عرب دنیا میں مردوں کا پہلا فیشن ویک

فیشن ویک میں اینیمل پرنٹس، لیس کی بنی ہوڈیز، بھڑکیلی ریشمی سلیکس اور روایتی لباس’جبہ‘ کے نئے انداز پیش کیے جا رہے ہیں۔

اینیمل پرنٹس سے لے کر لیس کی بنی ہوڈیز اور بھڑکیلی ریشمی سلیکس تک، یہ ملبوسات عرب مردوں کے پہلے فیشن ویک میں پیش کیے گئے۔

دبئی میں تین روز تک جاری رہنے والا یہ ایونٹ آن لائن ہی دکھایا جا سکتا ہے۔ فیشن ویک کے پہلے روز برینڈ اموتو کوٹر کے معروف ڈیزائنر فرنے ون کے موسم خزاں اور موسم سرما 22-2021 کے کلیکشن کی نمائش کی گئی۔ 

صحرا میں ہونے والے فیشن ویک میں ماڈلز نے سفید رنگ کے ملبوسات زیب تن کیے ہوئے تھے جس میں لیس کی بنی ہوڈیز اور پینٹیں شامل تھیں۔ اس موقعے پر خلیجی اور عرب مردوں کے روایتی لباس ’جبہ‘ کی بھی نمائش کی گئی لیکن سامنے کی جانب سے اس میں کچھ ترمیم کی گئی تھی۔

عرب فیشن کونسل کے چیف سٹرٹیجسٹ محمد آقرہ نے کہا: ’ہمارے آس پاس کی دنیا بدل رہی ہے، ایسا فیشن میں بھی ہو رہا ہے اور مشرق وسطیٰ سے زیادہ یہ تبدیلی کہیں اور نہیں دیکھی جا رہی۔‘

انہوں نے مزید کہا: ’عرب فیشن ویک رسمی ملبوسات سے بالاتر مردوں کے عام لباس کی وسعت پیش کرتا ہے اور مشرق وسطیٰ میں مردوں کو زیادہ منفرد وارڈ روب کی ترغیب دیتا ہے۔‘

اس پروگرام کی میزبانی عرب فیشن کونسل کر رہی ہے۔ یہ فیشن شو یوٹیوب پر تین دن کے لیے نشر کیا جائے گا جب کہ اس میں فرانس، برطانیہ، ایران اور لبنان سے تعلق رکھنے والے تقریباً  15 علاقائی اور بین الاقوامی ڈیزائنرز حصہ لے رہے ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

جمعرات کو فیشن ویک کے پہلے شو کے موقعے پر ہسپانوی ڈیزائنر آرٹورو اوبیگرو کے تخلیق کردہ ’پورو ٹیٹرو‘ (پیور تھیٹر) کلیکشن کی نمائش بھی کی گئی، جن میں اونچی پتلونیں اور شکن دار ویسٹس کے ساتھ ٹاپس بھی شامل تھے۔

فیشن ویک کے پہلے دن زردوز کے ڈیزائن کردہ ملبوسات بھی پیش کیے گئے تھے جس میں اینیمل پرنٹ شرٹس اور پینٹس خاص طور پر توجہ کا مرکز رہیں۔ 

دبئی میں قائم عرب فیشن کونسل عرب لیگ کے تمام 22 ممالک کی نمائندگی کرتی ہے اور یہ اس کے عرب فیشن ویک کا 11 واں ایڈیشن ہے۔ کونسل کا مقصد دنیا بھر میں عرب علاقائی ڈیزائنرز اور یہاں کی فیشن کی صنعت کو فروغ دینا ہے۔

دبئی چیمبر آف کامرس کے مطابق 2018 میں متحدہ عرب امارات میں مردوں کے ملبوسات کی فروخت میں اضافہ دیکھا گیا جہاں 12.3 ارب ڈالر مالیت کے ملبوسات کی تجارت ہوئی تھی۔

زیادہ پڑھی جانے والی سٹائل