جناب وزیر اعظم، آپ نے گھبرانا نہیں ہے

سمجھنے کی بات یہ ہے کہ یہ آٹھویں صدی کے ابو جعفر منصور کا بغداد نہیں جہاں رعایا کی خبر گیری کے لیے ایسے اقدامات کرنے پڑیں۔

(عمران خان فیس بک)

 رات جناب وزیر اعظم نے فون پر رعایا سے فریاد سنی اور میں اب تک بیٹھا سوچ رہا ہوں کہ اس مشق سخن کا مقصد کیا تھا اور اس کے نتیجے میں کیا حاصل ہوا؟

سوال یہ ہے کہ جناب عمران خان سادہ بہت ہیں یا ہوشیار بہت؟ ان کے پاس کوئی فلسفہ حیات موجود ہے یا وہ محض چند متفرق اقوالِ زریں کا مجموعہ ہیں؟

یہ تحریر کالم نگار کی زبانی سننے کے لیے یہاں کلک کریں۔ 

 

معلوم نہیں یہ مصاحبین کا فکری افلاس ہے یا صاحب کی افتاد طبع کا اعجاز، لیکن معلوم یہ ہو رہا ہے کہ تحریک انصاف نے نواز شریف کے نقوش قدم ہی کو منزل مراد بنا رکھا ہے اور قدموں کے یہ نشان اگر کسی تاریک غار میں جائیں گے تو قافلہ انقلاب بھی اسی غار میں جا اترے گا۔ وفور شوق اسی روز عیاں ہو گیا تھا جب عثمان بزدار کے ایک مصاحب نے ایک بی اماں سے ان کا تعارف کراتے ہوئے کہا تھا، ’اماں جی یہ پنجاب کے نئے شہباز شریف ہیں۔‘

برصغیر توہمات اور ناخواندگی کا مارا ایسا علاقہ ہے جہاں صدیوں سے جنوں پریوں کے ساتھ ساتھ شہنشاہوں اور شہزادوں کے قصے لوری میں سنائے جاتے ہیں۔ بادشاہ یہاں سال میں ایک آدھ دفعہ جھروکوں سے رعایا کو دیدار کراتے تھے۔ انصاف کا تصور جہانگیر کی زنجیر عدل سے آگے نہیں بڑھ سکا اور طرز حکمرانی کا کمال یہ ہے کہ حاکم وقت بھیس بدل کر راتوں کو گشت پر نکلے۔ حکمرانوں کے اچانک دورے اور کھلی کچہریاں اسی جبلت کو آسودگی فراہم کرنے کا ایک ذریعہ ہیں۔

فون کال کے ذریعے رعایا کو شرف کلام بخشنا اسی قدیم واردات کی ایک جدید شکل تھی جس نے نواز شریف صاحب کے دور میں ظہور کیا۔ اس دور میں مگر نوکیا 3310 بھی مارکیٹ میں نہیں آیا تھا اور خبریں رات پی ٹی وی سے یا صبح کے اخبارات سے ملا کرتی تھیں۔ آج تو وقت بدل چکا ہے اور ایک لمحے میں خبر پانچ براعظم عبور کر جاتی ہے۔ یہ ابلاغ کا دورِ جدید ہے۔ صرف پنجاب کے وزیر اعلیٰ کے ترجمانوں کی تعداد 57 ہے۔ اب بھی اگر عوام کے مسائل سے آگہی کے لیے وزیر اعظم فون کان سے لگا کر بیٹھ جائیں اور رعایا زنجیر عدل کے نمبر کھڑکاتی رہے تو یہ مشق ظرافت صرف اس بات کا اعلان ہے کہ عزیز ہم وطنو، وفاق کے نواز شریف لائن پر ہیں، جلدی سے نمبر ڈائل کر لیجیے۔

سمجھنے کی بات مگر یہ ہے کہ یہ آٹھویں صدی کے ابو جعفر منصور کا بغداد نہیں جہاں رعایا کی خبر گیری کے لیے ایسے اقدامات کرنے پڑیں۔ جدید ریاستی انتظامی ڈھانچہ سنجیدہ اور ٹھوس اقدامات کا طلب گار ہوتا ہے۔ اس میں پورٹل اور فون کال جیسے سطحی اقدامات کا کوئی اعتبار نہیں ہوتا۔

کیا وزیر اعظم کو معلوم نہیں عوام پر کیا بیت رہی ہے؟ کیا انہیں خبر نہیں کہ بنک دولت پاکستان کے مطابق 2020 میں پاکستان میں افراط زر کی شرح دنیا میں سب سے زیادہ رہی؟ کیا وہ نہیں جانتے کہ 94 اہم ادویات کی قیمتوں میں 250 فیصد تک اضافہ ہو گیا ہے۔ کیا انہیں کوئی بتانے والا نہیں کہ قیمتیں کہاں سے کہاں جا پہنچیں؟ روپے کی قیمت گرنے کی خبر تو انہیں ٹی وی سے مل ہی جاتی ہے کیا پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا احوال ان تک نہیں پہنچ پایا؟ یہ تجاہل عارفانہ کب تک؟

حکومت کے پاس چند متفرق اقوال زریں ہیں جنہیں رجز کی صورت پڑھا جاتا ہے اور داد طلب کی جاتی ہے۔ عمل کی میزان پر یہ اقوال زریں مجموعہ تضادات بن جائیں تو کسی کو پروا نہیں۔ فارن فنڈنگ کیس میں جناب وزیر اعظم نے مطالبہ کیا کہ عوامی سماعت کی جائے اور ٹی وی پر دکھائی جائے۔ حقیقت مگر یہ ہے خود تحریک انصاف نے سماعت خفیہ رکھنے کی درخواست کی تھی۔ الیکشن کمیشن نے 30 مئی 2018 کو اس درخواست کو رد کردیا تھا۔

ذمہ دار جمہوری کلچر اور پارلیمان کی عزت و توقیر کے وعدے تھے لیکن میزان عمل یہ ہے کہ قومی اسمبلی کی ویب سائٹ کے اعدادو شمار کے مطابق صرف ایک سال میں لائے گئے صدارتی آرڈی ننسوں کی تعداد 31 ہے۔ پارلیمان کی ایک دن کی نشست قومی خزانے کو قریبا چار کروڑ میں پڑتی ہے، مراعات کا ایک دریا بہہ رہا ہے لیکن اتنے اخراجات کے باوجود قانون سازی آرڈی ننسوں کے ذریعے ہو رہی ہے اور آرڈی ننسوں کی تعداد پارلیمان کی قانون سازی سے زیادہ ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

عوام سے کیے گئے وعدوں کو اس حکومت میں یوں پامال کیا گیا کہ یوٹرن کی اصطلاح کو نئے معانی میسر آگئے لیکن قول زریں یہ ہے کہ میں کوئی ایسا وعدہ نہیں کرتا جو پورا نہ کیا جا سکے۔ اقوال زریں کے ہمراہ ایسا اعتماد ہوتا ہے، آدمی مروت میں آگے سے یہ بھی نہیں کہہ سکتا کہ پیچھے آپ کا انتخابی منشور رکھا ہے ذرا ’پیچھے تو دیکھو۔‘ مہنگائی کا آزار لوگوں سے لپٹ گیا ہے لیکن اقوال زریں یہ ہیں کہ مہنگائی کم ہو رہی ہے۔ معیشت لڑکھڑا رہی ہے لیکن معاشی ٹیم کو داد دی جا رہی ہے کہ کمال کر دیا۔ انڈوں اور بھینسوں سے زراعت کی دنیا میں تو تبدیلی آ چکی، گوبر سے بسیں چلا کر اب شہر قائد میں معاشی انقلاب لانے کی تیاریاں ہیں۔

پڑوس میں ایک پالیسی آئی اور کسان دلی کی سڑکوں پر ہے۔ اپنے ہاں مگر خاموشی ہے۔ اس سکوت کا سماجی مطالعہ ہونا چاہیے کہ لوگ خوش ہیں اس لیے خاموش ہیں یا ان میں حق مانگنے کی سکت ہی نہیں رہی۔ یہاں کبھی کسی نے آئین کے باب دوم میں دیے گئے بنیادی حقوق نہیں مانگے۔ سماجی حقوق کی کوئی تحریک ہمارے ہاں نہیں اٹھ پائی۔ بنیادی انسانی حقوق یہاں کسی نے پڑھائے ہیں نہ بتائے ہیں۔ یہاں صرف سیاسی تحریکیں چل سکتی ہیں اور کچھ جماعتیں اپنے رضاکاروں کو مفادات کے ایندھن کے طور پر قیام و طعام کی ضمانت پر ساتھ لاتی ہیں اور معاملہ کر کے لوٹ جاتی ہیں۔ عمران خان قسمت کے دھنی ہیں کہ ان کے سیاسی حریفوں کا اخلاقی وجود ان کے دور اقتدار میں پگھل کر بہہ چکا اور جو کچھ طنطنہ باقی تھا وہ بھی ’73 کے آئین کے تناظر‘ میں محض شکوہ ہی نکلا۔

اب چاہے ہر صبح پٹرول کی قیمتیں بڑھا کریں اور ہر شام گیس کی قیمتوں میں اضافہ کر دیا جائے، بھلے ادویات مزید مہنگی ہو جائیں اور آٹا سونے کے بھاؤ بکنے لگے۔ حکومت کو کوئی خطرہ نہیں۔ یہ بڑا مطمئن سماج ہے۔ اس نے کبھی احتجاج کیا بھی تو اس کی ہتھیلی پر یہ مطالبہ ہو گا کہ عالم پناہ، نہر والے پل پر جوتے مارنے والوں کی تعداد میں اضافہ کر دیا جائے تا کہ وقت بچایا جا سکے۔ اس صورت میں کابینہ میں توسیع کر کے مطالبہ پورا کیا جا سکتا ہے۔

جناب وزیر اعظم سے اب ایک ہی درخواست ہے۔ وزیر اعظم صاحب آپ نے گھبرانا بالکل نہیں۔ تین سال ابھی باقی ہیں۔ ڈٹ کر کھڑے ہو جائیے اوراپنے سارے خیر خواہوں کے سارے چاؤ اتار دیجیے۔ ہم خیر خواہوں کی کوئی خوش فہمی کوئی حسن ظن باقی نہ رہے۔ قدم بڑھاؤ عمران خان!قوم تمہارے ساتھ ہے۔

نوٹ: یہ تحریر مصنف کے ذاتی خیالات پر مبنی ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی زاویہ