سدپارہ کی موت کی تصدیق: ’ہمیشہ کے لیے کے ٹو میں دفن ہوگئے‘

علی سد پارہ کے بیٹے ساجد سدپارہ اور گلگت بلتستان کے وزیر سیاحت راجہ ناصر علی خان نے جمعرات کو مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران بتایا کہ پانچ فروری سے لاپتہ کوہ پیما علی سدپارہ کو ممکنہ طور پر مردہ قرار دے دیا گیا ہے۔

پاکستانی کوہ پیما علی سدپارہ اور دیگر دو کوہ پیما پانچ فروری سے لاپتہ  تھے (تصویر: ٹوئٹر)

گلگت بلتستان میں واقع دنیا کی دوسری بلند ترین چوٹی کے ٹو سر کرنے کی سرمائی مہم کے دوران لاپتہ ہونے والے کوہ پیما علی سدپارہ کے بیٹے ساجد سدپارہ نے اپنے والد کے موت کی تصدیق کر دی ہے۔

ساجد سدپارہ اور گلگت بلتستان کے وزیر سیاحت راجہ ناصر علی خان نے جمعرات کو مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران بتایا کہ پانچ فروری سے لاپتہ کوہ پیما علی سدپارہ کو ممکنہ طور پر مردہ قرار دے دیا گیا ہے۔

اس موقع پر ساجد سدپارہ کا کہنا تھا کہ وہ اپنے والد کا مشن جاری رکھیں گے اور ان کے خواب پورے کریں گے۔

علی سد پارہ سمیت دو غیر ملکی کوہ پیما جان سنوری اور جے پی موہر پانچ فروری کی رات سے کے ٹو چوٹی سر کرنے کے آخری مرحلے میں داخل ہو چکے تھے، تاہم چوٹی سے چند سو میٹر کے فاصلے پر ان کے ٹریکر نے کام کرنا بند کردیا، جس کے بعد سے ان سے کوئی رابطہ نہیں ہو سکا تھا۔

ساجد سدپارہ بھی اپنے والد کے ساتھ کے ٹو کی سرمائی مہم کا حصہ تھے، تاہم طبیعت کی خرابی اور آکسیجن سلینڈر کا ریگولیٹر لیک ہونے کے باعث وہ پہلے بیس کیمپ اور پھر سات فروری کو بذریعہ ہیلی کاپٹر سکردو آگئے تھے۔

واپس آنے کے بعد میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو میں ساجد نے بتایا تھا کہ انہوں نے آخری بار اپنے والد کو 8200 میٹر کی بلندی پر دیکھا تھا۔

واضح رہے کہ 8200 میٹر کی بلندی پر باٹل نیک کا مقام ہے، جو کیمپ چار کے بعد آتا ہے۔ یہ انتہائی دشوار گزار راستہ ہے جس کے بعد کے ٹو کی چوٹی صرف 411 میٹر کے فاصلے پر تھی۔

ساجد سد پارہ نے بتایا تھا کہ وہ پُر یقین ہیں کہ علی سد پارہ کی ٹیم نے کے ٹو کی چوٹی سر کر لی تھی اور واپسی پر موسم کی خرابی اور تیز ہواؤں کی وجہ سے کوئی واقعہ رونما ہوا ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’دو تین دن سے زیادہ وقت گزر جائے تو سرد موسم کی شدت کے ساتھ 8000 میٹر سے زائد کی بلندی پر کسی بھی انسان کے زندہ بچنے کے امکانات بہت کم رہ جاتے ہیں لیکن باڈی کی سرچ کے لیے ریسکیو آپریشن جاری رہنا چاہیے۔‘

لاپتہ کوہ پیماؤں کی تلاش میں پاکستانی آرمی کے ہیلی کاپٹروں سمیت نیپالی کوہ پیماؤں نے بھی حصہ لیا، تاہم کوئی کامیابی نہیں مل سکی۔

کوہ پیماؤں کی تلاش کے دوران موسم کی خرابی کے سبب مشکلات کا سامنا رہا اور کے ٹو کے قرب جوار میں برفباری اور گہرے بادلوں کے سبب پرواز میں بھی مشکلات کا سامنا رہا۔

کے ٹو کو اکثر ’قاتل پہاڑ‘ بھی کہا جاتا ہے کیوں کہ 86 کوہ پیما اس کو سر کرنے کی کوشش میں اپنی زندگیوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔

واضح رہے کہ 16 جنوری کو 10 نیپالی کوہ پیماؤں کے ایک گروپ نے موسم سرما میں دنیا کے دوسرے بلند ترین پہاڑ کو پہلی بار سر کرکے تاریخ رقم کی تھی۔

علی سدپارہ کی موت کی تصدیق کے بعد سوشل میڈیا پر لوگ انہیں خراج عقیدت پیش کر رہے ہیں۔

سید علی حیدر عابدی نے ٹوئٹر پر لکھا: ’مین آف کے ٹو ہمیشہ کے لیے کے ٹو میں دفن ہوگیا۔‘

جہانزیب نامی ایک صارف نے لکھا: ’پاکستان ایک اور لیجنڈ سے محروم ہوگیا۔‘

محمد طلحہ نے علی سدپارہ کو ’کے ٹو کا بیٹا‘ قرار دیتے ہوئے ان کی مغفرت کے لیے دعا کی۔

 

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان