تیونس میں نوجوان کئی دنوں سے سراپا احتجاج کیوں؟

ایک کروڑ 10 لاکھ سے زیادہ آبادی والے ملک میں نوجوان مسلسل چار روز سے سڑکوں پر احتجاج کر رہے ہیں اور سینکڑوں گرفتاریاں بھی پیش آئی ہیں۔

افریقی ملک تیونس کے معاشی حالات بدترین ہو چکے ہیں۔ اس صورت حال میں اپنے لیے کچھ تلاش کرنے میں ناکام نوجوان طبقے کی بے چینی ملک گیر سطح پر بڑھتی جا رہی ہے جس نے ملکی قیادت کو پریشانی میں مبتلا کر دیا ہے۔

تیونس وہ ملک ہے جہاں 2011 میں عرب بہار انقلاب کا آغاز ہوا تھا۔ اس شمالی افریقی ملک میں ایک تہائی نوجوان بے روزگار اور متعدد اپنے جمود کے شکار حالات پر غصے میں ہیں۔

ایک کروڑ 10 لاکھ سے زیادہ آبادی والے ملک میں نوجوان مسلسل چوتھے روز سے سڑکوں پر احتجاج کر رہے ہیں۔ ان کے احتجاج کا یہ سلسلہ دارالحکومت سے لے کر دوسرے شہروں قصرین، قفصہ، سوسہ اور مونستیر تک پھیلا ہوا ہے۔

خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق حکام ان مظاہروں کا سختی سے جواب دے رہے ہیں۔ انہیں خوف ہے کہ وہ احتجاج دوبارہ نہ شروع ہو جائے جس کے نتیجے میں10سال پہلے صدر زین العابدین کا اقتدار ختم ہو گیا تھا۔

احتجاجی تحریک میں شدت

 

احتجاج کرنے والے گروپوں کے حجم میں جمعے سے دن رات اضافہ ہو رہا ہے۔ وہ دارالحکومت تیونس کے ارد گرد واقع شہروں میں بیک وقت مظاہروں میں مصروف ہیں۔ اکثر مظاہرے پرتشدد ہوتے ہیں۔

مظاہرین بلدیاتی اداروں کی عمارتوں پر پتھراؤ کرتے اور پیٹرول بم پھینکتے ہیں۔ وہ لوٹ مار کرتے ہیں اور ان کی پولیس کے ساتھ جھڑپیں ہوتی ہیں۔

غریب اور گنجان آباد علاقے انتشار کا مرکز بن چکے ہیں جہاں قانون نافذ کرنے والے اداروں پر اعتماد پہلے ہی کم ہو چکا ہے۔

ملک اداروں کی حفاظت اور بدامنی پر قابو پانے کے لیے حکومت نے اتوار کو فوج طلب کرلی تھی۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ہزاروں مظاہرین کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔

مظاہرے کس لیے ہو رہے ہیں؟

اس کی بالکل درست وجہ واضح نہیں ہے لیکن  شمالی افریقی ملک کے معاشی حالات عدم اطمینان کی مرکزی وجہ ہیں۔ مظاہرین نے جو پوسٹر اٹھا رکھے ہیں ان پر ’روز گار احسان نہیں، حق ہے‘ کے نعرے درج ہیں جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ ڈرامائی انداز میں منتخب ہونے والے صدر، قیس سعید، اور ان کی حکومت کی جانب سے وعدے پورے نہ کرنے پر غصے میں ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

حکومت دیوالیہ پن کے دھانے پر کھڑی معیشت کو بحال کرنے میں ناکام رہی ہے۔ تاریخ ساز انقلاب جس کا نعرہ ’روزگار، آزادی اور وقارت‘ تھا، کے10 سال بعد تیونس کے شہریوں کو محسوس ہوتا ہے کہ ان میں سے کچھ نہیں ملا۔

قومی ادارہ شماریات کے مطابق تیونس کے نوجوانوں میں ایک تہائی بے روزگار ہیں اور پانچ فیصد آبادی غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہی ہے۔

 نوجوانوں کو بن علی کے دور میں ہونے والا استحصال یاد نہیں ہے۔ وہ روزگار کے مواقعے چاہتے ہیں۔ شہری اپنی بے چینی کے بارے میں سوشل میڈیا کے ذریعے بتا رہے ہیں جیسا کہ الجزائر میں ہوا تھا جہاں  نوجوانوں کی قیادت میں چلنے والی تحریک نے2019 میں ملک کے قانونی حکمران کو اقتدار چھوڑنے پر مجبور کر دیا تھا۔

کرونا (کورونا) وائرس کی وبا کی وجہ سے حالات مزید خراب کیوں ہوئے؟

ملک میں کووڈ۔19 پر قابو پانے کے لیے اکتوبر سے جاری بے تکے لاک ڈاؤن کی پابندیوں اور رات کے کرفیو نے کشیدگی میں اضافہ کیا ہے۔ وبا کی وجہ سے سیاحت کا شعبہ خاص طور پر متاثر ہوا ہے جو خوبصورت اور تاریخی شہروں اور وسیع ریتلے ساحلوں کی بدولت چل رہا تھا۔ پروازیں روک دی گئی ہیں اور ممکنہ سیاح گھروں میں بند ہو کر لاک ڈاؤن کا سامنا کر رہے ہیں۔

 

حکام کا ردعمل کیا ہے؟

ایمنسٹی انٹرنینشنل نے تیونس کے حکام پر زور دیا ہے کہ وہ کشیدگی پر قابو پانے میں تحمل سے کام لیں اور گرفتار ہونے والے افراد کے حقوق کی پاسداری کریں۔ لیکن مدد کے لیے حکام کا فوج پر انحصار بڑھتا جا رہا ہے۔ حکام نے مظاہرین پر آنسو گیس استعمال کی ہے۔

وزارت داخلہ نے پولیس کے سخت جواب کا دفاع  کرتے ہوئے اسے عوام اور نجی املاک کی حفاظت کے لیے ضروری قرار دیا ہے۔ تیونس کے فورم برائے معاشی ومعاشرتی حقوق کے صدر عبدالرحمان لہزیلی نے کہا ہے کہ حکام کا یہ رویہ زیادہ درست نہیں ہے اور انہیں چاہیے کہ وہ اس کی بجائے مسئلے کی وجوہات کو دیکھیں۔

کیا مظاہروں کے پیچھے اسلام پسند قوتیں ہیں؟

تیونس کے قدامت پسند صدر قیس سعید نے پیر کی شام کو تیونس کے قریب واقع علاقے منہیلہ کا غیرمتوقع طور پر دورہ کر کے مظاہرین کو مل کر براہ راست بات کرنے کی کوشش کی۔

انہوں نے مظاہرین کو خبردار کیا کہ شدت پسند قوتیں چھپ کر کام کر رہی۔ انہوں نے دعویٰ کیا یہ قوتیں انتشار پھیلانے اور جمہوری طور پر منتخب حکومت کو غیرمستحکم کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔

تاہم یہ واضح نہیں ہو سکا کہ صدر نے بدامنی کا الزام اپنی حکومت سے شدت پسندوں کو منتقل کرنے کی کوشش کی ہے یا واقعی یہ قوتیں احتجاجی تحریک کے پیچھے ہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی افریقہ