رومانیہ: بپتسمہ کے بعد دل کا دورہ پڑنے سے بچے کی موت

انتقال کرجانے والے ڈیڑھ ماہ کے بچے کے والد نے بتایا: ’بچہ رو رہا تھا لیکن پادری نے اسے تین بار پانی میں ڈبویا اور اس نے پانی کے اندر سانس لی۔‘

بپتسمہ کی رسم ادا کرنے کے لیے بچے کو تین بار مقدس پانی میں ڈبکیاں لگوائی جاتی ہیں (فائل تصویر: اے ایف پی)

جنوب مشرقی یورپی ملک رومانیہ میں بپتسمہ کی رسم (نوزائیدہ بچے کو مسیحی برادری کا رکن بنانے کا عمل)کی ادائیگی کے بعد حرکت قلب بند ہونے سے بچے کی موت کے نتیجے میں آرتھوڈوکس چرچ (قدامت پسند کلیسا) کو تنقید کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

بپتسمہ کی رسم ادا کرنے کے لیے بچے کو تین بار مقدس پانی میں ڈبکیاں لگوائی جاتی ہیں۔ اس رسم کو تبدیل کرنے کے لیے چرچ پر دباؤ بڑھ رہا ہے کیونکہ حالیہ پرسوں کے دوران مقامی میڈیا میں ایسے ہی واقعات رپورٹ کیے جاچکے ہیں۔

بچہ، جس کی عمر چھ ہفتے تھی، کو دل کا دورہ پڑا جس کے بعد اسے فوری طور پر رومانیہ کے شہر سوچاوا کے ایک ہسپتال منتقل کیا گیا لیکن وہ چند گھنٹے کے بعد چل بسا۔ پوسٹمارٹم کے نتیجے میں انکشاف ہوا کہ پانی بچے کے پھیپھڑوں میں داخل ہو گیا تھا۔

مقامی میڈیا کے مطابق ہسپتال کے ترجمان ڈان تھیوڈوروچ نے کہا: ’ گرجا گھر میں بپتسمہ کی رسم کے بعد ڈیڑھ ماہ کے بچے کی حرکت قلب بند ہو چکی تھی۔ ریسکیو سروس کے یونٹ نے موقعے پر پہنچ کر بچے کو طبی امداد فراہم کی۔ اسے تشویشناک حالت میں ہسپتال کے انتہائی نگہداشت کے یونٹ میں داخل کیا گیا جہاں ٹیوب لگا کر اسے سانس کے مصنوعی نظام پر رکھا گیا۔‘

بچے کے والد نے اخبار ’مونیٹورل ڈی سوچاوا‘ کو بتایا:  ’بچہ رو رہا تھا لیکن پادری نے اسے تین بار پانی میں ڈبویا اور اس نے پانی کے اندر سانس لی۔(میں) نے اسے ہٹایا، پونچھا اور مجھے ڈاکٹروں سے پتہ چلا کہ سانس کے راستے 110 ملی لیٹر پانی اس کے اندر چلا گیا۔ اگر آپ دیکھیں کہ کوئی بچہ منہ کھول اور رو رہا ہو تو آپ اسے مکمل طور پر پانی میں نہیں ڈبوئیں گے۔ کیا آپ ایسا کریں گے؟‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

پروسیکیوٹرز نے بپتسمہ کی رسم ادا کرنے والے پادری کے خلاف قتل کی تحقیقات شروع کردی ہیں۔ جمعرات کی رات تک 56 ہزار افراد نے آن لائن پٹیشن پر دستخط کیے، جس میں رسم تبدیل کرنے پر زور دیا گیا ہے۔

پٹیشن میں کہا گیا: ’اس عمل کی وجہ سے ایک نوزائیدہ بچے کی موت بہت بڑا سانحہ ہے۔ بپتسمہ کے لیے خطرے کو کسی صورت نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔‘

قبل ازیں اس ہفتے آرچ ڈیکن کے ادارے نے ایک بیان میں بچے کے والدین سے تعزیت کا اظہار کیا اور کہا:  ’کسی لفظ یا عمل سے آنسوؤں کو پونچھا نہیں جا سکتا اور نہ ہی والدین اور رشتہ داروں کے ٹوٹے ہوئے دل کی تکلیف کم کی جا سکتی ہے لیکن ہم مشکل کی اس خاص گھڑی میں ان کے ساتھ ہیں۔‘

رومانیہ میں چرچ کے ترجمان واسیلے بینس کو نے کہا کہ ’چرچ کو متوفی بچے کے خاندان سے گہری ہمدردی ہے، جو اس وقت بہت مشکل سے گزر رہا ہے اور ہم ان کے درد کو مکمل طور پر نہیں سمجھ سکتے۔‘

© The Independent

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا