڑوں کے مجمعے میں یہ دعویٰ کیا کہ یہ ویکسین دجال کا منصوبہ ہے۔ اس کے لگتے ہی محرم رشتوں کی تمیز بھی ختم ہو جائے گی اور بالآخر منصوبہ ہوگا گریٹر اسرائیل کی تکمیل کا۔

ایک خودساختہ دفاعی تجزیہ کار مزید انوکھی بات لائے۔ اب انہیں لگتا ہے کہ ویکسین جس بھی خاتون کو لگی وہ بچے پیدا کرنے کی صلاحیت سے محروم ہو جائے گی۔

اس کے علاوہ بہت سے ایسے عظیم لوگ آج بھی پائے جاتے ہیں جو کرونا وبا کو سرے سے تسلیم ہی نہیں کرتے اور اسے ایک ڈراما قرار دیتے ہیں۔

کوئی کہے گا کہ بھئی کیا ہوا اگر ایک آدھ افواہ پھیلا دی، تھوڑا شغل ہی لگتا ہے، کسی کا کیا جاتا ہے۔ یہ بات بالکل غلط ہے، بےبنیاد افواہیں ان گنت لوگوں کو ہلاک یا شدید بیمار بنا سکتی ہیں۔

اس کی مثال پولیو ہے۔ پاکستان میں پولیو ویکسین کا آغاز 1994 میں ہوا۔ 26 سال گزر گئے لیکن آج تک پاکستان پولیو کے خاتمے کا ہدف حاصل کرنے میں ناکام ہے۔ دنیا کے صرف دو ممالک پاکستان اور افغانستان ہیں، جہاں آج بھی پولیو وائرس موجود ہے۔ اس کی وجہ صرف اور صرف افواہیں ہیں۔ کسی من چلے نے گھر بیٹھے بیٹھے جھوٹی افواہ گھڑ لی کہ پولیو کے قطرے پینے سے بچے بانجھ ہو جاتے ہیں، اس کا نتیجہ کیا نکلا کہ والدین نے بچوں کو یہ ویکسین پلانے سے انکار کر دیا اور اس کے نتیجے میں سینکڑوں بلکہ ہزاروں بچے دائمی معذوری کا شکار ہو گئے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اس بات کا کوئی ثبوت نہیں، کوئی شواہد نہیں، لیکن آج تک پولیو کے قطرے مسلمان بچوں میں بیماری پھیلانے کا منصوبہ، بانجھ بنانے کا منصوبہ اور ذہنی نشو و نما کے خلاف سازش بتائے جاتے ہیں۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ مذہبی رہنماؤں نے اپنا کردار وقت پر بخوبی ادا نہ کیا، جس کی وجہ سے منبر سے پولیو کے خلاف آگہی پھیلانے کی بجائے پولیو ویکسین یا قطروں کے خلاف گمراہ کن خطبات دیے جاتے رہے، حتیٰ کہ اب یہ نوبت آ گئی کہ مسلم ممالک بھی پولیو سرٹیفیکیٹ کے بغیر آپ کو سفر کی اجازت دینے سے قاصر ہیں۔

دوسری طرف اس سوال کا جواب کوئی نہیں دیتا کہ کئی عشروں سے پاکستان سمیت تمام مسلم ممالک میں پولیو کے قطرے بار بار پینے کے باوجود ان ملکوں کی آبادی میں سب سے زیادہ اضافہ کیوں ہو رہا ہے؟

اسی طرح کرونا کے بارے میں بے سروپا افواہوں کا نتیجہ یہ نکلتا ہے اور آگے چل کر مزید نکلے گا کہ لوگ مناسب احتیاط نہیں کرتے، ماسک نہیں پہنتے، سماجی فاصلہ نہیں رکھتے اور یوں موت کے منہ میں چلے جاِتے ہیں۔

اگر یہ کہا جائے کہ ان کے قاتل وہ لوگ ہیں جو جھوٹی افواہیں پھیلاتے ہیں تو ہرگز غلط نہ ہو گا۔

یہ بھی عین ممکن ہے کہ جب ہمارے ملک میں کرونا کی ویکسین آ جائے تو وہمی لوگ افواہوں پر یقین کرکے ویکسین نہ لگوائیں اور یوں نہ صرف خود کو بلکہ پورے معاشرے کو خطرے سے دوچار کر دیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی بلاگ