کرونا وبا کی تیسری لہر: حکومت مجبور ہے یا کچھ کرنا نہیں چاہتی؟

یومیہ کرونا ٹیسٹس کی صلاحیت میں کمی، ٹیسٹنگ کٹ پاکستان میں بنانے کے دعوے، کرونا بستروں کا نہ بڑھنا اور ویکسین مہم میں سست روی۔ کیا یہ سب حکومت کو درپیش مسائل ہیں یا وہ کچھ کرنا ہی نہیں چاہتی؟

لاہور کے ایکسپو سینٹر میں بزرگ شہریوں کو چینی ویکسین لگائی جا رہی ہے (اے ایف پی)

پاکستان اس وقت کرونا وبا کی تیسری لہر سے لڑ رہا ہے اور حکومت لاک ڈاؤن سمیت مختلف اقدامات پر غور کر رہی ہے۔

حکومت کو پہلی لہر کے بعد دنیا بھر سے اس وبا سے نمٹنے پر داد ملی تھی۔ تاہم پہلی لہر کے بعد حکومت کی کرونا وبا سے نمٹنے میں دلچسپی نظر نہیں آتی۔

کرونا ویکسین مہم میں تاخیر، ہسپتالوں میں کرونا مریضوں کے لیے بستروں میں اضافہ نہ ہونا، کرونا ٹیسٹنگ کی صلاحیت میں کمی اور کرونا فنڈز کا کم استعمال وہ تمام وجوہات ہیں جن سے حکومت کی عدم دلچسپی عیاں ہے۔

پہلی لہر کے دوران ملک میں تیزی سے کرونا وبا سے نمٹنے کے لیے انفراسٹرکچر بنایا گیا تھا مگر اس کے بعد اس انفراسٹرکچر میں کوئی خاطر خواہ اضافہ نہیں ہوا بلکہ چند شعبوں میں تو صلاحیت کم ہوتی نظر آئی۔

یومیہ کرونا ٹیسٹ کی صلاحیت میں کمی

24 اپریل، 2020 کو صحافیوں سے گفتگو میں اس وقت کے چیئرمین نیشنل ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) لیفٹیننٹ جنرل محمد افضل نے اعلان کیا تھا کہ مئی کے آغاز سے پاکستان روزانہ 50 ہزار ٹیسٹ کرنا شروع کر دے گا۔

تاہم نیشنل کمانڈ آپریشن سینٹر (این سی او سی) کے ڈیٹا کے مطابق ملک میں وبا کے 13 ماہ گزرنے کے باجود ایک بھی دن ایسا نہیں آیا جب ایک روز میں 50 ہزار ٹیسٹ کیے گئے ہوں۔

اس ڈیٹا سے ظاہر ہوتا ہے کہ پانچ جولائی، 2020 کو پاکستان کی ٹیسٹ کرنے کی صلاحیت 71780 ٹیسٹ یومیہ تھی جو 18 مارچ، 2021 میں کم ہو کر 61377 رہ گئی۔ یوں نو مہینوں میں ٹیسٹ کرنے کی صلاحیت میں تقریباً 10 ہزار کی کمی ہوئی۔

کرونا مہم پر حکومتی موقف جاننے کے لیے انڈپینڈنٹ اردو نے پارلیمانی سیکریٹری برائے صحت ڈاکٹر نوشین حامد سے رابطہ کیا اور یہ تمام سوالات ان کے سامنے رکھے۔

ٹیسٹنگ کی صلاحیت پر ان کا کہنا تھا کہ ’ہمارے پاس صلاحیت ہے، لیبارٹریاں موجود ہیں، ٹیسٹنگ کٹس اور عملہ بھی موجود ہے مگر جتنے لوگ سامنے آئیں گے انہی کے ٹیسٹ ہوں گے۔ جو بھی ٹیسٹ کروانے کے لیے آتا ہے اسے انکار نہیں کیا جاتا۔۔۔۔ اگر زیادہ لوگ آگے آئیں گے تو ان کے بھی ٹیسٹ ہو جائیں گے۔‘

ٹیسٹنگ کٹ پاکستان میں بنانے کے دعوے

12 جون، 2020 کو وفاقی وزیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی فواد چوہدری نے اپنی ایک ٹویٹ میں نیشنل یونیورسٹی برائے سائنس و ٹیکنالوجی (نسٹ) کو مبارک باد دیتے ہوئے اعلان کیا تھا کہ نسٹ کی تیار کردہ کووڈ ٹیسٹنگ کٹ ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی (ڈریپ) سے منظور ہو گئی ہے۔

لیکن نو مہینے کا عرصہ گزرنے کے بعد ابھی تک یہ ٹیسٹنگ کٹ مارکیٹ میں نہیں آئی۔

ٹیسٹنگ کٹ پر پیش رفت کے حوالے سے جب نسٹ سے پوچھا گیا تو ان کے ترجمان کا کہنا تھا کہ ’بائیو ایتھکس کمیٹی نے کلینیکل ٹرائلز کے لیے کٹ میں ایک تبدیلی لازمی قرار دی ہے، جس پر کام ہو رہا ہے۔ ’کلینیکل ٹرائل کی منظوری کے بعد ہی یہ کٹ مارکیٹ میں آ سکتی ہے۔‘

ہسپتالوں میں کرونا کے لیے مختص بستروں کی تعداد میں اضافہ نہیں ہوا

پہلی لہر کے دوران حکومت نے تیزی سے نئے کرونا وارڈز بنائے تھے، جس کے بعد جون 2020 تک ملک بھر میں کرونا مریضوں کے لیے 22 ہزار کے قریب بستر موجود تھے۔ مگر اس وقت سے لے کر اب تک بستروں کی تعداد میں خاطر خواہ اضافہ نہیں ہوا۔

اکتوبر 2020 کے آخر میں جب کرونا وبا کی دوسری لہر زور پکڑ رہی تھی، اس وقت سے ہی عوام ہسپتالوں میں بستر نہ ہونے کی شکایات کر رہے تھے۔

جون اور جولائی 2020 میں ایک وقت ایسا بھی آیا جب پاکستان میں ایکٹو (فعال) کیسز کی تعداد ایک لاکھ سے زیادہ تھی۔ دوسری لہر میں ایک بار پھر کیسز میں اضافہ ہوا تھا۔ چھ دسمبر، 2020 کو پاکستان میں فعال کیسز کی تعداد 50 ہزار سے زائد ہو چکی تھی۔

اب ملک میں تیسری لہر بتدریج بڑھ رہی ہے مگر حکومت نے ہسپتالوں میں بستروں کی تعداد بڑھانے پر زور نہیں دیا۔

اس حوالے سے جب ڈاکٹر نوشین سے پوچھا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ ’کل، پرسوں پنجاب حکومت کا اجلاس ہوا ہے، بستروں کی تعداد اور صلاحیت بڑھانے کے لیے۔ ڈسکشن (گفتگو) ہو رہی ہے۔ انشا اللہ اس پر بھی کام ہو رہا ہے۔‘

ویکسین خریدنے میں تاخیر

چار مارچ، 2021 کو اسلام آباد میں پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے ایک اجلاس میں اخباری رپورٹ کے مطابق نیشنل ہیلتھ سروس کے سیکریٹری عامر اشرف خواجہ نے مطلع کیا کہ حکومت کرونا وائرس کا مقابلہ ’ہرڈ امیونٹی‘ اور عطیہ کی گئی ویکسین سے کرنا چاہتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ موجودہ سال میں حکومت کا ویکسین خریدنے کا کوئی ارادہ نہیں۔ مگر اس بیان کے دو ہفتوں بعد وفاقی وزیر اسد عمر نے اعلان کیا کہ حکومت چین سے ویکسین کی 10 لاکھ  خوراکیں خرید رہی ہے۔

یہاں پر سوال پیدا ہوتا ہے کہ حکومت نے یہ جانتے ہوئے کہ دنیا کے تمام ممالک کرونا ویکسین کو خریدنے کے خواہاں ہیں، آرڈر دینے میں جلدی کیوں نہیں کی؟

ویکسینیشن کے آغاز میں بھی پاکستان ہمسایہ ممالک سے قدرے پیچھے رہا ہے۔ بنگلہ دیش نے اپنی مکمل آبادی کے لیے مہم کا آغاز جنوری کے آخر میں کیا جب کہ پاکستان نے 60 سال سے زائد عمر کے افراد کے لیے ویکسینیشن کا آغاز مارچ کے دوسرے ہفتے سے کیا۔

عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے مطابق پاکستان نے 24 مارچ تک صرف تین لاکھ کے قریب ویکسین کی خوراکیں لگائیں جب کہ بنگلہ دیش 46 لاکھ، سری لنکا آٹھ لاکھ، بھارت ساڑھے تین کروڑ اور نیپال 16 لاکھ کے قریب ویکسین خوراکیں دے چکا ہے۔

ڈاکٹر نوشین سے جب پوچھا گیا کہ حکومت نے کرونا ویکسین خریدنے میں تاخیر کیوں کی تو ان کا کہنا تھا کہ ’ابھی تک دنیا کے بہت سے ممالک میں ویکسینیشن شروع ہی نہیں ہوئی اور جن 65 ممالک میں شروع ہوئی ہے، پاکستان ان میں شامل ہے۔‘

انہوں نے مزید وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ’ویکسین کی خریداری سے قبل پاکستان نے ویکسینیشن کا عمل شروع کر دیا تھا۔ حکومت پہلے ہی آرڈرز جاری کر چکی ہے۔ 10 لاکھ سائنوفارم ویکسین اور 60 ہزار کین سینو بائیو ویکسین خریدی جا چکی ہے، جو 28 مارچ تک پہنچ جائیں گی۔‘

بطور عطیہ ملنے والی ویکسین پر ان کا کہنا تھا کہ ’آپ کو ویکسین تحفے میں تب ہی ملتی ہیں جب آپ کے پاس ویکسین کو رکھنے اور صحیح پروٹوکولز کے مطابق لگانے کا نظام ہو۔ ہم نے اس تمام نظام کی صلاحیت ثابت کی تھی تو ہمیں یہ تحفے میں ملی۔‘

ویکسین مہم میں سست روی

مزید براں ملک بھر میں جاری ویکسینیشن کے عمل میں بھی حکومت سست روی کا شکار نظر آتی ہے۔

ملک بھر میں قائم ویکسینیشن سینٹرز پر نظر دوڑائیں تو پتہ چلتا ہے کہ 986 سینٹرز میں سے صرف ایک ایسا سینٹر (ڈاؤ ڈینٹل، کراچی) پر 24 گھنٹے ویکسینیشن کی جا رہی ہے۔

11 فیصد سینٹر ایسے ہیں جہاں صرف چھ گھنٹے، 44 فیصد پر نو، 32 فیصد پر 12 اور 12 فیصد سینٹروں میں 10 گھنٹے ویکسینیشن جاری ہے۔

18 مارچ تک پاکستان ایک دن میں 41 ہزار افراد کو ویکسینیشن لگا رہا تھا۔ اگر اسی رفتار سے ویکسینیشن جاری رہی تو صرف 60 سال سے زائد عمر کی مکمل آبادی کو ویکسین لگانے میں ایک سال لگے گا۔

ڈاکٹر نوشین کا اس حوالے سے کہنا تھا کہ ’اس عمل کی رفتار بڑھانے کی کوشش کی جا رہی ہے اور جیسے جیسے ویکسین آتی جائے گی، ویسے ویسے نئے سینٹر کھلتے جائیں گے۔‘

عوام کو ویکسین لگوانے کی تلقین عملی اقدامات میں نہیں بدل سکی

ویکسین کے حوالے سے دنیا بھر میں تحفظات سامنے آ رہے ہیں لیکن حکومت پاکستان کی جانب سے اس پر کوئی موثر مہم نظر نہیں آئی۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

جنوری 2021 میں گیلپ پاکستان کے ایک سروے کے مطابق 49 فیصد پاکستانیوں نے ویکسین لگوانے سے انکار کیا تھا، جس کے پیش نظر ضرورت اس امر کی تھی ایک موثر مہم کے ذریعے ویکسین لگوانے کی حوصلہ افزائی کی جاتی۔

جب 60 سال سے زائد عمر کے افراد کے لیے ویکسینیشن کا آغاز ہوا تو تب بھی وزیراعظم عمران خان خود ویکسین لگواتے نظر نہیں آئے۔ ان کے ویکسین لگوانے سے اس عمل پر اعتماد کا پیغام جا سکتا تھا۔

انہوں نے اسی دن کرونا ویکسین لگوائی جس دن ان میں کرونا وائرس کی علامات ظاہر ہونا شروع ہوئیں، جس کی تصدیق این سی او سی کے سربراہ اسد عمر کر چکے ہیں۔

ڈاکٹر نوشین کا کہنا تھا کہ ’جب ویکسینیشن شروع ہوئی تو جن لوگوں کے نام آ گئے تھے وہ بھی سامنے نہیں آ رہے تھے، ویکسین لگوانے کے لیے۔ حکومت کو دو طرح سے محنت کرنی پڑ رہی ہے، ایک تو اس بات پر کہ لوگوں کو ویکسین لگوانے کے لیے قائل کریں اور دوسرا ویکسینیشن سینٹرز کی سہولیات بڑھانے پر۔‘

ویکسین کے لیے مختص بجٹ کا استعمال نہ ہونا

18 نومبر، 2020 کو وزیراعظم عمران خان نے کرونا ویکسین کی خریداری کے لیے 10 کروڑ ڈالرز مختص کیے تھے، جسے بعد میں بڑھا کر 25 کروڑ ڈالرز کر دیا گیا۔

اس کے علاوہ حکومت نے پہلی لہر کے دوران 1200 ارب روپے کرونا پیکیج کے لیے مختص کیے تھے۔ ایکسپریس ٹریبیون کے صحافی شہباز رانا کی جنوری 2021 کی ایک خبر کے مطابق حکومت پاکستان نے ان 1200 ارب روپے میں سے 66 فیصد استعمال ہی نہیں کیا۔

وزیراعظم نے کرونا ریلیف فنڈ بھی قائم کیا تھا مگر اب اس فنڈ کی ویب سائٹ کا لنک بھی کام نہیں کرتا اور نہ ہی اب حکومت فعال طریقے سے عوام یا بیرون ملک مقیم پاکستانیوں سے اس فنڈ کے لیے عطیات مانگتی ہے۔

وزیراعظم عمران خان خود کرونا کے حوالے سے کتنا سنجیدہ تھے؟

وزیراعظم اگرچہ اپنے پیغامات میں عوام کو ماسک پہننے کی تلقین کرتے رہے ہیں مگر وہ متعدد تقاریب اور آس پاس لوگوں کی موجودگی میں بغیر ماسک پہنے نظر آئے۔

وزیراعظم کے معاون خصوصی شہباز گل تو وزیراعظم کے ماسک نہ پہننے کے عمل پر وزیراعظم کو ’دلیر‘ قرار دیتے رہے۔

اسلام آباد میں ہی جب وفاقی وزرا عوام کو کرونا کی تیسری ممکنہ لہر کے حوالے سے انتباہ کر رہے تھے تب شہر کی انتظامیہ کانسرٹ اور فیسٹیول کا انعقاد کروا رہی تھی۔

12، 13 اور 14 مارچ کو اسلام آباد کے کنونشن سینٹر میں ’اسلام آباد ٹیسٹ‘ کے نام سے ایک تقریب کا انعقاد کیا گیا جس میں بڑی تعداد میں عوام نے شرکت کی۔

اسی طرح 12 مارچ کو سینیٹ چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین کے انتخاب کے وقت بھی حکومتی جماعت کی کال پر بڑی تعداد میں کارکنان نے شاہراہ دستور پر جشن منایا۔ اس وقت اپوزیشن کے اراکین بھی موجود تھے مگر کرونا ایس او پیز کا نام و نشان دور دور تک نہیں تھا۔

پانچ سے سات مارچ کو اسلام آباد میں ایک اور تین روزہ ٹورسٹ فیسٹیول کا انعقاد کیا گیا جس میں کانسرٹ بھی تھے۔ اس میں بھی عوام نے کرونا ایس او پیز کو بالائے طاق رکھتے ہوئے بڑے پیمانے پر شرکت کی۔

 

حیرت انگیز بات یہ ہے کہ جس دن یہ فیسٹیول اختتام پذیر ہو رہا تھا اسی دن اسلام آباد کے ڈپٹی کمشنر نے اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ کے ذریعے عوام کو مطلع کیا کہ اسلام آباد میں گذشتہ سات دنوں میں کیسز کی تعداد میں دو گنا اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ مگر اس کے باوجود ان تمام تقاریب کو بغیر کسی روک ٹوک کے ہونے دیا گیا۔

حکومت کی جانب سے کرونا وائرس کے حوالے سے جاری ڈیٹا پر بھی سوالات کیے جا رہے ہیں۔

حکومتی اعداد و شمار کے مطابق 24 مارچ تک پورے پاکستان میں کرونا متاثرین کی تعداد چھ لاکھ 37 ہزار ہے جب کہ مارکیٹ ریسرچ کرنے والی بین الاقوامی تنظیم اپسوس (IPSOS) کے ایک سروے کے مطابق ملک میں کرونا متاثرین کی تعداد ایک کروڑ 50 لاکھ ہے۔

اپسوس کے سروے میں ایک ہزار افراد سے کرونا وائرس کے متعلق پوچھا گیا جن میں سے چار فیصد کا کہنا تھا وہ کرونا وائرس کا شکار ہو چکے ہیں جب کہ سات فیصد کا کہنا تھا کہ ان میں وائرس کی علامات رہی ہیں مگر انہوں نے ٹیسٹ نہیں کروایا۔

زیادہ پڑھی جانے والی صحت