چینی کمپنی کی آئس کریم میں کرونا وائرس کی تصدیق

یونیورسٹی آف لیڈز سے وابستہ وائرولوجسٹ ڈاکٹر سٹیفن گریفن  کے مطابق: 'یہ شاید ایک منفرد واقعہ تھا جس کے بارے میں امکان ہے کہ یہ کسی ایک شخص سے ہوا ہے۔'

کئی لوگوں کا خیال ہے کہ انہوں نے ’تیانجن داچیاؤ داؤ فوڈ کمپنی‘ کی تیار کردہ متاثرہ آئس کریم کو استعمال کیا ہے (فائل تصویر: اے ایف پی)

شمالی چین میں آئس کریم کے نمونوں میں کرونا (کورونا) وائرس کی موجودگی کا انکشاف ہوا ہے جس کے بعد حکام نے وائرس سے ممکنہ طور پر متاثرہ ہزاروں مصنوعات ضبط کر لی ہیں۔

کئی لوگوں کا خیال ہے کہ انہوں نے ’تیانجن داچیاؤ داؤ فوڈ کمپنی‘ کی تیار کردہ متاثرہ آئس کریم کو استعمال کیا ہے جس کے بعد اب شمالی تیانجن میں حکام ان افراد کا سراغ لگا رہے ہیں۔

’تیانجن داچیاؤ داؤ فوڈ کمپنی‘ کی تمام مصنوعات کو اس وقت سیل کردیا گیا، جب کمپنی نے رواں ہفتے میونسپل سینٹر کو آئس کریم کے تین نمونے بھیجے تھے اور ان میں کووڈ 19 کے تمام ٹیسٹ مثبت آئے تھے۔

وبائی امور کی تحقیقات سے ظاہر ہوتا ہے کہ کمپنی نے آئس کریم کے بیچ کو جس خام مال کا استعمال کرتے ہوئے تیار کیا تھا اس میں نیوزی لینڈ سے درآمد شدہ دودھ پاؤڈر اور یوکرین سے درآمد کردہ دہی پاؤڈر شامل ہیں۔

آئس کریم کمپنی نے تصدیق کی ہے کہ جمعرات کی دوپہر 2 بجے تک  اس کے 16 سو 62 ملازمین میں نیوکلک ایسڈ کی جانچ کے لیے انہیں قرنطینہ میں رکھا گیا۔ ان ملازمین میں سے 700 کا کرونا ٹیسٹ منفی آیا ہے جبکہ باقی 962 ملازمین کے نتائج کی تصدیق ہونا باقی ہے۔

یونیورسٹی آف لیڈز سے وابستہ وائرولوجسٹ ڈاکٹر سٹیفن گریفن نے کہا کہ اس واقعے سے خوفزدہ  نہیں ہونا چاہیے۔ یہ شاید ایک منفرد واقعہ تھا جس کے بارے میں امکان ہے کہ یہ کسی ایک شخص سے ہوا ہے۔

انہوں نے ’سکائی نیوز‘ کو بتایا: ’ہمیں شاید گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے کہ اچانک تمام آئس کریم کی بائٹس کرونا وائرس سے متاثر ہو گئی ہیں۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ڈاکٹر سٹیفن نے مزید کہا کہ ’امکانات یہ ہیں کہ یہ پروڈکشن پلانٹ میں کسی مسئلے کا نتیجہ ہے اور ممکنہ طور پر اس کا تعلق فیکٹری میں حفظان صحت سے ہے۔‘

انہوں نے آئس کریم پر وائرس کے زندہ رہنے کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ آئس کریم کو جمانے کے لیے کم درجہ حرارت اور اس میں موجود چکنائی اس کی وجہ ہو سکتی ہے۔

تیانجن میں وبائی امراض کے حکام نے بتایا کہ فوڈ کمپنی کے چار ہزار 836 متاثرہ باکسز میں سے دو ہزار 89 کو سٹوریج میں کامیابی کے ساتھ سیل کردیا گیا ہے۔

مارکیٹوں میں بھیجے گئے آئس کریم کے دو ہزار 747 باکسز میں سے مثبت ٹیسٹ کے نتیجے کے وقت محض 935 باکسز ہی تیانجن کے بازاروں میں موجود تھے اور ان میں سے بھی صرف 65 باکسز ہی فروخت ہو پائے تھے۔

شہر کے حکام نے ان صوبوں کے ریگولیشن حکام سے رابطہ کیا ہے جہاں آئس کریم پہلے ہی بھجوا دی گئی تھی لہذا ان کا بخوبی پتہ لگایا جاسکتا ہے۔

دوسری جانب تیانجن میں حکام نے پروڈکشن پلانٹ کو جراثیم کش سپرے سے ڈس انفیکٹ کر دیا ہے اور مقامی افراد کو ہدایت کی ہے کہ جنہوں نے آئس کریم خریدی ہو وہ اپنی کمیونٹیز کے متعلقہ طبی اداروں کو اس کی رپورٹ کریں۔

© The Independent

زیادہ پڑھی جانے والی صحت