سینیٹ: خیبر پختونخوا میں حکومتی اتحادی کا امیدوار کیوں ہار گیا؟

باپ کے قائدین اپنے امیدوار کی ناکامی پر ناراض نظر آ رہے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ چونکہ پی ٹی آئی کے تمام امیدوار جیت چکے ہیں لہذا تاج محمد کو بھی اگر پی ٹی آئی کی حمایت حاصل ہوتی تو ان کو بھی جیتنا چاہیے تھا۔

خیبر پختونخوا کے وزیر اعلی محمود خان ووٹ ڈال رہے ہیں (حکومت خیبر پختونخوا)

خیبر پختونخوا سے پاکستان کے ایوان بالا یعنی سینیٹ کے لیے انتخابات میں ایک بڑا اپ سیٹ تب دیکھنے کو ملا جب پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ اور صوبائی حکومت کی اتحادی جماعت بلوچستان عوامی پارٹی (باپ) کے امیدوار تاج محمد آفریدی ہار گئے۔

انتخابات سے قبل پی ٹی آئی کے صوبائی قائدین باپ کے رہنماؤں سے مل کر ایک پریس کانفرنس بھی کر چکے تھے جس میں سینیٹ انتخابات میں مشترکہ امیداروں کو ووٹ دینے پر اتفاق کیا گیا تھا۔

خیبر پختونخوا اسمبلی میں باپ کے چار اراکین موجود ہیں۔ یہ اراکین قبائلی اضلاع کے ضم ہونے کے بعد وہاں سے عام انتخابات میں منتخب ہو کر آئے تھے۔ خیبر پختونخوا میں باپ میں ضلع خیبر سے کاروباری اور بااثر شخصیت الحاج شاہ جی گل شامل ہیں۔ شاہ گل کے بیٹے بلاول آفریدی اسی پارٹی سے صوبائی اسمبلی کے رکن ہیں۔

باپ کے قائدین اپنے امیدوار کی ناکامی پر ناراض نظر آ رہے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ چونکہ پی ٹی آئی کے تمام امیدوار جیت چکے ہیں لہذا تاج محمد کو بھی اگر پی ٹی آئی کی حمایت حاصل ہوتی تو ان کو بھی جیتنا چاہیے تھا۔

بلاول آفریدی نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ایک طرف انہوں نے پی ٹی آئی کو ٹیکنوکریٹ، خواتین اور غیرمسلم کی نشست پر سپورٹ کیا تھا اور وہ جیت گئے لیکن ان کے ساتھ پی ٹی آئی کا وعدہ وفا نہیں ہوا۔

بلاول نے بتایا: ’ہم اس ساری صورت حال پر پارٹی قائدین کے ساتھ مشاورت کر رہے ہیں کہ ہمارا آئندہ کا لائحہ عمل کیا ہوگا۔ ابھی ہم نے دوبارہ گنتی کے لیے بھی درخواست دی ہے۔‘

مبصرین کیا کہتے ہیں؟

لحاظ علی کئی سالوں سے پارلیمانی معاملات پر نظر رکھتے ہیں۔ پچھلے سینیٹ انتخابات کی بھی کوریج کر چکے ہیں۔ انہوں نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ باپ کے امیدار کے ہارنے کی تین بنیادی وجوہات ہو سکتی ہیں۔

ایک وجہ لحاظ کے مطابق سینیٹ انتخابات میں ووٹ ڈالنے کی حکمت عملی ہے جو ایک پیچیدہ عمل ہے اور ترجیحی ووٹوں کو اگر درست طریقے سے استعمال نہ کیا جائے تو امیدوار ہار سکتے ہیں۔

انہوں نے بتایا: ’تاج محمد نے پی ٹی آئی کے ایک جیتنے والے امیدوار ذیشان خانزادہ کے ووٹوں سے زیادہ ووٹ لیے تاہم جب سیکنڈ راؤنڈ میں ترجیحی ووٹوں کی بنیاد پر فیصلہ آیا تو اس میں تاج محمد ہار گئے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ باپ کے امیدواروں کو ووٹ ڈالنے کے حوالے سے باقاعدہ بریف نہیں کیا گیا تھا۔‘

اس پر بلاول آفریدی کہ کہنا تھا کہ ترجیحی ووٹوں پر پارٹی اراکین کو بریف کیا گیا تھا تاہم اب یہ سب کچھ ابتدائی مراحل میں ہے اور اس پر مشاورت کر رہے ہیں کہ ہارنے کی اصل وجہ کیا ہے او اس کے بعد ہی وہ کسی نتیجے پر پہنچ سکتے ہیں۔

دوسری وجہ لحاظ کے مطابق یہ تھی کہ حکومت کو احساس ہوگیا تھا کہ باپ حکومتی معاملات میں مداخلت کر رہی ہے جس کی وجہ سے پی ٹی آئی نے ان کو سائڈ لائن کرنا شروع کیا تھا اور امکان یہی ظاہر کیا جا رہا ہے کہ باپ کے امیدوار کو پی ٹی آئی کے کچھ اراکین نے ووٹ نہیں دیا ہے۔

لحاظ نے بتایا کہ ’باپ والے کوشش کر رہے تھے کہ حکومتی اتحادی اراکین کے ووٹ بھی لیں اور اپوزیشن کے کچھ اراکین کو بھی رام کریں اور ان سے بھی ووٹ حاصل کر سکیں جس کا پی ٹی آئی کو پتہ چل گیا تھا اور یوں پی ٹی آئی کی طرف سے ان کو نظرانداز کیا گیا تھا۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

لحاظ سے جب پوچھا گیا کہ اگر باپ والے حکومت سے علیحدہ ہو جاتے ہیں تو کیا حکومت پر کوئی اثر پڑے گا، اس کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ حکومت نے باپ والوں کو درخوست کر کے اتحاد میں شامل نہیں کیا تھا بلکہ باپ والے اپنے مفاد کے لیے ہی حکومت کی اتحادی بن گئے تھے۔ اگر وہ حکومتی اتحاد سے علیحدہ ہو جاتے ہیں تو حکومت پر کوئی اثر نہیں پڑے گا کیونکہ پی ٹی آئی کے پہلے سے اسمبلی میں اراکین کافی ہیں۔

پشاور کے روزنامہ مشرق سے وابستہ صحافی محمد عرفان، جو اسمبلی کی رپورٹنگ پر عبور رکھتے ہیں، نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ بظاہر تو یہی لگ رہا ہے کہ پی ٹی آئی کو پہلے اپنی پانچ جنرل نشستوں پر امیدواروں کو کامیاب کروانا تھا جس کے لیے انہوں نے سٹرٹیجی بنائی ہوئی تھی تاہم اس حکمت عملی میں باپ کے امیدوار چھٹے نمبر پر تھے۔

عرفان نے بتایا کہ اسمبلی میں پی ٹی آئی کے ممبران موجود ہیں اور پی ٹی آئی نے ان اراکین کے پانچ پینلز بنائے تھے تاکہ جنرل نشستوں پر کھڑے پی ٹی آئی کے پانچ امیدواروں کو ووٹ دے سکیں۔

پانچ پینلز میں سے چار ایسے تو جس میں ہر ایک میں مبران جبکہ ایک پینل میں آٹھ ممبران شامل تھے اور پہلی ترجیح میں نتائج کو اگر دیکھا جائے تو پی ٹی آئی کے تین ممبران نے فی ممبر ووٹ حاصل کیے ہیں جس سے عرفان کے مطابق لگتا ہے کہ تین پینلز کے سارے اراکین نے پی ٹی آئی کو ووٹ دیا ہے۔

تاہم انہوں نے بتایا کہ ’باقی دو ممبران میں سے ایک نے ایک ووٹ حاصل کیا ہے جس سے لگتا ہے کہ پی ٹی آئی کے چھ اراکین نے اپنے پارٹی کے امیدوار کو ووٹ نہیں دیا ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ پی ٹی آئی نے باپ کے امیدوار کو نہیں بلکہ یا تو عوامی نیشنل پارٹی کے امیدوار یا ووٹ بیچ کر کسی دوسرے اپوزیشن امیدوار کو کو ووٹ دیا ہے۔‘

’قوی امکان یہی ہے کہ پی ٹی آئی نے باپ کے مقابلے میں اے این پی کے امیدوار کو ووٹ دیا ہے کیونکہ اے این پی کے امیدوار کی پہلے ترجیحی ووٹ کے نتائج میں ووٹ حاصل کیے ہیں۔‘

ابھی انتظار ہے کہ باپ کی تحقیقات کب مکمل ہوتی ہیں اور آیا وہ اسے عوام کے سامنے لائیں گے بھی یا نہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی سیاست