لاہور میں تیار غیر قانونی اسلحے کے پرزوں کی پشاور میں فروخت

پولیس نے لاہور میں دو فیکٹریوں پر چھاپہ مارا ہے جہاں سے ملزمان غیر قانونی پستولوں کے پرزوں کو پشاور لے جا کر مکمل پستول کی شکل دیتے تھے۔

درہ آدم خیل میں ایک اسلحہ ساز کرونا وبا کے باعث لاک ڈاؤن ختم ہونے کے بعد اپنی ورک شاپ میں کام کر رہا ہے (اے ایف پی)

پاکستان کے دوسرے بڑے شہر لاہور میں پولیس نے غیر قانونی اسلحہ فیکٹریوں کی موجودگی کا انکشاف کیا ہے۔

ان فیکٹریوں سے اسلحہ اور اس کے پرزے پشاور سمیت ملک کے دیگر شہروں میں فروخت کیے جا رہے تھے۔ ہفتے کو سی آئی اے سول لائنز پولیس نے شہر میں دو فیکٹریوں میں غیر قانونی اسلحہ بنانے اور فروخت کرنے والے گروہ کے سربراہ سمیت تین ملزمان کو حراست میں لینے کا دعویٰ کیا۔

ڈی آئی جی انویسٹی گیشن شارق جمال نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ان اسلحہ فیکٹریوں میں پستولوں کے پارٹس بنائے جاتے تھے جن میں گلاکGlock  پستول کے پرزے بھی شامل ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ ملزمان یہ پارٹس پشاور لے جاتے جہاں انہیں جوڑ کر پورے پستول کی شکل دی جاتی تھی۔ شارق جمال نے بتایا کہ گلاک دنیا میں بہت مشہور اور قیمتی پستول سمجھا جاتا ہے اور اسے زیادہ تر فوجی یا پولیس افسران استعمال کرتے ہیں۔ ’یہ دنیا کی چار پانچ بہترین پستولوں میں سے ایک ہے۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ ان فیکٹریوں میں گلاک پستول کے پارٹس اس مہارت سے بنائے جاتے تھے کہ یہ تفریق کرنا مشکل تھا کہ یہ اصل ہیں یا نقل۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ فیکٹریاں تین چار سال سے کام کر رہی تھیں لیکن پولیس سے تاخیر اس لیے ہوئی کیونکہ جب آپ کوئی بھی کارروائی کرتے ہیں تو اس سے پہلے تحقیقات میں وقت لگتا ہے۔

شارق جمال کے بقول: ’ملزمان تین سے چار دن کے بعد 600 پستولوں کے پارٹس تیار کر کے پشاور اور خیبر پختونخوا کے دیگر علاقوں کو بھجواتے تھے۔ ابھی ہم مزید تحقیقات کر رہے ہیں کہ یہاں سے کتنا مال باہر گیا۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ اس وقت لاہور پولیس کی توجہ منشیات اور ناجائز اسلحے پر ہے کیونکہ اس وجہ سے جرائم میں اضافہ ہوتا ہے۔ ’اس لیے ہم مزید کارروائیوں کا منصوبہ بنا رہے ہیں اور جلد ہی مزید مجرموں کو حراست میں لیا جائے گا۔'

ڈی آئی جی انویسٹی گیشن کے مطابق ملزمان سے ایک کروڑ مالیت کے قیمتی پرزہ جات اور اسلحہ تیار کرنے والے آلات قبضے میں لیے گئے ہیں۔ ’خیبر پختونخوا میں آرمی آپریشن شروع ہونے کے بعد ملزمان لاہور منتقل ہوگئے اور ایک فیکٹری شفیق آباد جب کہ دوسری فیکٹری ساندہ میں بنائی گئی۔‘

شارق جمال نے بتایا کہ ملزمان سے اسلحہ سمیت لوہے، پیتل اور پلاسٹک کے ہزاروں میگزین اور دیگر سامان برآمد کیا گیا۔

لاہور میں اسلحے کے ڈیلر حیدر شاہ نے انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ’گلاک آسٹریا کی پستول ہے جو امریکہ میں بھی بنتی ہے۔’یہ اتنی اعلیٰ پستول ہے کہ امریکی صدر کے باڈی گارڈز بھی اسے استعمال کرتے ہیں۔‘

’اس کی قیمت ساڑھے چار سے پانچ لاکھ روپے تک ہوتی ہے لیکن پاکستان میں اس کی نقل آج کل پشاور میں بہت زیادہ بن رہی ہے، جس کی قیمت 25 سے 30 ہزار روپے ہے۔‘

حیدر شاہ کہتے ہیں کہ اسلحے کی سمگلنگ میں اضافے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ پہلے ٹرانسپورٹ لائسنس ملا کرتے تھے۔ پنجاب حکومت این اوسی دیتی تھی، کے پی سے ٹرانسپورٹ لائسنس بنتا تھا اور اس طرح قانونی طور پر اسلحہ ٹرین کے ذریعے یہاں پہنچتا اور دکانوں پر آ جاتا تھا۔ اس کی لسٹ ہمیں فراہم کر دی جاتی تھی۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

’اب ٹرانسپورٹ لائسنس حاصل کرنے میں بہت وقت لگ جاتا ہے۔ اس کے علاوہ دیگر سکیورٹی مسائل بھی ہیں اس لیے لوگ خود ہی ذاتی طور پر اسلحہ ادھر سے ادھر پہنچاتے ہیں۔‘

انہوں نے کہا کہ جو فیکٹریاں اسلحہ یا اس کے پرزے بنا رہی ہیں ان کے پاس لائسنس ہونا چاہیے اور ہوتا بھی ہے۔ ’غیر قانونی طور پر متحرک فیکٹریاں دودراز دیہاتوں میں قائم ہیں اور وہاں سے اسلحہ حاصل کرنے والے جرائم پیشہ افراد یا مجرم ہوتے ہیں۔

’کسی ڈیلر سے غیر قانونی اسلحہ ملنا مشکل ہے۔ ہماری بھی معمول کے مطابق چیکنگ ہوتی ہے۔ ہوم ڈیپارٹمنٹ اور کمشنر آفس سے اہلکار آ کر ہمارا اسلحہ چیک کرتے رہتے ہیں اور ہمیں بتانا پڑتا ہے کہ دکان پر موجود اسلحہ پشاور کی کس فیکٹری سے یہاں آیا۔‘

انہوں نے بتایا کہ وہ بیرون ملک سے اسلحہ درآمد کرتے ہیں لیکن جو لوکل اسلحہ ڈیلر ہیں وہ زیادہ تر راوی روڈ پر بیٹھتے ہیں جب کہ اسلحہ بنانے کی قانونی فیکٹریاں پشاور میں کوہاٹ روڈ پر قائم ہیں۔ ’اس لیے اگر لاہور میں کوئی اسلحہ یا اس کے پرزے بنا رہا ہے تو وہ یقیناً غیر قانونی ہیں۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان