براڈ شیٹ: جسٹس عظمت سعید کے کیریئر میں تین وزرائے اعظم کا کردار

سپریم کورٹ کے سابق جج جسٹس ریٹائرڈ عظمت سعید نے ایک سابق وزیر اعظم کے خلاف مقدمہ لڑا، ایک کے خلاف مقدمے کی سماعت کی اور اب تیسرے وزیر اعظم نے انہیں براڈ شیٹ کے معاملے پر تحقیقاتی کمیشن کا سربراہ بنا دیا ہے۔

وکلا تحریک کے دوران جسٹس عظمت سعید کا یہ جملہ مشہور ہوا کہ 'حلف پر حلف نہیں لیا جاسکتا۔' (فائل تصویر: سوشل میڈیا)

اثاثہ جات ریکوری فرم براڈ شیٹ معاملے کی تحقیقات کے لیے بنائے جانے والے کمیشن کے سربراہ اور سپریم کورٹ کے سابق جج جسٹس ریٹائرڈ عظمت سعید کے کیریئر اور ریٹائرمنٹ میں تین وزرائے اعظم کا اہم کردار رہا ہے۔

جسٹس ریٹائرڈ عظمت سعید نے ایک سابق وزیر اعظم کے خلاف مقدمہ لڑا، ایک کے خلاف مقدمے کی سماعت کی اور اب تیسرے وزیر اعظم نے انہیں تحقیقاتی کمیشن کا سربراہ بنا دیا ہے۔

سپریم کورٹ کے سابق جج دسمبر 2004 میں سابق فوجی صدر جنرل (ر) پرویز مشرف کے دور میں لاہور ہائی کورٹ کے جج مقرر ہوئے اور پھر اسی ہائی کورٹ کے لگ بھگ چھ ماہ کے لیے چیف جسٹس بھی رہے۔

1997  میں جب نواز شریف دوسری مرتبہ وزارت عظمیٰ کے عہدے تک پہنچے تو سابق وزیر اعظم اور اس وقت کی قائد حزب اختلاف بینظیر بھٹو اور ان کے شوہر آصف علی زرداری کے خلاف ریفرنس کی پیروی کرنے والی ٹیم میں جسٹس ریٹائرڈ عظمت سعید بھی شامل تھے۔

جسٹس عظمت سعید  احتساب بیورو کے وکیل کی حیثیت سے بینظیر بھٹو اور ان کے شوہر آصف علی زرداری کے خلاف لاہور ہائی کورٹ میں نواز شریف حکومت کے خاتمے تک پیش ہوتے رہے۔

سابق وزیر اعظم نواز شریف کے خلاف پانامہ پیپرز کے معاملے پر جب سپریم کورٹ میں سماعت شروع ہوئی تو جسٹس ریٹائرڈ عظمت سعید اس  پانچ رکنی بینچ کا نہ صرف حصہ تھے بلکہ انہوں نے اپنے دو سینئیر جج ساتھیوں کے ساتھ اختلاف کیا اور اس معاملے پر کمیشن بنانے کی حمایت کی۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

بینچ کے سربراہ جسٹس آصف سعید کھوسہ اور جسٹس گلزار احمد نے نواز شریف کو نااہل قرار دیا لیکن جسٹس عظمت سعید بینچ کے ان دیگر تین ججوں میں شامل تھے جو اس معاملے میں مزید تحقیقات کے حامی تھے۔

بعد میں تین رکنی بینچ، جس میں جسٹس  عظمت سعید بھی شامل تھے، نے نواز شریف کی نااہلی کا فیصلہ سنایا۔

اعلیٰ عدلیہ کے سابق جج جسٹس عظمت سعید بطور جج حلف اٹھانے سے پہلے نیب کے ڈپٹی پراسیکیوٹر رہے اور انہوں نے اٹک قلعے میں قائم احتساب عدالت میں بھی اہم نوعیت کے مقدمات کی پیروی کی۔

اگرچہ جسٹس ریٹائرڈ عظمت سعید سابق فوجی صدر جنرل (ر) پرویز مشرف کے دور میں لاہور ہائی کورٹ کے جج بنے لیکن 2007 میں انہوں نے جنرل مشرف کے عبوری آئینی فرمان یا پی سی او کے تحت حلف اٹھانے سے انکار کر دیا اور اسی پاداش میں اپنے گھر میں نظر بند رہے۔

وکلا تحریک کے دوران جسٹس عظمت سعید کا یہ جملہ مشہور ہوا کہ 'حلف پر حلف نہیں لیا جاسکتا۔'

چیف جسٹس پاکستان جسٹس افتخار محمد چوہدری سمیت دیگر ججز کی بحالی کی تحریک کے دوران جب ایمرجنسی ختم ہوئی اور پی سی او واپس لیا گیا تو اگست 2008 میں لاہور ہائی کورٹ کے جن چار ججز نے دوبارہ آئین کا حلف اٹھایا، ان میں ایک جسٹس ریٹائرڈ عظمت سعید بھی تھے۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان