’میل آن سنڈے معذرت شائع کرے، 7.5 لاکھ پاؤنڈ ہرجانہ دے‘

ڈچس آف سسیکس میگن مارکل نے برطانوی میڈیا ادارے کے خلاف پرائیویسی کی خلاف ورزی کے کیس میں قانونی کامیابی حاصل کرنے کے بعد صفحہ اول پر معذرت کی اشاعت اور سات لاکھ 50 ہزار پاؤنڈ ہرجانے کا مطالبہ کیا ہے۔

جج نے گذشتہ ماہ دیے گئے فیصلے میں کہا تھا کہ مارکل کے والد کو لکھے گئے خط کی اشاعت ’واضح طور پر حد سے بڑھی ہونے کی بنا پر غیرقانونی ہے۔‘ (اے ایف پی فائل)

گذشتہ ماہ برطانوی اخبار ’میل آن سنڈے‘ کے پبلشر کے خلاف قانونی چارہ جوئی میں ’جامع کامیابی‘ حاصل کرنے کے بعد ڈچس آف سسیکس میگن مارکل نے ’میل آن سنڈے‘ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنے صفحہ اول پر معذرت شائع کرے اور انہیں قانونی اخراجات کی مد میں سات لاکھ 50 ہزار پاؤنڈ ادا کرے۔

39 سالہ میگن مارکل نے ہائی کورٹ سے یہ درخواست بھی کی ہے کہ وہ ’میل آن سنڈے‘ کو حکم دے کہ وہ ان سے قطلع تعلقی اختیار کرنے والے والد تھامس مارکل کو ایک ہاتھ سے لکھے گئے خط کی نقول بھی ان کے حوالے کرے۔

میگن مارکل نے ’میل آن سنڈے‘ اور ’میل آن لائن‘ شائع کرنے والے ادارے ایسوسی ایٹڈ نیوزپیپرز لمیٹڈ (اے ایل ایل) کے خلاف ہرجانے کا مقدمہ دائر کیا تھا۔ ان اخبارات نے ایسے مضامین شائع کئے تھے جن میں ان کے والد کو اگست 2018 میں بھیجے گئے خط کے کچھ حصوں کو چھاپا گیا تھا۔ مارکل نے دعویٰ کیا کہ فروری 2019 میں شائع کیے گئے ان مضامین میں ان کے بارے میں نجی نوعیت کی معلومات کو غلط طور پر استعمال کیا گیا جس سے ان کے کاپی رائٹ اور ڈیٹا پروٹیکشن ایکٹ کی خلاف ورزی ہوئی۔

ہائی کورٹ نے مارکل کے پرائیویسی کے دعوے کے معاملے میں سرسری سماعت کے بعد فیصلہ جاری کیا ہے جس کا مطلب ہے کہ ٹرائل میں جائے بغیر ہی انہوں نے اپنے کاپی رائٹ اور پرائیویسی کے دعوے کو زیادہ تر جیت لیا ہے۔

مارکل کے وکیل ایئن مل کیو سی (کوئینز کونسل) نے منگل کو آن لائن ہونے والی سماعت کے موقعے پر ’کاپی رائٹ کی خلاف اور نجی معلومات کا غلط استعمال‘ روکنے کے لیے عدالت سے حکم جاری کنے کی درخواست کی۔

اپنی تحریری درخواست میں انہوں نے کہا:  ’یہ مقدمہ ایک واضح مثال ہے جس میں حکم کے اجرا کی بہت حقیقی ضرورت محسوس ہوتی ہے۔‘

اس میں مزید کہا گیا: ’مدعاعلیہ نے کوئی ذمہ داری نہیں لی۔ مدعا علیہ نے اپنے پاس موجود خط کی نقول فراہم کرنے میں ناکام رہا جس کی وجہ سے ان (مارکل) کی ذاتی معلومات کو خفیہ رکھنے کی خلاف ورزی اور ان کے غلط استعمال کا حقیقی خطرہ برقرار ہے۔ مدعاعلیہ نے میل آن لائن پر موجود مضامین ابھی تک نہیں ہٹائے جس کی وضاحت نہیں ہو سکی۔ اس فیصلے کے مطابق ممکنہ حد تک واضح ترین انداز میں ثابت ہو گیا ہے کہ مدعاعلیہ نے مضامین شائع کر کے درخواست گزار  کے حقوق کی خلاف ورزی کی۔‘

وکیل نے مزید کہا: ’اسی طرح درخواست لکھتے وقت مدعاعلیہ من مانی کرتے ہوئے وہی کام کرتا رہا جس کو عدالت غیرقانونی قرار دے چکی ہے۔‘

وکیل نے عدالت سے یہ درخواست بھی کی ہے وہ اے این ایل کو ’میل آن سنڈے‘ کے صفحہ اول اور ’میل آن لائن‘ کے ہوم پیچ پر مقدمے میں ڈچس کی کامیابی کے بارے میں بیان شائع کرنے کا حکم دے ’تاکہ مستقبل میں ایسی خلاف ورزیاں نہ ہوں۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

مل نے کہا کہ ڈچس ’علامتی ادائیگی‘ کی شکل میں  ’اپنے ہرجانے کی رقم کو محدود‘ کرنے پر تیار ہیں تاکہ ’ان مسائل پر بحث کی ضرورت اور ان پر ہونے والے اخراجات سے بچا جاسکے۔‘

اے این ایل کی نمائندگی کرنے والے  وکیل اینٹنی وائٹ نے کہا ہے ان کے مؤکل مقدمے کی سرسری سماعت کے بعد دیے جانے والے فیصلے کے خلاف اپیل دائر کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

وکیل کا کہنا تھاکہ اپیل ’کی کامیابی کا حقیقی امکان ہو گا۔‘ انہوں نے کہا کہ مارکل نے برائے نام ہرجانہ طلب کرنے کی بجائے ہرجانے کا اپنا دعویٰ واپس لے لیا جس سے ’مؤقف میں بنیادی تبدیلی‘ کی نشاندہی ہوتی ہے۔ انہوں نے مارکل کی برائے نام ہرجانے کی درخواست کے حوالے سے مزید کہا کہ ’اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایک، دو یا پانچ پاؤنڈ کافی ہوں گے۔‘

وائٹ نے یہ مؤقف بھی اختیار کیا ہے کہ خط کی نقول کی حوالگی سے متعلق عدالتی حکم پر، فیصلے کے خلاف اپیل پر فیصلہ آنے تک عمل درآمد کو مؤخرکیا جائے گا۔

اے این ایل کی اپیل کی مجوزہ بنیاد میں کہا گیا ہے کہ عدالت نے پبلشر کی جانب سے پیش کیے گئے ان حقائق کا جائزہ نہیں لیا جن کی روشنی میں ’مدعی کے پرائیویسی کے حق کے وزن میں کمی آتی یا وہ محدود ہوتا ہے۔‘

جج نے گذشتہ ماہ دیے گئے فیصلے میں کہا تھا کہ مارکل کے والد کو لکھے گئے خط کی اشاعت ’واضح طور پر حد سے بڑھی ہونے کی بنا پر غیرقانونی ہے۔‘

ترقی کے بعد کورٹ آف اپیل میں تعینات ہونے والے جج واربی اب لارڈ جسٹس ہیں۔ انہوں نے کہا ہے کہ ’مختصر بات یہ ہے کہ وہ ایک ذاتی او ر پرائیویٹ خط تھا۔ جوکچھ شائع کیا گیا اس کا زیادہ تر حصہ مدعی کے اپنے رویے، والد کے اس رویے جو انہیں محسوس ہوا ،کی وجہ سے ان کو ہونے والی اذیت اور نتیجے کے طورپر دونوں کے درمیان پیدا ہونے والے اختلافات کے بارے میں ہے۔ یہ لازمی طور پر پرائیویٹ اور نجی معاملات ہیں۔‘

انہوں نے کہا: ’اس قسم کی کسی مداخلت کا صرف ایک جائز جواز بنتا تھا کہ خط کے حوالے سے بعض ان غلطیوں کی اصلاح کی جائے جو اے این ایل کے پانچ مضامین کی اشاعت کے کچھ دن پہلے ’پیپل‘ نامی میگزین میں چھپنے والے مضمون میں کی گئی تھیں۔‘

لیکن انہوں نے مزید کہا کہ ’ناگزیر نتیجہ یہ ہے کہ سوائے ایک بے حد مختصر جو مجھے پتہ چلی، مضامین میں کیے گئے انکشافات اس مقصد کے حصول کا ضروری یا موزوں طریقہ نہیں تھے۔‘

’ان انکشافات نے زیادہ تر اس مقصد کو بالکل پورا نہیں کیا۔ انکشافات کو مجموعی طور پر لیا جائے وہ واضح طور پر حد سے بڑھے ہونے کی وجہ سے غیرقانونی تھے۔‘

لارڈ جسٹس واربی نے یہ بھی کہا کہ اے این ایل کے خط کے کاپی رائٹ کی ملکیت پر دلائل سے ’مجھے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ وہ ناممکن اور غیرحقیقی ہونے کے درمیان واقع غیرواضح مقام پر تھے۔‘

توقع ہے کہ لارڈ جسٹس کی عدالت میں ہونے والی سماعت منگل کو مکمل ہو جائے گی اور یہ معلوم نہیں ہے کہ وہ آج فیصلہ دیں گے یا کسی آئندہ تاریخ پر سنانے کے لیے اسے محفوظ کر لیں گے۔

© The Independent

زیادہ پڑھی جانے والی خواتین