امریکہ: 'ہم خطرناک دکھائی دے رہے ہیں لیکن ہم پرامن ہیں'

20 جنوری کو نومنتخب امریکی صدر جو بائیڈن کی تقریب حلف برداری کے موقع پر کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے نمٹنے کے لیے امریکہ بھر میں سکیورٹی کے سخت اقدامات کیے گئے ہیں۔ دوسری جانب ڈونلڈ ٹرمپ کے حامی مسلح مظاہرین بھی مختلف ریاستوں میں گشت کرتے نظر آرہے ہیں۔

گذشتہ ہفتے سے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حامی امریکہ کی ریاستوں اوریگن، اوہائیو، ٹیکسس اور مشی گن میں مسلح ہوکر سڑکوں پر گشت کرتے نظر آرہے ہیں۔

نو منتخب امریکی صدر جوبائیڈن 20 جنوری کو منصب صدارت سنبھالیں گے۔ ان کی تقریب حلف برداری کے موقع پر کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے نمٹنے کے لیے امریکہ بھر میں سکیورٹی کے سخت اقدامات کیے جارہے ہیں۔

واشنگٹن ہزاروں فوجیوں کی نگرانی میں ہے اور بائیڈن کی حلف برداری سے پہلے سکیورٹی رکاوٹیں بھی جابجا موجود ہیں۔

یاد رہے کہ امریکی دارالحکومت میں چھ جنوری کو صدر ٹرمپ کے حامیوں کی طرف سے ایک ہنگامہ پہلے بھی کیا چکا ہے۔

موجودہ صورتحال میں اوہائیو، ٹیکسس، اوریگون اور مشی گن سمیت دیگر ریاستوں میں ٹرمپ کے حامی مسلح مظاہرین کے گروہ ابھی تعداد میں کم ہیں، تاہم وہ پرجوش دکھائی دیتے ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

مظاہرین میں شامل ایس بوگالو بوئی نے خبر رساں ادارے اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے کہا: 'ہم خطرناک دکھائی دے رہے ہیں لیکن ہم پرامن ہیں۔ ہم ہتھیار نہیں اٹھائیں گے۔  ہم انہیں استعمال نہیں کر رہے۔  ہم یہاں محض اس لیے ہیں تاکہ حکومت کو بتا سکیں کہ ہم ان سے خوفزدہ نہیں ہیں۔  ہم جو درست سمجھتے ہیں، اس سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔'

دوسری جانب نو منتخب صدر جو بائیڈن کے اعلیٰ مشیروں نے اتوار کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مواخذے کا معاملہ کامیابی سے نمٹاتے ہوئے آئندہ بحرانوں سے نمٹنے کے لیے منصوبوں کا خاکہ پیش کیا۔  

بائیڈن کی جانب سے منتخب چیف آف اسٹاف رون کلین نے سی این این کو بتایا: 'پچھلے چند ہفتوں کے واقعات سے ثابت ہوا ہے کہ امریکہ کی اساس کو کتنا نقصان پہنچا ہے اور اسے بحال کرنا کتنا زیادہ اہم ہے۔ یہ کام بدھ سے شروع ہو جائے گا۔'

ان کا مزید کہنا تھا: 'ہمیں ورثے میں بہت کچھ تباہ حال ملا ہے، لیکن ہمارے پاس اس کو ٹھیک کرنے کا منصوبہ ہے۔ چونکہ نومنتخب صدر اس شہر میں اقتدار سنبھالنے کی تیاری کر رہے ہیں جہاں صرف دو ہفتوں قبل ٹرمپ کے حامیوں نے انتخابات ملیامیٹ کرنے کی ایک پرتشدد کوشش کی تھی، اس لیے بائیڈن کو نہ صرف کرونا بلکہ ایک زوال پذیر معیشت، موسمیاتی تبدیلی اور نسلی تناؤ سے بھی نمٹنا ہوگا۔'

زیادہ پڑھی جانے والی ملٹی میڈیا