بلوچستان میں مقبول یورپین وائلن کی قدیم شکل ’چغاکہ‘

اگرچہ وقت کے ساتھ ساتھ  موسیقی میں بھی جدت آئی ہے لیکن لوگ علاقائی موسیقی چغاکہ آج بھی شوق سے سنتے ہیں، کیونکہ موسیقی کے اس آلے کی دھن منفرد اور خالص ہے۔

چغاکہ ایک ایسا قدیم اور روایتی موسیقی کا آلہ ہے، جو کئی صدیوں سے تہذیب و تمدن اور فوک موسیقی کا حصہ رہا ہے اور فضا میں بکھرتی اس کی دھنیں آج بھی دلوں پر راج کرتی ہیں۔

نئے آلات موسیقی کے متعارف ہونے اور کمپیوٹرائزڈ موسیقی کے باوجود بھی اس کے سننے والوں کی تعداد میں کمی نہیں آئی کیونکہ اسے پشتو لوک موسیقی کا اہم جزو سمجھا جاتا ہے۔

ہندی سارنگ اور یورپین وائلن کی قدیم شکل کا ناتا بھی چغاکہ سے جوڑا جاتا ہے۔

توت کی تراشی گئی لکڑی، موٹرسائیکل کے کلچ کی تاریں، گھوڑے کے بال، بکری کا چمڑا اور جنگلی درخت کی قدرتی گوند، یہ وہ اجزا ہیں جس سے چغاکہ تیار ہوتا ہے۔ اسے بلوچستان کے علاقے سنجاوی میں ہنرمند تیار کرتے ہیں، جبکہ صوبے کے مختلف علاقوں قلعہ سیف اللہ، ژوب، مسلم باغ، موسیٰ خیل، لورالائی، دکی اور سنجاوی میں چغاکہ کو بہت پسند کیا جاتا ہے۔

اس کی تیاری کے لیے کمان شکل کی ایک پتلی لکڑی، جس کو لیندہ کہا جاتا ہے، کے ایک سے دوسرے سرے تک گھوڑے کی دم کے لمبے بال باندھ  دیے جاتے ہیں، جس کو مخصوص انداز سے تاروں پر پھیرنے سے سریلی آواز پیدا ہوتی ہے۔

بلوچستان کے ضلع قلعہ سیف اللہ سے تعلق رکھنے والے عبدالقادر گذشتہ 20 سال سے چغاکہ موسیقی سے وابستہ ہیں۔

انہوں نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ شادی بیاہ، بچے کی پیدائش، پکنک اور دیگر تقریبات کے موقع پر چغاکہ کی محفلیں سجتی ہیں۔

ان کے بقول نوجوان چغاکہ دریا کے ساتھ پسند کرتے ہیں جبکہ عمر رسیدہ افراد دریا کے بغیر پسند کرتے ہیں۔ چغاکہ کی محفلوں میں ایک شخص چغاکہ اور دوسرا دریا بجاتا ہے جبکہ تیسرا اس کے ساتھ گانا گاتا ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

40 سالہ عبدالقادر نے بتایا کہ چغاکہ دو، تین، سات، نو اور 12 تاروں پر مشتمل ہوتا ہے اور اس کے ساتھ اولسی گانے، کاکڑئی غاڑے، اتنڑغاڑے اور ماتے غاڑے گائے جاتے ہیں۔ اس کے ساتھ شہدا اور غازیوں کی بہادری کے کارناموں کی بھی تعریف کی جاتی ہے۔

چغاکہ کی 100 سے زائد طرز موجود ہیں، لیکن سب سے زیادہ مقبول اتنڑی طرز ہے۔

پشتو اکیڈمی بلوچستان کے صدر خیر محمد عارف نے چغاکہ اور یورپین وائلن کے تعلق کے بارے میں مورخین کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جس وقت آرین بلخ اور باختر سے آرہے تھے تو وہ موسیقی کے آلات جیسے کہ چغاکہ، ہارمونیم، نڑ اور رباب اپنے ساتھ لے کرآئے۔

ان کے مطابق فنی اعتبار سے ماہرین آلات موسیقی کو تین حصوں میں تقسیم کرتے ہیں۔ پھونک سے بجانے والے جیسے سرنا اور بگل، ہاتھ سے بجانے والے جیسے ڈھول، ڈھولک اور تاروں سے بجانے والے آلات جس میں رباب اور چغاکہ شامل ہیں۔

پشتو دارالمعارف میں لکھا گیا ہے کہ چغاکہ، ہامورنیم، رباب اور نڑ خالص پشتون سرزمین کی موسیقی کے آلات ہیں۔ چغاکہ کو بعض قبائل ایک نام دیتے ہیں جبکہ بعض دوسرا نام۔

اسے سرندہ بھی کہا جاتا ہے، جو پشاور، کابل، لورالائی، دکی اور سنجاوی میں بجایا جاتا ہے۔ مری قبائل بھی اسے بجاتے ہیں اور اس کے ساتھ المیہ، رزمیہ اور بزمیہ قسم کے گانے گائے جاتے ہیں۔ بعض علاقوں میں اسے سارنگی بھی کہتے ہیں۔

یہ بھی کہا جاتا ہے کہ ہندوستان میں سارنگ نامی آلہ موسیقی ہے، جو ساخت کے لحاظ سے چغاکہ سے مماثلت رکھتا ہے اور اس کو لیندری کی مدد سے بچایا جاتا ہے۔

اگرچہ وقت کے ساتھ ساتھ  موسیقی میں بھی جدت آئی ہے لیکن بلوچستان کے لوگ  چغاکہ کی موسیقی آج بھی شوق سے سنتے ہیں، کیونکہ موسیقی کے اس آلے کی دھن منفرد اور خالص ہے۔

کوئٹہ کے رہائشی انجینیئر میر حسن اتل کا کہنا ہے کہ عدم توجہی بھی لوک موسیقی پر اثرانداز نہ ہوسکی، باوجود اس کے کہ اس کو بجانے والے ہنرمند شدید معاشی مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی ملٹی میڈیا