میری زندگی میں طالبان کا عبوری حکومت کا مطالبہ پورا نہیں ہو گا: افغان صدر

اشرف غنی نے عبوری حکومت کے حامیوں کو متنبہ کرتے ہوئے کہا کہ ’جب میں جانتا ہوں کہ افغان عوام اور سکیورٹی افسران اس کے لیے راضی نہیں تو میں بھی کسی دباؤ میں نہیں آ سکتا۔‘

دوحہ میں طالبان اور اپوزیشن کے متعدد سیاست دانوں نے صدر غنی سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ دوحہ میں بین الاقوامی امن مذاکرات کے پہلے دور کے اختتام کے بعد عہدہ چھوڑ کر ایک عبوری حکومت قائم کریں(اے ایف پی)

صدر اشرف غنی نے افغانستان میں ’عبوری حکومت‘ کے قیام کی مخالفت کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ جب تک وہ زندہ ہیں ملک میں اس طرح کی حکومت بننے نہیں دیں گے۔

افغان سکیورٹی فورسز کے ہلاک ہونے والے اہلکاروں کے لواحقین کے ساتھ ٹیلیفون پر گفتگو میں غنی نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا: ’جب تک میں زندہ ہوں طالبان کبھی بھی عبوری حکومت قائم کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکتے۔‘

انہوں نے ملک میں عبوری حکومت کے حامیوں کو متنبہ کرتے ہوئے کہا کہ ’جب میں یہ جانتا ہوں کہ افغان عوام اور ہمارے سکیورٹی افسران ایسی کسی بھی حکومت کے لیے راضی نہیں ہیں تو میں بھی کسی دباؤ میں نہیں جھک سکتا۔‘

افغانستان میں عبوری حکومت کے قیام کی صدر غنی کی واضح مخالفت اس وقت سامنے آئی ہے جب دوحہ میں طالبان اور اپوزیشن کے متعدد سیاست دانوں نے صدر غنی سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ دوحہ میں بین الاقوامی امن مذاکرات کے پہلے دور کے اختتام کے بعد عہدہ چھوڑ کر ایک عبوری حکومت قائم کریں۔

حال ہی میں روس کا دورہ کرنے والی طالبان کی مذاکراتی ٹیم نے میڈیا کو بتایا تھا کہ ’اگر اشرف غنی نے دست برداری اختیار کی اور وہ عبوری حکومت تشکیل دینے پر راضی ہوجائیں تو ہم جلد ہی جنگ بندی اور افغان مذاکراتی ٹیم کے ساتھ سیاسی معاہدہ کر لیں گے بصورت دیگر جنگ جاری رہے گی۔‘

مقامی ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کو انٹرویو دیتے ہوئے افغان حکومت کی مذاکراتی ٹیم کے متعدد ارکان نے بھی اس بات پر زور دیا کہ طالبان چاہتے ہیں کہ صدر غنی اپنا عہدہ چھوڑ دیں اور عبوری حکومت قائم کریں، اگر وہ ایسا نہیں کرتے تو دوحہ مذاکرات کے نتائج برآمد نہیں ہوں گے اور طالبان کے ساتھ کوئی معاہدہ طے نہیں پا سکے گا۔

افغان پارلیمان کے سپیکر رحمانی نے بھی عبوری حکومت کے قیام کے بڑھتے ہوئے مطالبات کی تصدیق کرتے ہوئے زور دیا کہ صدر غنی موجودہ حکومت سے الگ ہوجائیں اور عبوری حکومت تشکیل دیں۔

رحمانی کے اس بیان پر ایوان نمائندگان، افغان حکومت کے عہدے داروں اور افغان شہریوں نے شدید ردعمل کا اظہار کیا ہے۔عبداللہ عبداللہ نے، جنھیں ملک میں عبوری حکومت کا حامی سمجھا جاتا ہے، بھی اس طرح کے اقدام کی مخالفت کی ہے۔

اپنے ایک بیان میں عبداللہ عبداللہ نے کہا: ’عبوری حکومت افغانستان میں موجودہ مسائل کا حل نہیں۔ طالبان کے لیے ضروری ہے کہ وہ اس مسئلے کو بنیادی طور پر حل کرنے کے لیے افغان حکومت کی امن مذاکرات کرنے والی ٹیم کے ساتھ بیٹھیں اور ایک سیاسی معاہدے پر اتفاق کریں۔‘

افغانستان کے پہلے نائب صدر امراللہ صالح نے بھی عبوری حکومت کی تشکیل کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ ’طالبان انتخابات سے کیوں خوف زدہ ہیں؟‘

انہوں نے زور دے کر کہا کہ ’طالبان دھونس کی بجائے انتخابات کے ذریعے اقتدار حاصل کریں۔ طالبان کی لغت میں کبھی بھی ’انتخابات‘ اور ’قومی اتفاق رائے‘ جیسی اصطلاح کا ذکر کیوں نہیں کیا جاتا؟ طالبان سیاسی طور پر ناکام ہوگئے ہیں کیونکہ سیاسی طور پر انہوں نے عوام کو تشدد اور پھر قتل و غارت کے سوا کوئی پیغام نہیں دیا۔‘

صالح نے مزید کہا کہ طالبان کو یہ بتائیں کہ کئی دہائیوں سے جنگ و جدل کا سامنا کرنے اور قربانی دینے والے افغانستان کے عوام کی خواہش کا خلاصہ اگر ایک لفظ میں کیا تو وہ لفظ ’انتخابات‘ ہے۔

صالح نے طالبان پر زور دیا کہ تشدد، بغاوت، سازش یا کسی بھی دوسرے ذریعے سے عوام پر زبردستی کرنے کا دور گزر چکا اور ان چیزوں سے استحکام اور امن نہیں لایا جا سکتا۔

افغانستان کے عوام نے بھی عبوری حکومت کے قیام کی مخالفت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس طرح کے نظام کی تشکیل کا مطلب افغانستان کو پیچھے دھکیلنا ہوگا اور یہ کہ گذشتہ برسوں میں دی گئی قربانیوں کے تمام ثمرات ختم ہوجائیں گے۔

عوام عبوری حکومت کے حامیوں کو غیرملکیوں کے جاسوس سمجھتے ہیں اور اس بات پر زور دیتے ہیں کہ عبوری حکومت کے خواہاں افغانی ان ملک دشمنوں کے آلہ کار بن چکے ہیں جو اپنے مذموم مقاصد کے حصول کی کوشش کر رہے ہیں۔

کابل کے رہائشی جمشید عثمانی نے انڈپینڈنٹ فارسی سے گفتگو میں کہا: ’عوام کی نظر میں طالبان اور عبوری حکومت کے قیام کی حمایت کرنے والے غیر ملکی جاسوس ہیں۔ ہم صدرغنی کا اس حوالے سے جواب سننے کے منتظر ہیں۔ کیا وہ یہ خوف ناک منصوبے ہم پر مسلط کر دیں گے؟

’ہمیں عبوری حکومت کا تجربہ ہے، وہ وقت گزر گیا۔ افغانستان اب تمام شعبوں میں ترقی کر رہا ہے۔ عبوری حکومت کی تشکیل کے ساتھ ہی ان سب کو نظرانداز کرنا کیسے ممکن ہے؟ میں جانتا ہوں کہ مجھ جیسے لاکھوں افغانی عبوری حکومت کو قوم کے لیے زہر سمجھتے ہیں۔‘

کابل کے ایک اور رہائشی مرسل صالح نے کہا: ’عبوری حکومت کا قیام صرف طالبان، ان کے غیر ملکی حمایتی، عسکریت پسندوں اور دوسرے ملکوں کے مفادات کے لیے کام کرنے والے سیاست دانوں اور بیرونی لوگوں کا ہی مطالبہ ہو سکتا ہے لیکن ملک کے عظیم عوام کبھی بھی پیچھے نہیں ہٹیں گے۔

’عبوری حکومت ایک تاریک ماضی ہے۔ اب سب کچھ تبدیل ہو رہا ہے اور اس سے افغانستان کو پستی کی جانب دھکیلا جا رہا ہے۔ اگر طالبان اقتدار میں آنا چاہتے ہیں تو انہیں پہلے حکومت سے سمجھوتہ کرنا ہوگا، لڑائی اور قتل و غارت کو روکنا ہوگا اور انتخابات کے ذریعے اقتدار میں آنا ہوگا۔ اگر قوم ان سے پیار کرتی ہے تو وہ یقیناً انہیں ووٹ دیں گے۔ انہیں عارضی نظام کی تشکیل کے بارے میں نہیں سوچنا چاہیے۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی ایشیا