لاہور میں لگژری گاڑیوں کا ’فراڈ‘: انٹرپول سے رابطے کی تیاریاں

پورشے کا شوروم بنا کر گاڑیاں فروخت کرنے والے ڈیلر ابوذربخاری مبینہ طور پر گاہکوں کے 80 کروڑ روپے لے کر لندن روپوش ہو گئے۔

(اے ایف پی فائل فوٹو)

لاہور میں مشہور جرمن کمپنی پورشے کا واحد شوروم بنا کر گاڑیاں فروخت کرنے والے ڈیلر ابوذربخاری مبینہ طور پر گاہکوں کے 80 کروڑ روپے لے کر لندن روپوش ہو گئے۔

ایڈوانس رقم جمع کروا کر لگژری گاڑیاں بک کرانے والے کئی بااثرافراد بھی بے بس ہوگئے۔ انہوں نے پولیس، فیڈرل انوسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) اور قومی احتساب بیورو (نیب) میں درخواستیں دیں لیکن ابھی تک ملزم گرفتار ہو سکا اور نہ ان کی رقوم واپس ملنے کی کوئی امید نظر آ رہی ہے۔

لگژری گاڑی پورشے کے نئے ماڈل کی گاڑیاں خریدنے کے 15 خواہش مند سرمایہ دار سامنے آئے ہیں، جنہوں نے لاہور کے تھانہ غالب مارکیٹ، گلبرک، سرور روڑ، نصیر آباد و دیگر میں مقدمات درج کرائے ہیں۔

ان متاثرین میں ایک نجی نیوز چینل کا مالک اور بڑی کمپنیوں کے مالکان بھی شامل ہیں لیکن ان سمیت کئی متاثرین نے مقدمہ درج نہیں کرایا اور صرف زبانی شکایت کی ہے۔

ادھر نیب لاہور نے اس بارے میں درخواستوں کی تصدیق کا عمل شروع کرتے ہوئے مزید متاثرین سے درخواستیں دینے کے لیے اشتہار جاری کردیا ہے۔

فراڈ کیسے ہوا؟

لاہور کے رہائشی اور پورشے گاڑی بک کرانے والے میاں محمد علی معین کے مطابق پورشے نے پاکستان میں پہلی الیکٹرک کار پورشے ٹائیکان (PORCHE TAYCAN 4S) کے نام سے متعارف کرائی۔ انہوں نے ابوذر بخاری کے شوروم سے 15اپریل، 2019 کو گاڑی بک کرائی اور50 لاکھ روپے ایڈوانس کا پے آرڈر دیا۔

علی کے مطابق انہیں شوروم پر گاڑی بھی دکھائی گئی اور کہا گیا کہ اگر کمپنی سے ان کی گاڑی جلد نہ آئی تو وہ یہی گاڑی انہیں دے دیں گے۔ معین نے بتایا کہ ڈیلر تاخیر کرنے لگے اور کبھی دو تو کبھی تین مہینے کا وقت مانگا، پھر ابوذر نے کہنا شروع کر دیا کہ کرونا وبا کی وجہ سے گاڑیاں نہیں مل رہیں، اسی طرح کے کئی بہانے کرنے کے بعد آخر کار انہوں نے فون اٹھانا ہی بند کر دیا۔

علی نے مزید بتایا کہ انہوں نے پہلی بار اس شوروم کے ذریعے گاڑی بک کرائی تھی، جس کی تمام دستاویزات ان کے پاس موجود ہیں، انہیں بالکل اندازہ نہیں تھا کہ اس قسم کا ’فراڈ‘ بھی ہو سکتا ہے۔

تھانہ گلبرگ میں ایف آئی آر درج کرانے والے علی کہتے ہیں کہ وہ مزید 10 متاثرین کو جانتے ہیں، جنھوں نے ملزم کے خلاف مقدمات درج کرائے تو وہ پہلے دبئی فرار ہوئے اور پھر وہاں سے لندن چلے گئے۔

علی نے بتایا کہ انہوں نے پورشے کمپنی جرمنی کو ای میل کی تو جواب ملا کہ کمپنی نے ابوذر بخاری کی ڈیلر شپ منسوخ کر دی ہے اور وہ اس کے علاوہ کچھ نہیں کرسکتے۔

کمپنی نے ای میل پر وضاحت کی کہ انہوں نے ایجنٹ اور ان کی کمپنی پرفارمنس آٹوموٹیو پرائیویٹ لمیٹڈ (پورشے سینٹر لاہور) کےغیر ذمہ دارانہ رویے کے خلاف کئی ماہ پہلے پاکستان اور عالمی عدالت انصاف میں درخواستیں دائر کر رکھی ہیں اور وہ اس کیس میں ہر طرح کے قانونی تعاون کے لیے تیار ہیں۔

قانونی کارروائی کہاں تک پہنچی؟

جب انڈپینڈنٹ اردو نے ایس پی حفیظ الرحمٰن بگٹی سے پوچھا کہ ملزم کی گرفتاری اور رقوم کی برآمدگی کے لیے کیا کیا جا رہا ہے؟ تو انہوں نے بتایا کہ متاثرین پہلے اپنے طور پر ملزم سے معاملات طے کرتے رہے جس میں ناکامی کے بعد اب مقدمات درج کرائے گئے ہیں تو ہم نے قانونی کارروائی کا آغاز کردیا ہے، جب پولیس نے کارروائی شروع کی تو معلوم ہوا کہ ملزم بیرون ملک فرار ہو چکا ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انہوں نے بتایا کہ ملزم نے کینٹ میں شوروم بنا رکھا تھا جبکہ بکنگ آفس کئی جگہ بنائے ہوئے تھے، جب پولیس کو شکایت ملی تو ملزم کے گھر، دفاتر اور شوروم پر چھاپے مارے گئے لیکن وہاں صرف ملازم موجود تھے۔

انہوں نے کہا کہ ابتدائی طور پر معلومات ملی ہیں کہ ملزم پہلے دبئی اور پھر لندن روپوش ہوگیا ہے لہٰذا ایف آئی اے کی مدد سے انٹر پول کے ذریعے گرفتاری کو ممکن بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

نیب لاہور کے ترجمان محمد ذیشان نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ نیب کو اس حوالے سے کئی درخواستیں موصول ہوچکی ہیں، جن کی چھان بین شروع ہے۔ ’نیب نے 15 روز میں متاثرین سے مصدقہ دستاویزی ثبوتوں کے ساتھ درخواستیں طلب کی ہیں تاکہ اس معاملے کی انکوائری شروع کی جائے۔‘

کمپنی کی وضاحت

پورشے پاکستان نے اپنے وضاحت بیان میں کہا ہے کہ پورشے پاکستان کے چیف ایگزیکٹیو آفیسر کے پاس ایسی کوئی رقم نہیں جس کا میڈیا میں ذکر کیا جا رہا ہے۔ ’پورشے پاکستان نے پورشے اے جی کو اپنا ایجنٹ مقرر کیا تھا، اسی ایجنٹ کے ذریعے پورشے پاکستان نے تمام رقوم قانونی ذرائع سے وصول کیں۔ ’ہمارا موقف ہے کہ پورشے اے جی نے دو سالوں میں ہمارے پاکستانی صارفین کو غیر قانونی طور پر گاڑیاں فراہم کرنے سے انکار کیا۔‘

پورشے پاکستان نے پورشے اے جی کے غیر ذمہ دارانہ فعل کو ملک میں موجود تمام فورمز پر چیلنج کر رکھا ہے اور2020  کے وسط سے پورشے پاکستان نے لندن کی عالمی عدالت انصاف میں پورشے اے جی کے خلاف مقدمہ بھی دائر کیا، جس کا جلد فیصلہ متوقع ہے ۔

کمپنی کے تحریری وضاحت نامے میں مزید کہا گیا کہ ’ہمارا یقین ہے کہ صارفین کو گاڑیاں فراہم نہ کرنے کا عمل ہمیں دیوالیہ کرنے اور ہمارا کاروبار بااثر اور متنازع حریف کے حوالے کرنے کی کوشش ہے۔ پورشے پاکستان اور اس کی قانونی ٹیم متعلقہ افراد اور تحقیقات کرنے کے جواب دینے کے لیے ہر طرح سے حاضر ہے۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان