حمزہ شہباز کی بینڈ باجوں کے ساتھ واپسی

مسلم لیگ ن نے انہیں ریلی کے ساتھ ماڈل ٹاؤن رہائش گاہ لانے کا فیصلہ کیا اور مریم نواز، مریم اورنگزیب، پرویز رشید و دیگر قائدین انہیں لینے کے لیے جیل کے باہر پہنچے۔

پنجاب کے اپوزیشن لیڈر حمزہ شہباز کی لاہور ہائیکورٹ سے ضمانت کے بعد رہائی کی روبکار جاری کی گئی جس پر انہیں سنیچر کو رہا کر دیا گیا ہے۔

حمزہ شہباز کو منی لانڈرنگ اور آمدن سے زائد اثاثہ جات کیس میں حراست میں لیا گیا تھا۔

لاہور ہائیکورٹ نے جمعرات کو دونوں کیسز میں ایک، ایک کروڑ روپے مالیت کے دو مچلکے جمع کرانے پر انہیں ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دیا تھا۔

مسلم لیگ ن رہنماؤں کی جانب سے مچلکے جمع کرا دیے گئے جو احتساب عدالت نے ہفتے کو منظور کرتے ہوئے رہائی کی روبکار جاری کر دی اور اس طرح انہیں کوٹ لکھپت جیل سے رہائی مل گئی۔

مسلم لیگ ن نے انہیں ریلی کے ساتھ ماڈل ٹاؤن رہائش گاہ لانے کا فیصلہ کیا اور مریم نواز، مریم اورنگزیب، پرویز رشید و دیگر قائدین انہیں لینے کے لیے جیل کے باہر پہنچے جہاں سے انہیں ریلی کی صورت میں واپس لایا گیا۔ راستے میں تین استقبالی کیمپ بھی لگائے گئے تھے۔

لیگی رہنماؤں اور کارکنوں نے حمزہ شہباز کا الگ ہی انداز میں استقبال کیا اور اس موقع پر ن لیگی ایم پی اے عنیزہ فاطمہ نے بینڈ باجے کا اہتمام بھی کر رکھا تھا جو جیل کے باہر موجود تھا۔

مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ لانگ مارچ کی تیاریاں اب شروع ہوں گی۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انہوں نے کہا کہ ’اپنے بھائی حمزہ کو لینے کوٹ لکھپت جیل آئی ہوں جنہوں نے ناحق دو سال جیل کاٹی، ان کی 20 سال بعد پیدا ہونے والی اکلوتی بیٹی اپنے باپ کی منتظر ہے جسے وہ 20 ماہ بعد ملیں گے۔‘

’حمزہ شہباز کو سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا گیا اور انہوں نے ناکردہ جرم کی سزا کاٹی ہے، انہیں پوری پارٹی خراج تحسین پیش کرتی ہے۔‘

مریم نواز کا کہنا تھا کہ ’چوری پکڑی گئی تو ان کو ڈر ہے کہ حکام پول کھول دیں گے۔ الیکشن کمیشن کے فیصلے کو روکنے کی کوشش کی جاری ہے، حکومت صاف شفاف الیکشن سے ڈرتی ہے کیونکہ ایک حلقہ کھلا تو پوری اصلیت سامنے آجائے گی۔‘

’سینیٹ کے معاملے پر کچھ نہیں کہوں گی ڈسکہ اور سینیٹ الیکشن کے بعد لانگ مارچ کی تیاری ہے۔‘

انہوں نے اس موقع پر دعویٰ کیا کہ پی ٹٰی آئی ارکان اب پی ٹی آئی کو ووٹ دینے کو تیار نہیں، یہ بھی ہوسکتا ہے کہ لانگ مارچ کی ضرورت نہ پڑے اس سے پہلے تمام مقاصد پورے ہو جائیں۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی سیاست