ماحولیات پر اجلاس میں پاکستان کو نہ بلانے پر امریکہ کی وضاحت

ماحولیات پر ’لیڈرز سمٹ‘ میں پاکستان کے نہ ہونے پر امریکی محکمہ خارجہ نے کہا ہے کہ اس اجلاس کا مقصد عالمی سطح پر 80 فیصد دھویں کے اخراج اور عالمی جی ڈی پی کی ذمہ دار اہم معیشتوں کی حوصلہ افزائی کرنا ہے۔

(اے ایف پی)

ماحولیات پر ’لیڈرز سمٹ‘ میں پاکستان کے نہ ہونے پر امریکی محکمہ خارجہ نے کہا ہے کہ اس اجلاس کا مقصد عالمی سطح پر 80 فیصد دھویں کے اخراج اور عالمی جی ڈی پی کی ذمہ دار اہم معیشتوں کی حوصلہ افزائی کرنا ہے۔

امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان نے بتایا کہ اقوام متحدہ کے زیر اہتمام نومبر میں ہونے والی ماحولیاتی تبدیلی پر کانفرنس ’COP-26 سے پہلے لیڈرز سمٹ ماحولیات سے ہونے والے متعدد اہم ایونٹس میں سے صرف ایک ہے۔‘

انڈپینڈنٹ اردو کے سوال پر بذریعہ ای میل جواب دیتے ہوئے محکمہ خارجہ کے ترجمان کا کہنا تھا کہ ’ہم حکومت پاکستان اور دیگر حکومتوں کے ساتھ مل کر ماحولیاتی چیلنج سے نمٹنے کے لیے عالمی مقاصد کو بڑھانے کے لیے پرعزم ہیں۔‘

خیال رہے کہ جمعہ (26 مارچ) کو امریکی وائٹ ہاؤس کی جانب سے جاری اعلامیے میں کہا گیا تھا کہ صدر بائیڈن نے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی، بنگلہ دیشی وزیراعظم حسینہ واجد، ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان سمیت دنیا کے 40 سربراہان مملکت کو ماحولیات پر ورچوئل سمٹ میں مدعو کیا تھا۔ یہ سمٹ 22 سے 23 اپریل کو ہو گی۔

امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان نے وضاحت کرتے ہوئے بتایا کہ ’سمٹ کا مقصد عالمی سطح پر 80 فیصد دھویں کے اخراج اور عالمی جی ڈی پی کی ذمہ دار اہم معیشتوں کی حوصلہ افزائی کرنا ہے تاکہ وہ عالمی تپش کو 1.5 ڈگری سیلسیئس تک روکنے کے ہدف کو جاری رکھیں۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ترجمان کے مطابق امریکہ ماحولیاتی بحران سے نمٹنے کے لیے تمام ممالک کے ساتھ شراکت داری کا خواہاں ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ امریکہ سمٹ کے مقاصد کے حوالے سے تمام حکومتوں کی جانب سے جاری بیانات کا خیر مقدم کرتا ہے۔

واضح رہے کہ سمٹ کے اعلان کے بعد پاکستان کے حکومتی وزرا کی جانب سے اس بات پر حیرت کا اظہار کیا گیا تھا کہ پاکستان کے ماحولیات کے حوالے سے منصوبوں کی بین الاقوامی پذیرائی کے باوجود پاکستان کو مدعو کیوں نہیں کیا گیا۔

وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق شیریں مزاری نے ایک ٹویٹ میں برطانوی ہائی کمشنر کے ایک بیان جس میں انہوں نے دس بلین ٹری پراجیکٹ دنیا کے لیے مثال قرار دیا تھا، کا حوالہ دیتے ہوئے برطانوی ہائی کمیشنر کو کہا کہ ’شاید وہ ہی واشنگٹن کو اس حوالے سے آگاہ کر سکتے ہیں۔‘

اس کے علاوہ پاکستان کے دفتر خارجہ نے بھی ہفتے (27 مارچ) کو ایک بیان میں کہا تھا کہ ’ماحولیاتی تبدیلی ہمارے دور کا ایک بڑا چیلنج ہے جس کا مقابلہ صرف جامع تعاون اور مستقبل کی پالیسیوں کے ذریعے ہی کیا جاسکتا ہے۔ پاکستان اس لڑائی میں اپنا بھرپور کردار ادا کرنے کے لیے پوری طرح پرعزم ہے۔‘

اپوزیشن جماعتوں نے بھی وزیراعظم عمران خان کو سمٹ میں مدعو نہ کیے جانے پر تحریک انصاف کی حکومت پر تنقید کی تھی۔

ن لیگ کے رہنما اور سابق وزیر داخلہ احسن اقبال نے اپنی ایک ٹویٹ میں لکھا کہ ’امریکی صدر نے ماحولیاتی تبدیلی پر سربراہی اجلاس کے لئے 40 سربراہان کو مدعو کیا ہے مگر سونامی ٹری فراڈ والے مفتی عمران نیازی مدعو نہیں کئے گئے- بھارت، بنگلہ دیش، بھوٹان مدعو ہیں پاکستان نہیں جبکہ دنیا کے پہلے 10 ماحولیاتی تبدیلی سے متاثر ممالک میں شامل ہے-‘

زیادہ پڑھی جانے والی ماحولیات