ہم پر الزام بے وفائی ہے II

یہ الزام پاکستان پر عائد کیا جاتا رہا ہے کہ کشمیر کی جغرافیہ اور شبیہ تبدیل کرنے میں اس کا اہم کردار رہا ہے۔

اسلام آباد میں یوم کشمیر کے موقع پر سالانہ اجتماع (اے ایف پی)

 

یہ تحریر آپ مصنفہ کی آواز میں یہاں سن بھی سکتے ہیں


حسب وعدہ آج میں مسئلہ کشمیر میں پاکستانی کردار کا جائزہ لینے کی کوشش کروں گی۔

برطانوی سامراج نے 1846 میں بیعنامہ امرتسر کے تحت مہاراجہ گلاب سنگھ کو پچھتر ہزار نانک شاہی کے بدلے میں انسانی آبادی سمیت جموں و کشمیر کو بیچ دیا۔ اس کی رو سے پہلی بار مہاراجہ کو کشمیر پر مکمل حکمرانی کا اختیار حاصل ہوا جو سکھوں کے خلاف جنگ میں سامراجی طاقت کی مدد کرنے کے بدلے میں برطانیہ نے مہاراجہ کو بطور انعام عطا کیا تھا۔ لداخ کو بعد میں مہاراجہ نے فتح کر کے اپنی مملکت کا حصہ بنایا۔

1947 میں جب الحاق کے معاملے پر بھارتی قیادت کی جموں و کشمیر میں سیاسی سرگرمیاں تیز ہوگئیں تو گلگت سکاؤٹس نے حالات کو بھانپ کر میجر براون کی نگرانی میں پاکستان میں ضم ہونے کا اعلان کر دیا۔

ایک طرف سیاسی چاپلوسی سے جموں و کشمیر پر قابض ہونے کا عمل جاری تھا، دوسری طرف جنگ کے ذریعے اسے حاصل کرنے کی کوششیں بھی ہو رہی تھیں گو کہ دو قومی نظریے کے فارمولے کے تحت مسلم خطے کو پاکستان میں شامل ہونا چاہیے تھا۔

قبائیلوں کے وارد کشمیر ہونے سے خطے کی تاریخی نوعیت بدل گئی۔ اس کو بھارت نے جبری الحاق اور فوج بھیجنے کا جواز بنایا جبکہ پاکستانی لیڈرشپ کے بقول ’انہیں قبائلیوں کے کشمیر وارد ہونے کا علم نہیں تھا۔‘

بہرحال یہ الزام پاکستان پر عائد کیا جاتا رہا ہے کہ کشمیر کی جغرافیہ اور شبیہ تبدیل کرنے میں اس کا اہم کردار رہا ہے۔

1947-48 کی جنگ میں پاکستان جموں و کشمیر کا ایک تہائی حصہ حاصل کرنے میں کامیاب ہوگیا مگر پھر ہر جنگ میں اسے بہت کچھ کھونا پڑا۔ اس کا سہرا بھارت کی سفارت کاری پر ہے جو عالمی سطح پر روس کے بعد مزید کئی ملکوں کی حمایت حاصل کرنے میں کامیاب نظر آئی۔

اقوام متحدہ کی قراردادوں میں جموں و کشمیر میں رائے شماری کرانے کا جب منصوبہ بھی بنایا گیا اور اس کی پہلی شرط دونوں ملکوں کو اپنے تحویل میں علاقے سے فوج کو نکالنا تھا۔ دونوں نے اس پر عمل درآمد کرنے میں سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کیا۔

1962 کی جنگ میں چین نے بھارت کو کچل کے رکھ دیا تھا جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ شکست کی ذلت سے پنڈت نہرو پھر کبھی نہیں ابھرے لیکن 1965 میں پاکستان نے آپریشن جبرالٹر کا اہتمام کر کے شاید حالات کو نہ تو درست طریقے سے بھانپا اور نہ کشمیری لیڈرشپ یا عوام کو پہلے اعتماد میں لیا۔ یہ اس منصوبے کی شدید ناکامی کا سبب بنا۔

وسطی کشمیر کے ضلع بڈگام کے یوس مرگ واقعے کے چشم دید گواہ بزرگ محمد شعبان نے مجھے اس سارے واقعے کی داستان بتاتے ہوئے کہا کہ ’کاش ہمیں اس آپریشن کے بارے میں پہلے علم ہوتا تو ہم بھارتی فوج کو یہاں گھسنے نہیں دیتے کیونکہ مقامی آبادی پاکستان کے ساتھ الحاق کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ دینے کے لیے تیار بیٹھی تھی۔ ہمیں بعد میں پاکستان سے کچھ فوجی یا مجاہد کشمیر میں آنے کی اطلاع ملی جنہیں بھارتی فوج نے مار دیا تھا۔ اس کے برعکس یہ افواہیں پھیلائیں گئیں کہ خود کشمیریوں نے پاکستانی مجاہدین کی موجودگی کی اطلاع بھارتی فوج کو دی تھی۔ ان افواہوں کا مقصد پاکستان کو کشمیریوں سے بدظن کرنا تھا۔‘

1971 کی بنگلہ دیش کی آزادی کی جنگ کے دوران کشمیر پھر توجہ کا مرکز بنا۔

جب پاکستانی جنگی طیارے سری نگر کے اوپر سے پرواز کیا کرتے تھے تو میں نے اپنے محلے کے بزرگوں کو اشک بار آنکھوں سے پاکستان کی کامیابی کی دعائیں مانگتے دیکھا ہے۔ مگر دعا قبول ہوئی نہ کشمیر ہی ایک اور کاری ضرب سے بچ سکا۔

بھارت کی تحویل میں پاکستان کی نوے ہزار سے زائد افواج کی رہائی کے بدلے میں بھارت پاکستان نے شملہ معاہدے کے تحت جموں وکشمیر کو عالمی مسئلے سے باہمی مسئلہ بنا دیا، سیزفائر لائن کو لائن آف کنٹرول کا درجہ دیا جس سے پاکستانی کشمیر سمیت وادی کے لوگوں کی جیسے کمر ٹوٹ گئی۔ کشمیری ہمیشہ بھارت کو مشکوک تصور کرتے تھے لیکن اب پاکستان بھی اس فہرست میں شامل ہوگیا۔ کشمیر کے آر پار مکمل آزادی کی تحریک زور پکڑنے لگیں۔

یہ صیح ہے کہ پاکستان اس وقت شدید دباؤ میں تھا۔ پاکستان کی شکست کے باعث ذوالفقار علی بھٹو کو کشمیر پر سمجھوتہ کرنے پر مجبور ہونا پڑا مگر اندرا گاندھی نے کشمیری پنڈتوں کی صلاح کاری سے پاکستان کو اس قدر الجھا دیا کہ کشمیر پاکستان کی ترجیحات کی فہرست سے خارج ہوگیا۔

سن 71 کے بعد کشمیر میں اکا دکا زیر زمین تحریکیں جاری رہیں مگر قدرے سکون رہا۔

مسلم متحدہ محاذ کی 1987 کے ریاستی انتخابات میں جبری شکست کے بعد کشمیریوں کے، جو اب تک پرامن تحریک چلا کر آزادی حاصل کرنے میں ناکام رہے تھے بعض نوجوان مسلح تحریک چلانے کا عزم کر بیٹھے، پھر مدد مانگنے پاکستان پہنچ گئے جہاں کے کشمیر کو بیس کیمپ کے طور پر استعمال کرنے لگے۔

مسلح تحریک چلانے کا فیصلہ صیح تھا یا غلط اس پر رائے دینے کا حق صرف کشمیری عوام کو ہے مگر اس فیصلے کے فورا بعد کنفیوژن کی ایک نئی فضا قائم ہوگئی جو اب تک جاری ہے۔

اکثر یہ سوال کیا جاتا ہے کہ پانچ نوجوانوں پر مشتمل حاجی گروپ جن میں یاسین ملک شامل تھے اگر مکمل آزادی حاصل کرنے کے خواہاں تھے تو کیا پاکستان سے مدد مانگنا چاہیے تھا؟

اگر مدد مانگی بھی تو پاکستان نے ہاں کیسے کر دی اور کن شرائط پر مدد دینے کی حمایت کی؟ یا پھر پاکستان نے کشمیر کو دوبارہ اپنی ترجیحات میں شامل کر دیا تھا؟

میں نے کئی بار پاکستان میں ان سوالوں کے جواب تلاش کرنے کی کوشش کی تھی اور جنرل ضیا الحق کے صاحبزادے اعجاز الحق سے بھی ایک بار پوچھا تھا تو ہر کسی نے ایک ہی جواب دیا کہ ’کشمیر پاکستان کی شہہ رگ ہے اور اس کے بغیر پاکستان کا وجود ادھورا ہے۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ظاہر ہے یہ بہت سے ایسے سوال ہیں جو شجر ممنوعہ کے مانند ہیں لہذا ان کے جوابات جاننے کے لیے شاید اللہ سے ایک اور زندگی کی درخواست کرنی ہوگی۔

میں نے بی بی سی پر ایک انٹرویو کے دوران لبریشن فرنٹ کے رہنما یاسین ملک سے پوچھا تھا کہ کیا پاکستان نے واقعی مکمل آزادی کی حمایت کرتے ہوئے اس کے زیر انتظام کشمیر کی سرزمین کو بیس کیمپ کے طور پر استعمال کرنے کی رضامندی جتائی تھی تو وہ حسب عادت ہنس پڑے اور بولے ’ہم نے آزاد کشمیر میں رہ کر اپنی تحریک چلانے کا فیصلہ کیا تھا پاکستان اگر انکار بھی کرتا تو ہمیں کیا فرق پڑتا۔ لیکن پاکستان جب تک اس تنازعے کا ایک رکن ہے تو وہ کشمیر مسئلے سے خائف کیسے رہ سکتا ہے۔‘

یاسین ملک کے حاجی گروپ کو شاید اس بات کا اندازہ نہیں تھا کہ مسلح تحریک اتنے گروہوں اور گروپوں میں تقسیم ہو جائے گی کہ خود لبریشن فرنٹ کو اپنے کارکن تلاش کرنے پڑیں گے۔ ہر تنظیم کے پیچھے ایک اور نئی تنظیم وجود میں آتی رہی۔ آزادی کا نعرہ کچھ اور مسائل میں الجھ کے رہ گیا جس میں معاشرے کی اصلاح سے لے کر زمین و جائیداد اور مسلک کے مسائل بھی شامل ہوتے رہے۔

لبریشن فرنٹ کے بغیر بیشتر تنظیموں نے گو کہ الحاق پاکستان کے موقف کی تائید کی اور وادی کے بڑے مظاہروں میں اس کی گونج سنائی دیتی رہی مگر بھارت نے عالمی سطح پر اس کو ’دہشت گردی‘ کا نام دے کر ایک اور اسلامی مملکت کے قیام سے تعبیر کرنے کے موقف سے دنیا کو ڈرا دیا جس کی امریکہ پر 11 ستمبر کے حملوں کے بعد تقویت ملی۔

پاکستان آج تک خود کو اس الزام سے بری نہیں کر پایا ہے کہ وہ جموں و کشمیر میں ’دہشت گردوں‘ کی مدد کرتا آیا ہے۔ ذرا سی ہمت کر کے یہ کہہ سکتا تھا کہ وہ بحیثیت ایک فریق کشمیری عوام کی ہر طرح سے مدد کرنے کا حق رکھتا ہے جو اپنے حقوق حاصل کرنے کے ہر پرامن حربے کو آزما کر بندوق اٹھانے پر مجبور کر دیئے گئے ہیں مگر افسوس کہ وہ نہ تو خود کو فریق کہنے کی جرت کر پایا ہے اور نہ تو کھل کر کشمیریوں کی مکمل آزادی کی حمایت کرنے کا اعتراف کرتا ہے۔ بھارت نے مشرقی پاکستان میں دن دھاڑے علیحدگی پسند مکتی باہنی کی ناصرف فوجی امداد کی بلکہ جنگ میں کود کر پاکستان کے حصے بخرے کر دیئے۔

یہ پہلی بار ہے کہ عمران خان نے گذشتہ دنوں کوٹلی اجلاس میں ہمت کر کے اعتراف کیا کہ پاکستان میں شمولیت کے بعد کشمیریوں کو حق رائے دہی کی اجازت ہوگی جس میں وہ پاکستان کے ساتھ یا آزاد رہنے کا فیصلہ کرنے کے مجاز ہوں گے حالانکہ وزارت خارجہ نے فورا اس کی تشریح میں دوسرا بیان جاری کیا تھا۔

بعض تجزیہ نگار اس بیان کو پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں سیاسی حثیت کی ممکنہ تبدیلی سے تعبیر کرتے ہیں۔

1999 میں کرگل میں ایک نیا محاذ کھل گیا۔ پاکستان کی مظبوط پوزیشن کے باوجود یہ نوبت آئی کہ فوج کو فورا واپس بلانا پڑا۔ اکثر کشمیری ابھی تک یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ کرگل کے پیچھے کیا مقاصد تھے؟ اور جو بھی تھے کیا وہ پورے ہوئے؟

طاقتور فوجی جنرل پرویز مشرف جو کرگل کے خالق تصور کیے جاتے ہیں، بھارت کو چار نکاتی فارمولہ پیش کرنے پر مائل کیسے ہوگئے؟ حتی کہ بھارت نے آگرہ اجلاس بلانے کے باوجود اس کو پھر ردی کی ٹوکری میں ڈال دیا۔

کشمیر کو اب بھی پاکستان کی شہہ رگ تصور کیا جاتا ہے جس کو بھارت نے 5 اگست 2019 کے فیصلے سے اب پوری طرح نگھل لیا ہے۔

اب یہ افواہیں گردش میں ہیں کہ اندرونی طور پر ’تیرا تیرا اور میرا میرا‘ پر رضامندی ہوگئی ہے۔

پاکستان کی یہ بدقسمتی نہیں ہے تو اور کیا ہے کہ افغانستان میں روسی مداخلت کو پچھاڑنے کی مہم کو امریکی اتحاد نے جب ’اسلامی جہاد‘ کا نام دے کر پاکستان کو پھانس لیا تو وہ اس کی بدولت اب تک نہ خود کو محفوظ کر پایا ہے اور نہ مغرب کو مطمئن کرنے میں کامیاب ہوسکا ہے الٹا اسی ملک کو ’دہشت گردی کا اڈہ‘ قرار دے کر وہ اب تک اس داغ کو دھوتا آ رہا ہے اور اس ’دہشت گردی‘ کی آڑ میں کشمیریوں کو اپنے بنیادی حقوق سے محروم کر دیا گیا ہے۔

اس حقیقت سے انکار نہیں کہ پاکستان کی داخلی سیاسی اتھل پتھل سے بھی کشمیر پالیسی متاثر ہوتی رہی ہے مگر اس بات سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ پاکستان نے بھارت کی زور زبردستی کی پالیسی کے مقابلے میں اتنے یو ٹرن لیے ہیں کہ نہ تو کشمیری پاکستانی لیڈرشپ پر بھروسہ کر پا رہیں ہیں اور نہ پاکستان کشمیریوں کو اپنی بھرپور حمایت کا یقین دلا سکا ہے۔

ستم یہ ہے کہ حالات کے اس پس منظر میں آج بھی جب بھارتی فوج کے ساتھ جھڑپوں میں کشمیری نوجوان ہلاک ہوتے ہیں، کروڑوں کی املاک تباہ کی جاتی ہیں، یا تشدد میں درجنوں افراد زخمی ہو جاتے ہیں تو ہلاک شدگان کی لاشیں پاکستانی پرچم میں لپیٹ کر رکھی جاتی ہیں، پاکستان کے حق میں نعرے لگتے ہیں اور آزادی حاصل کرنے کا عزم دہرایا جاتا ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی زاویہ