خیبر پختونخوا میں اب پولیس گائیڈز سائلین کو خوش آمدید کہیں گے

گائیڈز تھانے میں آنے والے سائلین اور درخواست گزاروں کی خاطر مدارت کرنے کے بعد ان کی شکایت درج کروائیں گے اور ضرورت پڑنے پر افسروں سے ملوائیں گے۔

پولیس گائیڈز نے ہاتھوں پر سرخ پٹیاں باندھی ہوں گی تاکہ سائلین کو انہیں پہچاننے میں کوئی دقت نہ ہو (تصویر بشکریہ ڈی پی او صوابی محمد شعیب)

خیبر پختونخوا پولیس نے‘پولیس اصلاحات’ کے تحت عوام کی تھانوں تک آسان رسائی اور شکایات درج کروانے میں سہولت کی خاطر صوبے بھر کے تھانوں میں پولیس گائیڈز تعینات کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

یہ تعلیم یافتہ مرد وخواتین پولیس گائیڈز شہریوں کی شکایات درج کروانے میں رہنمائی کریں گے۔ ابتدا میں ضلع صوابی کے 10 تھانوں اور تین چوکیوں میں پائلٹ پروگرام کے تحت پولیس گائیڈز تعینات کرنے کا آغاز ہو گیا ہے، جس کو بعد ازاں دیگر اضلاع تک پھیلایا جائے گا۔

اس نظام کے ذریعے تھانوں میں خاتون سائلین کو تمام تر رہنمائی خاتون گائیڈز ہی فراہم کریں گی۔ صوابی  کے ڈی پی او محمد شعیب نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ اس نظام سے خواتین کو زیادہ فائدہ پہنچے گا کیونکہ انہیں معاشرتی رویوں اور حدود و قیود کی وجہ سے مختلف مسائل کا سامنا رہتا ہے۔

’ہمارے تھانوں میں پہلے سے تعینات خواتین ایڈیشنل محرروں کو ہی بطور گائیڈ تعینات کیا جا رہا ہے۔ آپ کو معلوم ہے کہ ہمارے معاشرے میں خواتین کے لیے کسی معاملے کو تھانے لے کر جانا کتنا مشکل ہوتا ہے۔

’میں بذات خود ان تمام گائیڈز کی نگرانی کروں گا اور کسی بھی کوتاہی کی صورت میں گائیڈز سے جواب طلبی کی جائے گی۔’

شعیب کے مطابق فی الحال 13 تقرریاں کی گئی ہیں اور صرف مرد پولیس اہلکاروں کو گائیڈ کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔

خواتین گائیڈز کی تعیناتی کے لیےان کا تحریری امتحان، تعلیمی استعداد، اور ان کی پیشہ ورانہ صلاحیت کو پرکھنے کا عمل آئندہ ایک ہفتے میں مکمل ہو جائے گا۔

ڈی پی او محمد شعیب کے بقول: ‘ہم یہ بھی کوشش کر رہے ہیں کہ خاتون گائیڈز کے انتخاب اور تقرری کے بعد ہر خاتون کو ان کی رہائش کے نزدیک ترین تھانے میں تعینات کریں تاکہ ان کے لیے بھی مشکلات پیدا نہ ہوں۔’

انہوں نے مزید بتایا کہ گائیڈ کے طور پر تقرری کے لیے پہلے سے پولیس میں شامل ان اہلکاروں کا انتخاب کیا گیا ہے جو اعلیٰ تعلیم یافتہ، قابل اور اچھی کارکردگی کے حامل ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ پولیس گائیڈز نے ہاتھوں پر سرخ پٹیاں باندھی ہوں گی تاکہ سائلین کو انہیں پہچاننے میں کوئی دقت نہ ہو۔

صوابی پولیس کے مطابق گائیڈ تھانے میں آنے والے سائلین اور درخواست گزاروں کے ساتھ خوش اخلاقی سے پیش آتے ہوئے  پشتون روایات کے مطابق ان کی خاطر مدارت کریں گے اور قانون کے مطابق ان کی داد رسی کرتے ہوئے ان کی شکایت یا رپورٹ کو درج کروانا بھی گائیڈز کی ذمہ داری ہوگی۔

مزید برآں اگر شکایت کنندہ تھانے میں سٹیشن ہاؤس افسر (ایس ایچ او) یا ڈسٹرکٹ پولیس افسر (ڈی پی او) کے ساتھ ملاقات کی خواہش ظاہر کرے تو ان کی ملاقات بھی کروائی جائے گی۔

گائیڈز کی یہ بھی ذمہ داری ہوگی کہ وہ مقدمہ درج کروانے والوں کو کیس سے متعلق ضروری معلومات فراہم کریں اور انہیں تفتیشی افسر سے آگاہ کرتے ہوئے ان سے ملاقات کو ممکن بنائیں۔

پاکستان کی پولیس فورس میں شامل خاتون اہلکاروں کو زیادہ تر چھاپوں اور خواتین کی جامہ تلاشی جیسی ذمہ داریاں ہی سونپی جاتی رہی ہیں۔ تاہم پولیس میں اصلاحات کے بعد اب ان کی ذمہ داریوں کا دائرہ کار بڑھایا جارہا ہے تاکہ نہ صرف ان کی صلاحیتوں کا صحیح استعمال ہو بلکہ معاشرتی ناہمواریاں بھی درست ہو جائیں۔

اس ضمن میں 2016 میں پشاور سمیت خیبر پختونخوا کے سات ماڈل تھانوں میں خواتین ڈیسک قائم کیے گئے تھے جہاں ایک اے ایس آئی، خاتون کانسٹیبل اور ایک خاتون سائیکالوجسٹ کی تقرری کی گئی تھی۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

یہ اہلکار خاتون سائلین کی رہنمائی کرنے سمیت قانونی کارروائی کی ذمہ داری بھی پوری کرتی تھیں۔

اسی طرح مردان، نوشہرہ، صوابی اور چارسدہ میں بھی خواتین ڈیسک قائم کیے گئے تھے لیکن وہ زیادہ عرصہ فعال نہیں رہ پائے۔

پشاور پولیس کے انسپکٹر احمد اللہ خان نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ خواتین پولیس اہلکاروں کی تھانوں میں موجودگی خاتون سائلین کی جانب سے شکایت درج کروانے اور ان کے مسائل کے حل میں بہت اہم کردار ادا کرتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ مرد پولیس اہلکاروں کے سامنے خواتین زیادہ کھل کر بات نہیں کرتیں جب کہ خواتین کے ساتھ وہ بغیر کسی دباؤ کے کھل کر بات کرتی ہیں۔

انہوں نے کہا: ‘2016میں پشاور میں خواتین ڈیسک کے قیام نے تھانوں میں خواتین کے کیسز میں بہت مدد فراہم کی تھی اور میں نے خود دیکھا کہ کس طرح خواتین بغیر کسی جھجھک کے خاتون اہلکاروں کے پاس بیٹھ کر اپنے مسائل بیان کرتی تھیں۔’

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان