پی ٹی آئی کا الیکشن کمیشن سے استعفے کا مطالبہ

دیگر وزرا کے ہمراہ پریس کانفرنس کے دوران وزیر تعلیم شفقت محمود نے جلد عام انتخابات کے امکان کر رد کرتے ہوئے کہا کہ عام انتخابات ڈھائی سال بعد ہی ہوں گے۔

وزیر تعلیم شفقت محمود نے  پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ سینیٹ  الیکشن میں جو ہوا اس کی ناکامی کی ذمہ دار الیکشن کمیشن ہے ( سکرین گریب)

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی حکومت نے اپوزیشن جماعتوں کو الیکشن اصلاحات کے لیے مل کر کام کرنے کی پیشکش کرنے کے اگلے ہی دن الیکشن کمیشن کے سربراہ اور دیگر ارکان سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کر دیا ہے۔

یہ مطالبہ پیر کو اسلام آباد میں تین وفاقی وزرا کی مشترکہ پریس کانفرنس میں سامنے آیا، جب وزیر تعلیم شفقت محمود نے حالیہ سینیٹ انتخابات میں الیکشن کمیشن کی کارکردگی پر عدم اعتماد ظاہر کیا۔

انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں الیکشن کمیشن نہیں چل سکتا لہٰذا اس کے کمشنر اور دیگر ارکان کو فوراً مستعفی ہونا چاہیے۔

ڈان کی ایک رپورٹ کے مطابق وزیر سائنس و ٹیکنالوجی فواد چوہدری نے اتوار کو کہا تھا کہ الیکشن اصلاحات سے متعلق ایک بل قومی اسمبلی میں زیر التوا ہے جس پر اب تک بحث نہیں ہوئی۔

فواد چوہدری کے مطابق اس ایکٹ میں حکومت نے تجویز دی ہے کہ الیکشن میں الیکٹرانک مشینوں کے ذریعے ووٹنگ کرائی جائے، بیرون ملک پاکستانیوں کو ووٹ کا حق دیا چاہیے اور پریزائیڈنگ افسروں کے اختیارات کم کیے جائیں۔

فواد چوہدری نے واضح کیا تھا کہ پی ٹی آئی کی حکومت نے صرف الیکشن اصلاحات کے لیے اپوزیشن کو حکمران اتحاد کے ساتھ بیٹھنے کی پیشکش کی ہے۔

آج وزیر تعلیم شفقت محمود نے اپنی پریس کانفرنس میں کہا کہ ’سینیٹ کے الیکشن میں جو ہوا اس کی ناکامی الیکشن کمیشن کی ہے، کوئی بھی جماعت سینیٹ انتخابات سے خوش نہیں، دوسری جماعتوں سے پوچھا جائے تو ان کو بھی الیکشن کمیشن پرتحفظات ہیں۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ ’الیکشن کمیشن اپنی ذمے داریاں نہیں نبھا سکا اور ناکام رہا، پی ٹی آئی سب سےبڑی جماعت ہے، جسے الیکشن کمیشن پر کوئی اعتماد نہیں۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

شفقت محمود کے مطابق: ’الیکشن کمیشن ایسا بننا چاہیے، جس پر سب سیاسی جماعتوں کا اعتماد ہو، ہم نے چیف الیکشن کمشنرسے کہا کہ کرپٹ پریکٹس روکنے کا طریقہ کاراپنایا جائے لیکن انہوں نے ہماری بات نہیں مانی۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ ’ہم وہ تجویز کر رہے ہیں جو ملک اور جمہوریت کے لیے بہتر ہے، ہم سیاسی حل بتا رہے ہیں اور ہمارا الیکشن کمیشن کے خلاف سپریم کورٹ میں جانے کا ارادہ نہیں۔‘

پریس کانفرنس کے دوران نئے انتخابات کے حوالے سے ایک سوال پر شفقت محمود نے کہا کہ ’آگے بھی ضمنی الیکشن ہوتے رہیں گے جن پر اعتماد ہونا ضروری ہے۔‘

انہوں نے جلد عام انتخابات کے امکان کر رد کرتے ہوئے کہا کہ ’جنرل الیکشن ڈھائی سال بعد ہوں گے۔‘

یاد رہے کہ سینیٹ الیکشن میں اپوزیشن اتحاد پاکستان جمہوری تحریک (پی ڈی ایم) کے مشترکہ امید وار سید یوسف رضا گیلانی کی اپ سیٹ کامیابی کے بعد وزیر اعظم عمران خان نے بھی ٹی وی پر نشر ہونے والے اپنے خطاب میں الیکشن کمیشن پر براہ راست تنقید کرتے ہوئے سوال اٹھایا تھا کہ اس نے شفاف الیکشن یقینی کیوں نہیں بنایا اور ووٹ قابل شناخت ہونے کے لیے اقدامات کیوں نہیں اٹھائے۔

تاہم الیکشن کمیشن نے ایک اعلیٰ سطح کے اجلاس کے بعد وزیراعظم کی تنقید کو مسترد کردیا تھا۔

عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) کے رہنما زاہد خان نے حکومتی مطالبے پر اپنے ردعمل میں کہا کہ پی ٹی آئی کو ایسے ادارے چاہییں جو اس کی مرضی پر چلیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اس وقت الیکشن کمیشن غیر جانبدارانہ فیصلے کر رہا ہے جو انہیں (پی ٹی آئی کو) صحیح نہیں لگ رہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان