مجھے فخر ہے کہ میں نے کوئی نئی جنگ شروع نہیں کی: صدر ٹرمپ

منگل کو صدارت کے آخری روز اپنے الودعی خطاب میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ انہوں نے اپنے دور اقتدار میں کوئی جنگ شروع نہیں کی اور اس پر انہیں فخر ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے الوداعی خطاب میں اپنی مدت صدارت پر فخر کا اظہار کرتے ہوئے نئی امریکی انتظامیہ کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا ہے۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق منگل کو وائٹ ہاؤس سے جاری ہونے والے ایک ویڈیو پیغام میں صدر ٹرمپ نے اپنی کامیابیوں پر فخر کیا اور نئی انتظامیہ کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا مگر آنے والے صدر جو بائیڈن کا نام لینے سے گریز کیا۔ 

یاد رہے کہ الیکٹورل کالج کے ووٹس میں جو بائیڈن نے 306 جبکہ صدر ٹرمپ نے 232 ووٹ حاصل کیے تھے۔ جبکہ اس کے باوجود صدر ٹرمپ جو بائیڈن کی فتح کو تسلیم کرنے سے انکار کر چکے ہیں۔

بیس جنوری یعنی آج بدھ کو نو منتخب امریکی صدر جو بائیڈن اپنے عہدے کا حلف اٹھائیں گے لیکن صدر ٹرمپ نے روایت کے خلاف ان سے ملنے اور ان کی حلف برداری کی تقریب میں شرکت سے انکار کر دیا ہے۔ بلکہ وہ اس کے بجائے فلوریڈا جانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

اپنی تقریر میں ان کا کہنا تھا: ’اس ہفتے ہم ایک نئی انتظامیہ کا آغاز کریں گے اور دعا کریں گے وہ امریکہ کو محفوظ اور خوش حال رکھے۔ ہم ان کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کرتے ہیں اور یہ کہ وہ خوش قسمت رہیں۔ جو کہ بہت ضروری لفظ ہے۔ ‘

صدر ٹرمپ نے ’امریکہ کو ایک بار پھر عظیم بناؤ‘ کے نعرے کے تحت الیکشن  لڑا تھا لیکن ان کی صدارت کے دوران چار لاکھ سے زائد امریکی کرونا (کورونا) وائرس سے ہلاک ہو چکے ہیں جو کہ دنیا میں سب سے بڑی تعداد ہے۔

وہ کرونا کے خطرے کو کم تر بتاتے رہے۔ اس کے علاوہ امریکی معیشت کو بھی مشکلات کا سامنا ہے جبکہ اس کے اتحادیوں کے ساتھ اس کے تعلقات بھی کشیدہ رہے ہیں۔

صدر ٹرمپ کا کہنا تھا: ’سب سے بڑا خطرہ جس کا ہمیں سامنا ہے وہ اپنے آپ سے اعتماد کے ختم ہونے کا ہے اور ہماری قوم کی عظمت میں اعتماد کھو دینا ہے۔‘

صدر ٹرمپ کئی ماہ سے الیکشن میں دھاندلی ہونے کا دعویٰ کرتے رہے ہیں اور ان کی جانب سے حکام پر نتائج کو بدلنے کے لیے دباؤ ڈالا جاتا رہا تھا۔ چھ جنوری کو وائٹ ہاؤس کے قریب ہونے والے ایک ریلی میں انہوں نے اپنے حامیوں کو الیکشن کے توثیقی عمل کے دوران کانگریس تک جانے کی شہہ بھی دلائی تھی جس کے بعد حامیوں نے کیپیٹل ہل پر دھاوا بھول دیا تھا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)


صدر ٹرمپ اپنی صدارت کے آخری دنوں میں وائٹ ہاؤس تک محدود رہے ہیں۔ ان کے حامیوں کی جانب سے کیپیٹل ہل پر کی جانے والی چڑھائی میں پانچ افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ اس بلوے نے ان کی صدارت کے آخری دنوں میں اپنے دور صدارت کی کامیابیوں کے دعووں کو پس منظر میں دھکیل دیا ہے۔

کیپیٹل ہل بلوے کے بعد امریکی ایوان نمائندگان میں ان کے مواخذے کی کارروائی کی گئی جس کے بعد وہ امریکی تاریخ میں دو بار مواخذہ کیا جانے والے پہلے صدر بن گئے۔ انہیں عہدہ صدارت چھوڑنے کے بعد ان الزامات کا سامنا کرنا پڑے گا۔

منگل کو کی جانے والی تقریر نے صدر ٹرمپ نے ٹوئٹر کی جانب سے اپنے اکاؤنٹ کو معطل کرنے کے حوالے سے بات کرتے ہوئے اس واقعے کا ذکر کیے بغیر اپنی شکایت دہرائی کے کمپنی کی جانب سے آزادی اظہار کو روکا جا رہا ہے۔

ٹوئٹر نے ان کا اکاؤنٹ معطل کرنے کے بعد کہا تھا کہ ایسا اس کی جانب سے مزید تشدد کو بھڑکانے کے خدشے کی وجہ سے کیا گیا تھا۔

ان کا کہنا تھا: ’آزادی اظہار اور بحث کی آزادی کو بند کرنا ہماری بنیادی روایات کی خلاف ورزی ہے۔ ‘

اپنی تقریر میں صدر ٹرمپ نے اپنے عہدہ صدارت کی کامیابیوں پر فخر کا اظہار بھی کیا۔

 

ان کا کہنا تھا: ’ہم نے وہی کیا جو ہم یہاں کرنے آئے تھے اور اس کے علاوہ بہت کچھ۔ میں نے سب سے مشکل کام کیے اور مشکل راستا اپنایا کیونکہ آپ نے مجھے یہی کرنے کے لیے منتخب کیا تھا۔‘

انہوں نے مشرق وسطیٰ میں ہونے والے امن معاہدوں پر اپنی خارجہ پالیسی کی تعریف کی۔ ان کا کہنا تھا: ’ہم نے اپنے اتحاد کو مضبوط کرتے ہوئے چین کا سامنا کیا جیسا پہلے کبھی نہیں کیا گیا۔ میں کئی دہائیوں میں پہلا ایسا صدر ہونے پر فخر محسوس کرتا ہوں جس نے کوئی نئی جنگ نہیں شروع کی۔‘

صدر ٹرمپ نے کیپیٹل ہل بلوے کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا: ’تمام امریکی کیپیٹل پر ہونے والے حملے پر شدید صدمے میں ہیں۔ سیاسی تشدد ہر اس چیز پر حملہ ہے جسے ہم امریکی سمجھتے ہیں۔ یہ کبھی برداشت نہیں کیا جا سکتا۔‘

یاد رہے ان کی جانب سے اس بلوے کی مذمت کرتے ہوئے سست روی کا مظاہرہ کیا گیا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ ان کی تحریک جاری رہے گی۔ ’میں اب بدھ کو اختیارات نئی انتظامیہ کو سونپنے کو تیار ہوں۔ میں چاہتا ہوں کہ آپ جان لیں کہ جو تحریک ہم نے شروع کی وہ صرف آغآز ہے۔ میں اس عظیم مقام سے بھرپور وفا اور خوشی کے ساتھ رخصت ہو رہا ہوں اور اس یقین کے ساتھ کہ ہمارے ملک اور ہمارے بچوں کے لیے بہترین وقت آنا ابھی باقی ہے۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی امریکہ