’ صدر ٹرمپ آنے والے سالوں تک امریکہ کے لیے خطرہ ہوں گے‘

نومبر میں ساڑھے سات کروڑ امریکیوں نے ڈونلڈ ٹرمپ کو ووٹ دیا جس کا مطلب ہے کہ ان کے پاس بہت بڑی سیاسی طاقت ہے اور یہ اقتدار چھوڑنے کے بعد بھی طویل عرصے تک ان کے پاس رہے گی، اگر وہ اسے استعمال کرنا چاہیں۔

ہزاروں کی تعداد میں صدر ٹرمپ کے حامیوں نے کانگریس پر دھاوا بول دیا جس کے نتیجے میں چار ہلاکتیں بھی ہوئیں (اے ایف پی)

عام طور پر اس طرح کے واقعات کے بعد ہم زیادہ تر الفاظوں سے بھر جاتے ہیں۔ 

ہم ’مشتعل ہجوم‘ کی جانب سے امریکی کیپیٹل پر ہونے والے ’حملے‘ سے ’حیرت‘  اور ’صدمے‘ میں مبتلا ہیں۔ لوگ ’بغاوت‘ اور ’سرکشی‘ جیسے الزامات لگا رہے ہیں۔ وہ ڈونلڈ ٹرمپ کو اس کا ذمہ دار سمجھتے ہیں یا ایک ایسی انتظامیہ کے خلاف ’بغاوت‘ رچائی جا رہی ہے جو ابھی تک وجود میں بھی نہیں آئی۔ کیپیٹل کی سنگ مرمر کی سفید سڑھیاں اور بالکونیاں پھلانگنے والے بلوائیوں کے چہرے خوشی سے دمک رہے تھے، ان بالکونیوں سے نیشنل مال، واشنگٹن مانومنٹ اور اس کے بعد لنکن تک کا نظارہ کیا جا سکتا ہے۔

اس کے باوجود میں یہاں الفاظ کی بجائے تین نمبروں کا ذکر کروں گا جو شاید ڈونلڈ ٹرمپ کے باعث امریکہ کو آنے والے ہفتوں اور مہینوں میں پیش آنے والے خطرات کے بارے میں ایک اشارہ ہوں گے، جیسا کہ بہت سے لوگ بدھ کو چند گھنٹوں کے دوران پیش آنے والے خوفناک واقعات سے ڈرے ہوئے ہیں۔  

سب سے پہلے ساڑھے سات کروڑ امریکیوں کا اعداد و شمار ہے جنہوں نے صرف دو ماہ قبل ٹرمپ کو ووٹ دیا تھا۔

لوگوں نے مختلف وجوہات کی بنا پر صدر ٹرمپ کی حمایت کی اور انہیں ووٹ دیا تھا۔

ان میں کچھ ایسے دولت مند کاروباری افراد تھے جنہوں نے ان کی جانب سے ٹیکسوں میں کٹوتیوں سے فائدہ اٹھایا تھا، دوسرے ایسے سماجی قدامت پسند لوگ تھے جنہوں نے درست طور پر یہ حساب لگایا تھا کہ متعدد شادیاں کرنے والے، کیسینو چلانے میں ناکام رہنے والے اور خواتین پر جنسی حملوں کے بارے میں فخریہ بیان دینے والے ڈونلڈ ٹرمپ اسقاط حمل کی مخالفت اور ’مذہبی آزادی‘ کا بھر پور دفاع کریں گے۔

ٹرمپ کے دیگر حمایتی وہ لوگ ہیں جو سرحدوں کی حفاظت کرنے اور غیر ملکیوں کو باہر نکالنے کے ان کے تند و تیز بیانات کو پسند کرتے ہیں۔ ان کے بیشتر ووٹرز سفید فام افراد تھے لیکن 2020 کے انتخابات میں ہسپانوی امریکیوں نے بھی زیادہ تعداد میں انہیں ووٹ دیے۔

اور سیاہ فام برادری سے بھی ان کے کچھ حامی ہیں جنہوں نے شاید یہ فیصلہ کر لیا تھا کہ کچھ ڈیموکریٹس نے انہیں اہمیت نہیں دی کیوںکہ وہ انہیں اپنا ہی سمجھتے ہیں۔ (میڈیا کی زیادہ تر توجہ اپنی ثقافت کو خطرے میں سمجھنے والے سفید فام محنت کش طبقے یا حقوق سے محروم سفید فاموں کے ٹرمپ کی جانب رجحان پر مرکوز رہی ہے تاہم وہ دیگر نسلیں خاص طور پر سیاہ فام امریکی ہیں جو معاشی امتیاز کے باعث مصیبتوں کا شکار ہیں)۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ان کی مہم کے آغاز سے ہی پچھلے پانچ سالوں کے دوران ٹرمپ کے حامیوں سے بات کرتے ہوئے  ہمارا ہر طرح کے لوگوں سے واسطہ پڑا ہے، ان میں کچھ سمجھ دار لوگ تھے اور کچھ اس سے کم۔ بالکل اسی طرح جیسے کسی بھی سیاسی امیدوار کے ساتھ ہوتے ہیں۔

’دی انڈپینڈنٹ‘ سے بات کرتے ہوئے ٹرمپ کے تمام حمایتی ڈٹے رہے اور اصرار کرتے رہے کہ ٹرمپ یہ سب کچھ اپنے لیے نہیں بلکہ امریکہ کے لیے کر رہے ہیں۔

ٹرمپ کے حامیوں کی جانب سے سب سے زیادہ اور بار بار جو بات سنی گئی وہ یہ تھی: ’یہ شخص جن کا ذاتی جیٹ ہے، جن کی اہلیہ ایک ماڈل ہے اور جو انتہائی کامیاب زندگی گزار رہا ہو، وہ مواخذے اور میڈیا کی تنقید جیسی تمام پریشانیوں اور تکلیفوں کو کیوں برداشت کرتا ہے، کیا یہ سب کچھ اپنے ملک سے محبت کے لیے نہیں ہے؟‘

ٹرمپ کو ووٹ دینے والے ساڑھے سات کروڑ افراد میں سے کچھ لوگ بدھ کو ملک اور دنیا بھر میں نشر ہونے والے خوفناک مناظر پر حیران ضرور ہوں گے۔ اس کے باوجود میرا ان لوگوں سے ایک سوال ہے بلکہ حقیقت میں ہم سب کے لیے یہ ایک سوال ہے کہ کیا ہمیں واقعی یہ سب دیکھ کر حیرانی ہوئی ہے؟

ہم نے موسم بہار میں وہ مناظر بھی دیکھے جب مسلح سفید فام ملیشیا نے ٹرمپ کی طرف سے پارلیمان کی عمارت کو آزاد کروانے اور منتخب ڈیموکریٹک گورنر گریچین وہٹمر کی حکمرانی کو چیلنج کرنے کی اپیل کے جواب میں ریاست مشی گن کے دارالحکومت لانسنگ میں پارلیمان پر دھاوا بول دیا تھا۔

اور کیا وہ شخص، جسے انہوں نے نومبر میں ووٹ دیے تھے اور جس کا ماننا تھا کہ وہ جو بائیڈن سے صرف دھاندلی کی صورت میں ہی ہار سکتے ہیں، اس شخص سے کتنا مختلف ہے جس نے بدھ کی صبح ’سیو دا سٹیل‘ ریلی سے خطاب کیا تھا؟

ایک گھنٹہ تیرہ منٹ کی ان کی تقریر کو پورا پڑھیں تو اس کا اختتام ان جملوں پر ہوا: ’ہم پنسلوینیا ایونیو پر چلیںگے۔۔۔ ہم کیپیٹل جائیں گے اور ہم کوشش کریں گے اور دیں گے ۔۔۔  ڈیموکریٹس سے کچھ نہیں ہوتا، وہ کبھی بھی کسی چیز کے لیے ووٹ نہیں کرتے۔ لیکن ہم کوشش کریں گے اور اپنے ری پبلکن ارکان، جو کمزور ہیں انہیں، کیونکہ مضبوط لوگوں کو مدد کی ضرورت نہیں،  ہم کوشش کریں گے کہ انہیں وہ  فخر اور حوصلہ دیں جس کی انہیں ہمارا ملک واپس حاصل کرنے کے لیے ضرورت ہے۔‘

دوسرا نوٹ کرنے والا نمبر وہ 45 فیصد ری پبلیکنز ہیں جنہوں نے بظاہر کل ہونے والے اس واقعے کی حمایت کی جس کو جو بائیڈن نے ’آزادی کے گڑھ‘ پر حملہ قرار دیا تھا۔

 

YouGov کی جانب سے کیے گئے ایک سروے میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ 62 فیصد امریکیوں نے اس واقعے کو جمہوریت کے لیے خطرہ قرار دیا۔ اس کے باوجود 45 فیصد ری پبلکنز نے ’فعال طور پر‘ کیپیٹل پر حملے کی حمایت کی جبکہ 43 فیصد نے اس پر اعتراض کیا۔ پارٹی میں صرف 25 فیصد لوگوں نے اسے جمہوریت کے لیے خطرہ سمجھا، یہ اس بات کا اشارہ ہے کہ ٹرمپ کے انتخابی دھوکہ دہی کے بے بنیاد دعووں پر کتنے افراد یقین کرتے ہیں۔

تیسرا نمبر جس پر غور کرنا ہے وہ امریکی آئین کی 25 ویں ترمیم ہے۔ اس ترمیم صدر کے کام کرنے کے قابل نہ رہنے کی صورت میں متعدد چیزوں کی نشاندہی کرتی ہے اور اس آئینی شق کو آخری بار 2007 میں جارج ڈبلیو بش نے اس وقت استعمال کیا تھا جب ان کی دوسری بار کالونسکوپی سرجری ہوئی تھی۔ انہوں نے دستاویزات پر دستخط کیے تھے جس کے مطابق ڈک چنی دو گھنٹوں تک ملک کے قائم مقام صدر رہے۔

ابھی واشنگٹن ڈی سی میں 25 ویں ترمیم کے اس حصہ کے بارے میں خاص طور پر بات کی جارہی ہے جس کی دفعہ چار کے تحت صدر کو اس وقت عہدے سے ہٹایا جا سکتا ہے جب نائب صدر اور ان کی کابینہ کی اکثریت یہ محسوس کرے کہ وہ اپنے عہدے کے اختیارات اور فرائض کو استعمال کرنے سے قاصر ہیں۔

جمعرات کو ایوان کی سپیکر نینسی پیلوسی اور سینیٹ کے اقلیتی رہنما چک شومر نے نائب صدر مائک پینس سے مطالبہ کیا کہ وہ اس آئینی شق پر کارروائی شروع کریں۔

انہوں نے کہا: ’کل امریکی دارالحکومت میں جو کچھ ہوا وہ ملک کے خلاف بغاوت تھی جسے صدر نے اکسایا۔ اس صدر کو ایک دن مزید عہدے پر فائز نہیں رہنا چاہیے۔‘

انہوں نے مزید کہا: ’ایسا آج ہی کیا جاسکتا ہے، اس صدر کو عہدے سے ہٹانے کا یہ تیز ترین اور موثر طریقہ ہے- نائب صدر کو 25 ویں ترمیم پر فوری طور پر عمل درآمد کرانے کی استدعا کی جائے گی۔ اگر نائب صدر اور کابینہ کے ارکان صدر ٹرمپ  کے خلاف کھڑے ہونے سے انکار کرتے ہیں تو کانگریس کو صدر کا مواخذہ کرنے کے لیے دوبارہ اجلاس بلانا چاہیے۔‘

پھر بھی اس نکتے کے دوسرے پہلو پر غور و فکر کرنے کی ضرورت ہے۔ اگر ٹرمپ کو ان کے عہدے سے ہٹا دیا جائے تو ان کے حامی کیا کریں گے؟ ٹرمپ فوری طور پر ان کی نظروں میں ’شہید‘ کا درجہ پا لیں گے اور شاید اس سے مزید تشدد اور احتجاج جنم لے۔ بائیڈن کے اقتدار سنبھالنے میں صرف 13 دن رہ گئے ہیں۔ کیا ان دنوں میں آرام سے بیٹھ جانا ہی محفوظ ہوگا؟

ان نمبروں کا کیا مطلب ہے؟ اگر انہیں کیلکولس یا الگورتھم پر پرکھا جائے تو کیا ہو گا؟ ان نمبرز کا مطلب یہ ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کے پاس بہت بڑی سیاسی طاقت ہے اور یہ اقتدار چھوڑنے کے بعد بھی طویل عرصے تک ان کے پاس رہے گی، اگر وہ اسے استعمال کرنا چاہیں۔

یہ مختلف طریقوں سے ظاہر ہوسکتی ہے۔ اگر ٹرمپ کو ان کی کابینہ نے ہٹا دیا یا پھر دوسری مرتبہ ان کے خلاف مواخذے کی کارروائی کی گئی تو یہ ہوسکتا ہے کہ وہ ری پبلکن پارٹی کو ہی چھوڑ دیں۔

اب تک ٹرمپ ہی ری پبلکن پارٹی رہے ہیں اور پارٹی کے سینیئر لیڈر مچ مکونل، کیون مکارتھی، لنڈسے گراہم نے ان کے شور اور زہریلی باتوں کو بڑھاوا دینے میں ساتھ دیا ہے، اس اندازے پر کہ انہیں ری پبلکن پارٹی کے امیدواروں کے لیے ووٹ حاصل کرنے کے لیے ٹرمپ کے حامیوں کے ضرورت ہے۔ یہ اندازہ نومبر میں چھوٹے عہدوں کی دوڑ میں درست بھی ثابت ہوا۔ (مٹ رومنی بھی ان میں سے ایک نہیں تھے)

اگر ری پبلکن پارٹی میں کنٹرول کے لیے لڑائی ہوتی ہے تو ٹرمپ کو اپنی پارٹی قائم کرنے سے کون روک سکتا ہے؟ امریکہ میں گرین یا لبرٹیرین جیسی تیسری پارٹیاں عام طور پر کم ہی ووٹ حاصل کر پاتی ہیں۔ لیکن 1992 کے صدارتی انتخابات میں ’ریفارم‘ پارٹی کے امیدوار کے طور پر بزنس مین سیاست دان روس پیرو نے 19 فیصد ووٹ حاصل کیے تھے۔ اگر وہ مختصر طور پر سیاست میں حصہ لے کر پیچھے نہ ہٹتے تو اس سے بھی بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کر سکتے تھے۔

کیا ہوگا اگر ٹرمپ جارج والیس کی طرح یہ یقین کریں لیں کہ وہ پارٹی سے بالاتر ہیں؟ ان کے پاس امیدواروں کی کمی نہیں ہے، وہ خود یا اپنے بڑے بیٹے یا بیٹی کو نامزد کر سکتے ہیں۔ اس سے علاوہ کانگریس کے زیادہ قدامت پسند ممبروں میں سے بھی کوئی ایک ہوسکتا ہے، جیسے ٹام کاٹن، جو ان کا ساتھ دینے کا فیصلہ کر لے۔

تو ٹرمپ کہیں نہیں جا رہے، نہ پبلک لائف سے اور نہ ہی عوامی گفتگو سے۔ بہت جلد وہ اپنا ٹی وی نیٹ ورک قائم کر سکتے ہیں۔ ہوسکتا ہے کہ ان کی بیان بازی اور بھی تیز ہوجائے کیوں کہ بطور صدر ان کو تھوڑی بہت احتیاط کے دھارے میں رہنا پڑتا تھا۔ 

یہ یاد رکھنا ضروری ہے کہ ٹرمپ اس غم و غصے کا سبب نہیں ہیں جس نے ان کی امیدواری کو زندگی بخشی۔ پھر بھی وہ اس میں شامل رہے اور جلتی پر تیل کا کام کیا جو ان سے بہتر کوئی نہیں کر سکتا تھا۔

اور یہ کہ جو کچھ ہم نے اس ہفتے دیکھا جب ٹرمپ کیمرے کے سامنے آئے اور انہوں نے دھاوا بولنے والے مظاہرین سے کہا کہ ’ہم آپ سے پیار کرتے ہیں، آپ بہت خاص ہیں‘، وہ ہمیشہ ایسا ہی کرتے رہیں گے۔

© The Independent

زیادہ پڑھی جانے والی امریکہ