کانگریس کے مسلمان رہنما ’پاکستان نہ آنا جن کی خوش قسمتی‘

بھارتی پارلیمان کے ایوان بالا یا راجیہ سبھا سے منگل کو سبکدوش ہونے والے 71 سالہ غلام نبی آزاد کی الوداعی تقریر اور وزیر اعظم نریندر مودی کا انہیں الوداع کرتے ہوئے آنسو بہانا بہت سے لوگوں کو حیران کر گیا ہے۔

(تصاویر: اے ایف پی)

بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں 2008 کے 'امرناتھ اراضی تنازع' کو 2010، 2012 اور 2016 کی احتجاجی تحریکوں کا محرک سمجھا جاتا ہے۔

2008 میں کشمیر کے اُس وقت کے وزیر اعلیٰ غلام نبی آزاد اور بھارت کی وفاقی کانگریس کی حکومت نے خاموشی سے وادی میں 99 ایکڑ جنگل اراضی ہندوؤں کی سالانہ 'شری امرناتھ جی یاترا' کا انتظام و انصرام دیکھنے والے بورڈ کو منتقل کر دیا تھا۔

سری نگر سے شائع ہونے والے اخبارات میں اس متنازع ڈیل کی خبر چھپتے ہی کشمیر بھر میں پُرتشدد احتجاجی لہر شروع ہوئی تھی جو درجنوں کشمیریوں کی ہلاکت، کشمیر کی اقتصادی ناکہ بندی اور غلام نبی آزاد کی حکومت کے خاتمے کا سبب بن گئی تھی۔

ایک دوراندیش سیاستدان سمجھے جانے والے غلام نبی آزاد تب بے بس نظر آئے کیونکہ وہ اپنی اتحادی جماعت پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کا ساتھ برقرار رکھ سکے نہ اپنی کرسی بچا سکے۔

غلام نبی آزاد کو کانگریس پارٹی کی ساڑھے تین دہائیوں تک خدمت کے بعد اپنی آبائی ریاست کی بحیثیت وزیر اعلیٰ خدمت کرنے کا موقع ہاتھ آیا تھا لیکن ’شری امرناتھ جی شرائن بورڈ‘ کو جنگل اراضی منتقل کرنے کے ایک متنازع فیصلے سے نہ صرف ان کی ذاتی ساکھ متاثر ہوئی تھی بلکہ انہیں پھر سے دہلی لوٹنا پڑا تھا۔

کشمیر میں اکثر لوگوں کا کہنا ہے کہ اگر غلام نبی آزاد 2008 میں جنگل اراضی کی ’متنازع منتقلی‘ سے خود کو بچاتے تو وہ آج بھی بہترین وزیر اعلیٰ کے طور پر جانے جاتے کیونکہ انہوں نے یہاں ہر طرف تعمیر و ترقی کا جال بچھانا شروع کر دیا تھا۔

لوگوں کی اکثریت کا یہ بھی ماننا ہے کہ 2008 کی 'امرناتھ اراضی تنازع ایجی ٹیشن' نے کشمیر میں 'آزادی' کے مطالبے میں ایک نئی جان ڈال دی تھی اور اسی سے متاثر ہو کر 2010 اور 2016 میں بالترتیب فرضی تصادم اور برہان وانی کی ہلاکت کے خلاف بڑے پیمانے پر احتجاجی تحریکیں چلیں جو سینکڑوں کشمیری نوجوانوں کی ہلاکت اور ہزاروں افراد کو جزوی یا کلی طور پر نابینا کرنے کا سبب بنیں۔

 کانگریس کا ’مسلمان‘ چہرہ

بھارتی پارلیمان کے ایوان بالا یا راجیہ سبھا سے منگل کو سبکدوش ہونے والے 71 سالہ غلام نبی آزاد کی الوداعی تقریر اور وزیر اعظم نریندر مودی کا انہیں الوداع کرتے ہوئے آنسو بہانا بہت سے لوگوں کو حیران کر گیا ہے۔

وہ ایوان بالا میں حزب اختلاف کے رہنما تھے۔ اگرچہ کانگریس پارٹی نے یہ نہیں کہا ہے کہ آزاد کو دوبارہ راجیہ سبھا کا رکن بننے کا موقع دیا جائے گا یا نہیں لیکن جذباتی الوداعی تقریب سے اخذ کیا جا رہا ہے کہ اُن کو دوبارہ منتخب کیا جانا مشکل ہے۔

غلام نبی آزاد کانگریس پارٹی کا ایک ایسا ’مسلمان‘ چہرہ تھا جس کو وہ ہندو اکثریتی علاقوں میں بھی انتخابی مہم کے لیے استعمال کرتی تھی۔ تاہم بھارت میں بی جے پی اور 'ہندو نیشنلسٹ سیاست' کے عروج کے بعد کانگریس نے انہیں مبینہ طور پر نظرانداز کرنا شروع کر دیا۔

آزاد نے 2018 میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں یوم سر سید کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’یوتھ کانگریس کے دنوں سے لے کر اب تک میں نے ملک بھر میں پارٹی کے لیے انتخابی مہم چلائی ہے لیکن اب پارٹی کے امیدوار مجھے ہندو اکثریتی علاقوں میں بلانے سے ڈرتے ہیں۔ انہیں لگتا ہے کہ اگر میں انتخابی مہم کا حصہ بن گیا تو پتہ نہیں اس کا رائے دہندگان پر کیا اثر ہو گا۔‘

48 برسوں سے کانگریس سے جڑے غلام نبی آزاد کم از کم چار دہائیوں تک گاندھی خاندان کے بہت قریب رہے۔ لیکن 'ہندو نیشنلسٹ سیاست' کے عروج کے بعد وہ پارٹی کی جانب سے اختیار کی جانے والی پالیسی اور تنظیمی ڈھانچے سے ناخوش نظر آئے۔

گذشتہ برس اگست میں غلام نبی آزاد سمیت کانگریس کے 23 سینیئر قائدین نے پارٹی سرپرست سونیا گاندھی کو ایک مکتوب روانہ کیا تھا جس میں پارٹی کے تنظیمی ڈھانچے میں تبدیلیوں بشمول تنظیمی انتخابات کے انعقاد کی مانگ کی گئی تھی۔

آزاد کی علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں تقریر، پارٹی سرپرست کے نام مکتوب بھیجنا، پارٹی رہنماؤں کی پرتعیش زندگی گزارنے پر سوال اٹھانا جیسے معاملات کو چھیڑنے کی وجہ سے کانگریس کے کئی لیڈران سے ناراض ہیں۔

بھارتی پارلیمان میں بی جے پی حکومت کی پالیسیوں کے خلاف بولنے کے باوجود غلام نبی آزاد پر کچھ اپنے پارٹی رہنما وزیر اعظم نریندر مودی اور ان کی حکومت کے لیے سافٹ کارنر رکھنے کا الزام لگا رہے ہیں۔

انہوں نے اگست 2019 میں کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت کے خاتمے اور ریاست کی دو حصوں میں تقسیم کے خلاف سخت احتجاج درج کرتے ہوئے مودی حکومت پر آئین کو قتل کرنے کا الزام لگایا تھا۔

انڈپینڈنٹ اردو نے جب کشمیر کے ایک سینیئر کانگریس رہنما سے غلام نبی آزاد کا رابطہ نمبر مانگا تو ان کا کچھ یوں کہنا تھا: ’کیا آپ اُس رہنما کا نمبر مانگ رہے ہیں جو کبھی پاکستان نہیں گیا ہے، جس کی تعریف کرتے ہوئے مودی روتے ہیں؟‘

مذکورہ کانگریسی لیڈر بظاہر بہت غصے میں تھے۔ انہوں نے آزاد کا رابطہ نمبر تو دیا لیکن مسلسل کوششوں کے باوجود بھی ان سے رابطہ قائم نہ ہو سکا۔

کشمیر سے ہی تعلق رکھنے والے ایک اور کانگریس لیڈر نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ غلام نبی آزاد کو سمجھنا مشکل ہے۔ 'وہ ایک چالاک اور ہوشیار سیاستدان ہیں۔ کبھی کسی سے ذاتی دشمنی مول نہیں لیتے۔ مجھے آج لگ رہا تھا جیسے کسی بی جے پی لیڈر کو وداع کیا جا رہا ہے۔'

 ’بھارتی مسلمان ہونے پر فخر‘

غلام نبی آزاد نے راجیہ سبھا میں اپنے الوداعی تقریر میں کہا کہ وہ خوش قسمت ہیں کہ کبھی پاکستان نہیں گئے ہیں کیونکہ بقول ان کے وہاں کے حالات دیکھ کر انہیں اپنے بھارتی مسلمان ہونے پر فخر ہوتا ہے۔

ان کا کہنا تھا: 'میں وہ خوش قسمت انسان ہوں جو پاکستان کبھی نہیں گیا ہے۔ جب میں پڑھتا ہوں کہ وہاں کس طرح کے حالات ہیں تو مجھے فخر محسوس ہوتا ہے کہ ہم ہندوستانی مسلمان ہیں۔ دنیا میں اگر کسی مسلمان کو فخر ہونا چاہیے تو وہ ہندوستانی مسلمان ہے۔ ہم دیکھ رہے ہیں کہ کس طرح مسلم ممالک ایک دوسرے سے لڑائی کر کے ختم ہوتے جا رہے ہیں۔ وہاں ہندو یا عیسائی نہیں ہیں۔

’سننے میں آیا ہے کہ پاکستانی بہت ہمدرد ہیں۔ لیکن وہاں کے سماج میں جو برائیاں ہیں۔ خدا ہندوستانی مسلمانوں کو ان برائیوں سے بچائے رکھے۔ یہاں اکثریتی طبقے (ہندوؤں) کو بھی دو قدم آگے بڑھنے کی ضرورت ہے۔‘

غلام نبی آزاد اپنی تقریر کے دوران اُس وقت جذباتی ہو کر رو پڑے جب انہوں نے سری نگر میں 25 مئی 2006 کو ہونے والے مبینہ عسکریت پسندوں کے حملے کا تذکرہ کیا جس میں نریندر مودی کی آبائی ریاست گجرات سے تعلق رکھنے والے چار سیاح ہلاک جبکہ چھ دیگر زخمی ہوئے تھے۔

'جب میں ایئرپورٹ پہنچا تو وہاں گجرات کے بچے روتے روتے میری ٹانگوں سے لپٹ گئے۔ میری چیخیں نکل آئیں۔ آج ہم اللہ اور بھگوان سے یہی دعا کرتے ہیں کہ اس ملک سے ملی ٹینسی ختم ہو جائے۔'

پارلیمان میں وزیر اعظم مودی نے غلام نبی آزاد کو الوداع کرتے ہوئے گجرات کے سیاحوں پر حملے کی یادیں تازہ کیں اور اس بات پر آنسو بہائے کہ کس طرح آزاد نے کشمیر کے وزیر اعلیٰ کی حیثیت سے سیاحوں کی لاشیں واپس بھیجیں اور زخمی یا زندہ بچننے والوں کی مدد کی۔

انہوں نے غلام نبی آزاد کی راجیہ سبھا میں حزب اختلاف کے رہنما کی حیثیت سے انجام دی گئی خدمات اور ان کے سرکاری بنگلے کے باغیچے کی جم کر تعریف کرتے ہوئے کہا کہ 'ان کے لیے میرے دروازے ہمیشہ کھلے ہیں'۔

کشمیر کے ڈوڈہ سے دہلی تک

غلام نبی آزاد کا تعلق کشمیر کے ضلع ڈوڈہ سے ہے۔ انہوں نے اپنے آبائی گاؤں سوتی میں ہی ابتدائی تعلیم حاصل کرنے کے بعد گورنمنٹ گاندھی میموریل سائنس کالج جموں سے بی ایس سی کی ڈگری اور اس کے بعد کشمیر یونیورسٹی سے سال 1972 میں 'حیوانیات' میں پوسٹ گریجویشن کی ڈگری حاصل کی۔

غلام نبی آزاد نے تعلیم مکمل کرنے کے بعد سال 1980 میں معروف کشمیری گلوکارہ شمیمہ دیو سے شادی کی۔ ان کا ایک بیٹا صدام نبی آزاد اور ایک بیٹی صوفیہ نبی آزاد ہیں۔

انہوں نے اپنے سیاسی کیریئر کا آغاز کانگریس پارٹی میں شمولیت اختیار کر کے کیا اور انہیں سال 1973 میں ضلع ڈوڈہ کے بھلیسہ بلاک کی کانگریس کمیٹی کا سکریٹری منتخب کیا گیا۔

آزاد نے سیاسی میدان میں قدم رکھنے کے روز اول سے ہی اپنی قائدانہ صلاحیتوں اور سیاسی سوجھ بوجھ کا بھر پور مظاہرہ کیا جس کے پیش نظر انہیں سال 1975 میں ہی جموں و کشمیر پردیش یوتھ کانگریس کا صدر مقرر کیا گیا اور بعد ازاں سال 1980 میں آل انڈیا یوتھ کانگریس کا صدر مقرر کیا گیا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

غلام نبی آزاد نے سال 1980 میں ہی بھارت کی وفاقی حکومت میں اُس وقت قدم رکھے جب انہیں مہاراشٹر کی واشم لوک سبھا نشست سے ساتویں لوک سبھا کے لیے رکن منتخب کیا گیا۔

سال 1984 میں انہیں آٹھویں لوک سنبھا کا بھی رکن چنا گیا اور نرسمہا رائو کی قیادت والی وفاقی حکومت کے دوران انہوں نے وزیر برائے پارلیمانی امور اور وزیر برائے شہری ہوائی بازی کے قلمدان سنبھالے۔

وہ جموں وکشمیر سے 30 نومبر 1996 سے 29 نومبر 2002 اور پھر 30 نومبر 2002 سے 29 نومبر 2008 تک راجیہ سبھا کے رکن رہے۔

غلام نبی آزاد 2 نومبر 2005 کو راجیہ سبھا کی رکنیت سے مستعفی ہو کر جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ کے عہدے پر فائز ہوئے۔

منموہن سنگھ کی قیدت والی وفاقی حکومت کے دوران غلام نبی آزاد وزیر صحت رہے اور اسی حکومت کے دوران وہ 27 اکتوبر 2005 تک پارلیمانی امور کے بھی وزیر رہے۔

سال 2014 میں بی جے پی کی قیادت میں وفاقی حکومت تشکیل پائی اور آزاد کو راجیہ سبھا میں قائد حزب اختلاف بنایا گیا۔

زیادہ پڑھی جانے والی ایشیا