سامنے سے ہٹ جاؤ، بیل آ رہا ہے

چین میں خاندانی نظام خاصا مضبوط ہے۔ چینی دنیا کے کسی بھی حصے میں رہ رہے ہوں، نئے سال سے قبل اپنے آبائی گھروں کو لوٹ جاتے ہیں۔

دیکھیں بیل کے سال کیا رنگ دکھاتا ہے (اے ایف پی)

چینی کیلنڈر کے نئے قمری سال کی آمد آمد ہے جس کی تیاریاں چین اور جنوب مشرقی ایشیا کے علاوہ دنیا بھر میں زور و شور سے کی جا رہی ہیں۔ یہ قمری سال 21 جنورری سے 20 فروری کے درمیان شروع ہوتا ہے۔

اس دفعہ اس کا آغاز 12 فروری یعنی آج سے دو دن بعد ہو رہا ہے۔ چینی کیلنڈر کے مطابق یہ ’بیل کا سال‘ ہے۔ پچھلا سال چوہے کا سال تھا۔ چینیوں نے اس کا بھی خوب جشن منایا تھا لیکن پھر پورے سال جو ہوا اس کے بعد وہ اس کے جانے کا بے تابی سے انتظار کر رہے ہیں۔

عام طور پر یہ سال چین کے حوالے سے جانا جاتا ہے لیکن یہ سال صرف چینیوں کا نہیں ہے بلکہ یہ ایشیا کے متعدد ممالک جیسے کہ جاپان، کوریا، ویت نام، ملیشیا، انڈونیشیا اور منگولیا میں بھی منایا جاتا ہے۔ چین میں نئے سال کے جشن کو سپرنگ فیسٹیول یعنی بہار کا تہوار کہا جاتا ہے۔ یہ چینیوں کا سب سے بڑا تہوار ہے۔ اس موقعے پر انہیں دو ہفتوں کی سالانہ چھٹیاں ملتی ہیں۔

چینی اپنے نئے سال کا جشن بالکل ویسے ہی مناتے ہیں جیسے ہم اپنی عید یا کسی بھی دوسرے تہوار کا جشن مناتے ہیں۔ چینی اس موقع پر پٹاخے پھوڑتے ہیں۔ آپ گوگل پر ’نیو لیونر ایئر‘ لکھیں تو کچھ پٹاخے وہاں بھی دکھائی دے جائیں گے۔ چینی نئے سال سے قبل نئے کپڑے اور جوتے خریدتے ہیں، گھروں کی صفائی ستھرائی کرتے ہیں، ایک دوسرے کو دینے کے لیے مٹھائی اور دیگر اشیا خریدتے ہیں اور شاید ہماری طرح ناراض رشتے داروں کو منانے کی رسم بھی ادا کرتے ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اس سلسلے میں کل کی رات بہت اہم ہے۔ چین میں خاندانی نظام خاصا مضبوط ہے۔ چینی دنیا کے کسی بھی حصے میں رہ رہے ہوں، نئے سال سے قبل اپنے آبائی گھروں کو لوٹ جاتے ہیں۔ اس سال بہت سے چینی کرونا کی وبا سے منسلک پابندیوں کی وجہ سے اپنے گھروں کو نہیں لوٹ سکیں گے۔ میرا دوست شُو پیشن اس سال نئے سال کا جشن اپنے گھر اور گھر والوں سے دور بیجنگ میں منائے گا۔ یہ اس کی زندگی میں پہلی بار ہو رہا ہے۔

اس نے بتایا کہ اسے بیجنگ سے باہر سفر کرنے کے لیے نیوکلیک ایسڈ ٹیسٹ کرانا ہو گا اور بیجنگ واپس آنے کے لیے بھی ٹیسٹ کروانا ہو گا، پھر 14 دن قرنطینہ میں بھی گزارنے ہوں گے۔ وہ صرف ایک جشن کے لیے اتنی کھکھیڑ میں نہیں پڑنا چاہتا۔

میں نے شُو پیشن سے پوچھا کہ اس کے گھر نئے سال کا جشن کیسے منایا جاتا ہے۔ اس نے بتایا کہ وہ چونکہ ایک مسلمان گھرانے سے تعلق رکھتا ہے تو اس کے گھر والوں کے لیے یہ موقع اتنا اہم نہیں ہے۔ تاہم وہ اس تہوار پر اکٹھے ضرور ہوتے ہیں اور مل کر ڈمپلنگز کھاتے ہیں کیونکہ ڈمپلنگز تو سب کے ہی ہوتے ہیں۔

نئے سال کے موقعے پر گھر کے بڑے افراد چھوٹے بچوں کو پیسوں سے بھرے سرخ لفافے دیتے ہیں جنہیں چینی زبان میں ’ہانگ باؤ‘ کہا جاتا ہے۔ چین میں ڈیجیٹل انقلاب کے بعد یہ رسم بھی اب ڈیجیٹل ہو چکی ہے۔ چینی میسجنگ ایپ وی چیٹ پر لوگ ایک دوسرے کو سرخ لفافہ بھیج سکتے ہیں جو وصول کنندہ کے ڈیجیٹل والٹ میں جمع ہو جاتا ہے۔ نوجوان نسل کھانے کے بعد کسی بار یا کے ٹی وی کا رخ کرتی ہے جہاں دیر رات تک ہلا گلہ جاری رہتا ہے۔

ہم جس طرح عید سے پہلے اپنے گھر کی تفصیلی صفائی کرتے ہیں، بالکل اسی طرح چینی بھی نئے سال سے قبل اپنے گھر کی صفائی ستھرائی  شروع کر دیتے ہیں۔ انہوں نے اس سالانہ صفائی ستھرائی کو بھی ایک فیسٹول بنایا ہوا ہے۔ اسے چینی زبان میں شیاؤ نیان یعنی چھوٹا نیا سال کہا جاتا ہے۔ اس سالانہ صفائی کا مقصد پچھلے سال کی بدقسمتی کو گھر سے نکالنا اور نئے سال کی خوش قسمتی کا استقبال کرنا ہوتا ہے۔

شُو پیشن نے بتایا کہ نئے سال سے ایک دن پہلے لوگ صبح سویرے اٹھتے ہیں اور ایک دوسرے کو نئے سال کی مبارک باد دیتے ہیں۔ اس موقع پر ریستوران عموماً بند ہوتے ہیں۔ چینی اپنے اپنے گھروں میں کھانے کا انتظام کرتے ہیں۔ شام کو پورا گھر مل کر ڈمپلنگز بناتا ہے جو سپرنگ فیسٹول گالا دیکھتے ہوئے کھائی جاتی ہیں۔

سپرنگ فیسٹول گالا جسے چینی زبان میں ’چھن وان‘ کہا جاتا ہے دنیا بھر میں دیکھا جانے والا سب سے بڑا تفریحی پروگرام ہے۔ یہ پروگرام ہر سال نئے قمری سال سے ایک شام قبل چین کے سرکاری ٹی وی چینل سی سی ٹی وی ون پر چائنا میڈیا گروپ کی طرف سے نشر کیا جاتا ہے۔ چینی رات کا کھانا گالا دیکھتے ہوئے کھاتے ہیں۔ اس سال کے گالا میں تھری ڈی اور فائیو جی ٹیکنالوجی کے ساتھ ساتھ مصنوعی ذہانت کا بھی استعمال کیا جائے گا۔

چین میں نئے قمری سال کی تقریبات تقریباً 15 دن تک جاری رہتی ہیں۔ 15ویں دن لالٹینوں کا میلہ منایا جاتا ہے جو سپرنگ فیسٹول کے بعد آنے والا پہلا بڑا میلہ ہے۔ اس پر لوگ سرخ رنگ کی لالٹینیں جلاتے ہیں۔ یہ فیسٹول نئے سال کی تقریبات کے اختتام کا بھی اعلان کرتا ہے۔

چوہے کا سال تو چین یا پھر ساری دنیا کے لیے خاصا منحوس ثابت ہوا، دیکھیں بیل کا سال کیا اس نحوست کو اپنے سینگوں پر رکھتا ہے یا نہیں۔ 

زیادہ پڑھی جانے والی بلاگ