پولیس کا خواتین ملزمان پر تشدد: ’غریبوں پر ہاتھ صاف کرتے جاؤ‘

خیبرپختونخوا کے ضلع سوات کے پولیس سربراہ نے اس واقعے میں ملوث تھانے کے ایس ایچ او سمیت پانچ اہلکاروں کو معطل کردیا ہے۔

خواتین ملزمان پر تشدد کا یہ واقعہ  ضلع سوات کے سیدو شریف پولیس سٹیشن کی حدود میں 31 جنوری کو پیش آیا تھا (سکرین گریب)

خیبر پختونخوا کے  ضلع سوات میں چوری کے الزام میں گرفتار تین  خواتین پر پولیس کی جانب سے تشدد کی ویڈیو پر سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے تنقید کی جا رہی ہے کہ ایک طرف خیبر پختونخوا کی پولیس ’ماڈل‘ ہونے کے دعوے کرتی ہے جبکہ دوسری جانب وہ ملزمان پر سرِعام تشدد کرتی ہے۔

یہ واقعہ ضلع سوات کے سیدو شریف پولیس سٹیشن کی حدود میں 31 جنوری کو پیش آیا تھا۔ اسی پولیس سٹیشن کے اہلکار سجاد علی نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ان خواتین کو قریبی گاؤں سے گھروں میں چوری کرنے کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا، جن پر پاکستان پینل کوڈ کی دفعہ 454 اور 380 کے تحت مقدمہ درج کیا گیا، جو ڈکیتی کے حوالے سے ہے۔

سجاد علی نے بتایا کہ گرفتاری کے دوران ان خواتین سے 19 تولے سونا اور 99 ہزار روپے بھی برآمد کیے گئے تھے اور اگلے دن انہیں عدالت میں پیش کیا گیا، جہاں سے انہیں جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا اور اب بھی وہ جیل میں ہیں۔

سجاد سے جب پوچھا گیا کہ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیو سیدو شریف پولیس سٹیشن کے اہلکاروں کی ہے۔ تو انہوں نے بتایا کہ یہ ویڈیو گرفتاری کے وقت کی ہے اور اس میں نظر آنے والے اہلکار سیدو شریف تھانے کے ہیں۔

اس ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ خواتین کو پولیس کی موبائل گاڑی میں  دھکیل دیا جاتا ہے اور ایک اہلکار کی جانب سے گرفتار خواتین کو تھپڑ اور لات رسید کی جاتی ہے، جبکہ دوسرے اہلکار نازیبا الفاظ بھی استعمال کر رہے ہیں۔ دوسری جانب اایک اہلکار تشدد کرنے والوں کو کہتے ہیں کہ ’چھوڑیں، بس نہ ماریں ان کو۔‘

سجاد علی سے جب مذکورہ اہلکاروں کے خلاف کارروائی سے متعلق سوال کیا گیا تو انہوں نے بتایا کہ سوات کے ضلعی پولیس دفتر کی طرف سے جاری مراسلے کے مطابق اس واقعے میں ملوث پانچ اہلکاروں کو معطل کر دیا گیا ہے۔

سوشل میڈیا پر ردعمل

سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے اس ویڈیو پر شدید تنقید کی جارہی ہیں۔ ٹوئٹر پر حیات محمد خان نامی صارف نے لکھا ہے کہ ’ایک پولیس اہلکار کیسے کسی ملزم کو اس طرح مار سکتا ہے؟ کیونکہ  قانونی اور اخلاقی طور پر یہ ایک قبیح عمل ہے۔‘

آفریدی نامی ایک صارف نے لکھا ہے کہ خواتین پر چوری کا الزام لگا کر ان پر ہاتھ اٹھانے کی کسی بھی پولیس کو اجازت نہیں اور اگر چوری بھی کی ہے تو انہیں پکڑنا خواتین پولیس اہلکاروں کا کام ہے۔ صوبائی پولیس سربراہ کو اس کا نوٹس لینا چاہیے۔

نبیلہ خان نے لکھا: ’اس واقعے پر سوال بس اتنا ہے کہ پولیس والے ایسا رویہ کسی پیسے والے کے ساتھ کرکے دکھائیں۔ بس سب غریبوں پر  ہی ہاتھ صاف کرتے ہیں۔‘

کیا پولیس کو سر عام ملزم کو مارنے کی اجازت ہے؟

محمد فہیم ولی سپریم کورٹ کے وکیل ہیں اور انسانی حقوق سمیت سول مقدمات  میں وسیع تجربہ رکھتے ہیں۔ انہوں نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ پاکستان کے کسی بھی قانون میں پولیس کو یہ اختیار نہیں ہے کہ وہ ملزم کو پکڑنے کے بعد ان پر تشدد کریں اور ان کی عزت نفس کو مجروح کریں۔

فہیم ولی نے بتایا کہ پولیس کو صرف اس صورت میں زور زبردستی کرنے کی اجازت ہے، جب ملزم کی گرفتاری کا وارنٹ ان کے پاس موجود ہو اور ملزم گرفتاری دینے سے انکار کرے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ان کا مزید کہنا تھا: ’اس صورت میں بھی قانون میں صرف اتنا لکھا گیا ہے کہ زیادہ زبردستی نہیں کرنی ہوگی بلکہ صرف اتنی کارروائی کریں کہ ملزم اپنے آپ کو گرفتاری کے لیے پیش کرے۔‘

فہیم ولی سے جب پوچھا گیا کہ کیا مرد پولیس اہلکار خاتون ملزم کو گرفتار کر سکتا ہے؟ تو انہوں نے بتایا کہ ’اگر اچانک کوئی ایسا جرم سرزد ہوجائے تو صرف اسی صورت میں مرد پولیس اہلکار کو اجازت ہے لیکن وہ گرفتاری بھی اس طریقے سے ہوگی کہ خاتون کو چھوا نہ جائے جبکہ اچانک جرم کے علاوہ باقی صورتوں  میں خواتین پولیس اہلکار ہی خواتین ملزمان کو گرفتار کرسکتی ہیں اور مرد اہلکاروں کو قانونی طور پر اجازت نہیں ہے۔‘

فہیم ولی نے اس رویے کے بارے میں بتایا کہ ’اس حوالے سے پولیس کی ٹریننگ نہایت ضروری ہے کہ وہ کس طرح ملزمان کے ساتھ پیش آئیں گے  کیونکہ ہم نے دیکھا ہے کہ تھانوں میں بھی ملزمان پر تشدد کا کلچر بہت عام ہے اور پولیس اس کو کوئی غیر قانونی فعل ہی نہیں سمجھتی حالانکہ یہ بھی ایک غیر قانونی عمل ہے۔‘

فہیم نے بتایا: ’پولیس سمیت عوام میں بھی یہ آگاہی ضروری ہے کہ اس ملک میں ملزمان کے بھی حقوق موجود ہیں اور اگر پولیس کی جانب سے ان حقوق کی پامالی ہو رہی ہے تو ان کے خلاف آواز بلند کرنی چاہیے۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی سوشل