وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کو ہٹائے جانے کی خبروں میں کتنی صداقت ہے؟

خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ محمود خان ایک مرتبہ پھر خبروں میں ہیں اور افواہیں گردش کر رہی ہیں کہ وزیراعظم عمران خان انہیں عہدے سے ہٹانے پر غور کر رہے ہیں۔ 

خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ محمود خان ایک مرتبہ پھر خبروں میں ہیں اور افواہیں گردش کر رہی ہیں کہ وزیراعظم عمران خان انہیں عہدے سے ہٹانے پر غور کر رہے ہیں۔ 

تاہم خیبر پختونخوا حکومت کے ترجمان کامران بنگش نے ان خبروں کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعلیٰ محمود خان کو وزیراعظم عمران خان کی بھرپور حمایت حاصل ہے اور سینیٹ انتخابات کے بعد وزیراعظم نے محمود خان کی لیڈرشپ کی صلاحیتوں کو کافی سراہا ہے۔  

کامران بنگش نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں کہا: ’یہ کچھ لوگوں کی خواہشات ہیں اور اس طرح کی افواہوں اور پروپیگنڈا مہم کرنے والوں کو ہمیشہ منہ کی کھانی پڑی ہے۔‘

’ہماری مرکزی قیادت بالخصوص وزیراعظم ہماری کارکردگی کو بہت سراہتے رہتے ہیں۔ کچھ لوگ ایسے ہیں جو افواہوں کے ذریعے اپنا نام کمانا چاہتے ہیں، لیکن یہ ایک من گھڑت خبر ہے اور جس نے چلائی ہے اس کے خلاف خود پیمرا نے نوٹس بھجوا دیا ہے۔‘

کامران بنگش نے مزید کہا کہ ’خان صاحب کا خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ کو تبدیل کرنے کا کوئی ارادہ اس لیے بھی نہیں ہے کیونکہ سینیٹ انتخاب کے بعد عمران خان نے اعتماد کا ووٹ حاصل کرنے کے بعد اپنے خطاب میں خیبر پختونخوا حکومت کی زبردست تعریف کی اور انہوں نے محمود خان کا بطور خاص شکریہ بھی ادا کیا۔‘ 

2018 کے عام انتخابات اور مرکز سمیت صوبہ پنجاب اور خیبر پختونخوا میں پاکستان تحریک انصاف کی واضح اکثریت کے بعد یہ خبریں گردش میں تھیں کہ اس صوبے کے لیے عمران خان کی جانب سے وزارت اعلیٰ کے لیے منتخب محمود خان کے نام سے پی ٹی آئی کے اپنے ممبران زیادہ خوش نہیں ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

گذشتہ برس ان ہی اختلافات کی بنیاد پر پاکستان تحریک انصاف نے خیبر پختونخوا میں تین صوبائی وزرا عاطف خان، شہرام ترکئی اور شکیل احمد کو برطرف کر دیا تھا۔ ان پر الزام تھا کہ انہوں نے پارٹی کے اندر فارورڈ بلاک کے ذریعے وزیراعلیٰ محمود خان کو کمزور کرنے کی کوشش کی تھی۔ 

وزیراعظم عمران خان اس وقت سوئٹزرلینڈ کے شہر ڈیووس میں ورلڈ اکنامک فورم میں شرکت کے لیے موجود تھے، جب انہیں خبر ملی کہ خیبر پختونخوا میں ان ہی کے جماعت کے وزیر صحت، وزیر سیاحت و ثقافت اور وزیر ریونیو اینڈ سٹیٹ اپنی پارٹی کے اراکین کو اکسا کر وزیراعلیٰ محمود خان کو عہدے سے ہٹانا چاہتے ہیں۔ 

ان خبروں کی بنیاد پر عمران خان نے ان تین صوبائی وزرا کو نہ صرف عہدوں سے ہٹا دیا تھا بلکہ ان کو شوکاز نوٹس بھی جاری کیا گیا تھا۔ یہاں تک بھی خبریں سامنے آئی تھیں کہ وزیراعظم ان تینوں وزرا کی درخواست کے باوجود ان سے ملاقات بھی نہیں کرنا چاہتے تھے۔ 

اس واقعے کے بعد شہرام ترکئی اور محمود خان کے تعلقات گورنر شاہ فرمان کی وساطت سے استوار ہو گئے تھے، جبکہ عاطف خان اور محمود خان کی بظاہر صلح گذشتہ ماہ وزیراعظم نے خود کروائی۔

اندرونی خبروں کے مطابق، عمران خان شہرام ترکئی سے زیادہ عاطف خان سے ناراض رہے تھے اور پچھلے ماہ جس میٹنگ میں انہوں نے وزیراعلیٰ اور عاطف خان کی صلح کروائی، اس میں بھی وہ ان سے زیادہ خوش نہیں دکھائی دے رہے تھے۔

یہ بھی خبریں ہیں کہ خیبر پختونخوا کی وزارت اعلیٰ اور کابینہ میں نشستوں کے لیے حکمران جماعت کے ارکان صوبائی اسمبلی کے درمیان تگ ودو جاری ہے، لہذا یہ خیال کیا جارہا ہے کہ یہی خلا پیدا کرنے کے لیے میڈیا کو استعمال کرکے یہ افواہیں اڑائی جارہی ہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی سیاست