برطانوی حکومت نئی ماؤں کے لیے کچھ نہیں کر رہی

زچگی سے قبل اور بعد میں خراب دماغی صحت بہت حقیقی ہے اور زوم یا فون پر مدد نہیں کی جاسکتی، لہذا حکومت کو اب گھروں کے دوروں کے لیے وسائل فراہم کرنا ہوں گے۔

کووڈ 19 کے دیگر عوامل نے نئی ماؤں کے تجربے کو خراب کر دیا ہے(فائل تصویر: اے ایف پی)

کسی بھی ماں کی طرح میں اپنے بچوں اور ان کے مستقبل کی فکر کرتی ہوں۔ گھر سے کام کرنے کا ایک غیر متوقع فائدہ یہ ہوا ہے کہ میں اپنے بچوں کے ساتھ ماضی سے کہیں زیادہ وقت گزار سکتی ہوں۔

اس بات کا مستقل احساس کہ میں انہیں مناسب وقت اور توجہ نہیں دے سکی، ہمیشہ مجھ پر پر حاوی رہتا ہے، لہذا یہ زبردست بات ہے کہ دن کے اختتام پر زوم کو بند کرکے میں نچلی منزل پر ان کے ساتھ رہنے کے قابل ہو سکی۔ دیر تک پارلیمان میں ووٹوں کے لیے باگ دوڑ کی بجائے ان کے ساتھ کھانا پکا سکی اور ان کو کہانیاں پڑھ کر سنا سکی۔

چھوٹی سی عمر سے ہی میں ہمیشہ جانتی تھی کہ میں ماں بننا چاہتی ہوں۔ جب میں نے 12 سال پہلے اپنے پہلے بچے کو جنم دیا تو میں ایک معاون ساتھی، ایک مددگار خاندان، پیشہ ورانہ صحت سے متعلق معاونت اور نئی ماؤں کے ایک گروپ کی بدولت زچگی کے ابتدائی چیلنجوں پر قابو پا سکی۔

ان میں سے کسی ایک سے انکار یا کمی مشکل ہوتی۔ اگر سب کچھ سے انکار کیا جاتا تو یہ سب تباہ کن ہوتا۔ پچھلے سال کے دوران بہت ساری نئی ماؤں اور حاملہ خواتین کے لیے یہ ایک حقیقت رہی ہے۔

اہل خانہ یا دوستوں سے نہ مل سکنے یا زچگی سے قبل ان گروپوں سے ماسوائے زوم کے ملنے سے قاصر ہونے کی وجہ سے، تین لاک ڈاؤنز اور ہسپتالوں میں پابندیوں نے اضطراب اور تنہائی کے احساس کو بڑھا دیا تھا۔ دسمبر تک وبا کے دوران حاملہ خواتین کو زچگی سے قبل طبی مشاورت اور زچگی کے دوران اپنے ساتھی کی موجودگی تک کی اجازت نہیں تھی۔ زیادہ خطرے سے دوچار حمل والی ممکنہ ماؤں کو اہم سکین خود ہی کرنے پڑے۔

یہی وجہ ہے کہ میں نے ہاؤس آف کامنز کے ساتھ مل کر ایک سروے کیا جس میں نئی ​​اور متوقع ماؤں سے وابستہ بیماریوں کے دوران اپنے تجربات بتانے کا کہا گیا تھا۔ 11000 سے زیادہ خواتین نے اس میں حصہ لیا اور ان کے ردعمل حیرت انگیز طور پر قابل تشویش تھے۔

لبِ لباب یہ تھا کہ تنہائی میں جنم دینا اور نوزائیدہ کی دیکھ بھال کا تجربہ کتنا مشکل ہوگیا ہے۔ جیسا کہ جنوب مشرقی انگلینڈ سے تعلق رکھنے والی زلیا نے لکھا: ’تمام (طبی عملے سے) ملاقاتوں میں، میں تن تنہا اور ایس او پیز کا خیال رکھتے ہوئے شریک ہوئی، بچے کی پیدائش اکیلے میں ہوئی، ہسپتال میں کوئی دیکھنے نہیں آسکتا تھا، خاندان کا کوئی بھی فرد آپ کے نوزائیدہ سے ملنے اور اس کے بعد آپ کی مدد کرنے کا اہل نہیں تھا۔ یہ میرا تنہائی اور الگ تھلگ رہنے کا سب سے بڑا تجربہ تھا۔‘

ان کی کہانی عام ہے۔ سٹیٹ آف ہیلتھ وزٹنگ سروے 2020 میں کچھ افسوسناک نتائج سامنے آئے۔ ایک رپورٹ کے مطابق صحت کے عملے میں 81 فیصد کی ذہنی بیماری میں اضافہ ہوا ہے جبکہ 76 فیصد لوگوں نے فوڈ بینکوں کے استعمال میں اضافے اور تقریر/ مواصلات میں تاخیر کی اطلاع دی ہے۔

کووڈ 19 کے دیگر عوامل نے نئی ماؤں کے تجربے کو خراب کر دیا ہے۔ وبائی بیماریوں کے دوران صاحب اولاد 13 فیصد مردوں کے مقابلے میں 20 فیصد ماؤں نے اپنی ملازمتوں سے ہاتھ دھوئے جبکہ سکولوں کی بندش کی وجہ سے بہت ساری مائیں نوزائیدہ بچے کی دیکھ بھال کے ساتھ ساتھ گھر پر سکولنگ پر توجہ دینے پر مجبور ہیں۔

نہ صرف وبائی بیماریوں نے خواتین کو اپنی پیشہ ورانہ زندگی میں غیر متناسب طور پر متاثر کیا ہے بلکہ اب جن پابندیوں کے تحت ہم زندگی گزار رہے ہیں، اس نے صحت کی دیکھ بھال تک ہماری رسائی کو انتہائی حد تک محدود کر دیا ہے۔ چونکہ ہنگامی داخلے کے لیے وسائل کو ترجیح دی جاتی ہے، اس کی وجہ سے پیرنٹل کیئر میں ڈیجیٹل اور ٹیلی فون مشاورت کے استعمال میں اضافہ ہوا ہے۔

میری اپنی والدہ کئی سالوں سے ہیلتھ وزیٹر تھیں، لہذا چھوٹی عمر ہی سے، میں اس بات سے بخوبی واقف ہوگئی تھی کہ دروازے پر دوستانہ دستک ایک نئی ماں کے لیے کتنا اہم ہوسکتی ہے۔ تربیت یافتہ اور تجربہ کار صحت کا عملہ ماں اور بچے کا مشاہدہ کرسکتا ہے اور شناخت کرسکتا ہے کہ آیا اضافی مدد کی ضرورت ہے یا نہیں۔ یہ معاونت ابتدائی ہفتوں میں نئی ​​ماؤں کے لیے بہت ضروری ہے جو زوم یا فون پر آسانی سے نہیں مہیا کی جاسکتی۔

زچگی سے متعلق ذہنی صحت کے اتحاد میٹرنل مینٹل ہیلتھ الائنس اور مرکز برائے دماغی صحت (سینٹر فار مینٹل ہیلتھ) نے حال ہی میں رضاکارانہ اور معاشرتی شعبے (وی سی ایس) تنظیموں میں زچگی کے دوران ذہنی صحت کی خدمات پر کووڈ 19 کے اثرات جاننے کے لیے ایک سروے کیا۔ نتائج نے قانونی خدمات میں کمی کو اجاگر کیا جو صحت کے عملے کی نئی جگہ تعیناتی اور جی پیز اور دائیوں کی خدمات میں رکاوٹ کے نتیجے میں سامنے آئی۔ وی سی ایس کو اب ان خالی جگہوں کو پُر کرنا پڑ رہا ہے، جس سے پہلے سے ہی پھیلی ہوئی صلاحیت پر مزید دباؤ پڑا ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

تو کیا کیا جا سکتا ہے؟ سب سے پہلے مرحلے میں عارضی صلاحیت میں ان کمزوریوں کو دور کرنا ہے۔ جب صحت کا عملہ اتنا پھیل جاتا ہے تو ہم معیاری خدمات کی فراہمی کی توقع نہیں کرسکتے ہیں۔ اس وبائی بیماری کے علاوہ یہ ایک ایسی سروس تھی جسے پہلے ہی ناقص فنڈز دیئے جا رہے تھے۔ اس کا ثبوت صحت کے ملازمین میں 2015 کے بعد سے 31 فیصد کی کمی دیکھی گئی ہے۔ سٹیٹ آف ہیلتھ وزٹنگ سروے نے یہ بھی پایا ہے کہ 65 فیصد صحت کا عملہ 300 سے زیادہ پانچ سال سے کم عمر کے بچوں کو دیکھ رہا تھا جبکہ 29 فیصد 500 سے زائد بچوں کے معاملات دیکھ رہا تھا۔ موثر پریکٹس کے لیے زیادہ سے زیادہ کیس کا بوجھ 250 بچے ہیں۔

مزید یہ کہ رائل کالج آف مڈوائیوز کو معلوم ہوا ہے کہ 3000 مڈوائیوز کی کمی ہے۔ ہماری مڈوائیوز یا دائیوں کو اس قابل بنانا کہ وہ حاملہ خواتین اور حمل کے دوران اور بعد از پیدائش ماؤں کو زیادہ اچھی ذہنی صحت برقرار رکھنے میں مدد دیں، اس شعبے میں مزید سرماریہ کاری اور تربیت کی ضرورت ہے۔  

پیرینٹل ذہنی صحت کی طویل المدتی معاشرتی لاگت کا تخمینہ ہر ایک سال کے لیے سالانہ 8.1 ارب پاؤنڈ ہے۔ اس لاگت کا تقریبا تین چوتھائی حصہ بچے پر پڑنے والے اثرات کی قیمت ہے۔ مشکل سے دوچار کنبوں کی مدد کے لیے ابتدائی مداخلت کی مالی قدر واضح ہے لیکن یہاں محبت اور مددگار خاندانوں کی تعمیر کی ایک بہت ہی قدر کی قیمت بھی ہے۔

حکومت اس وجہ سے مناسب طریقے سے زچگی و ذہنی صحت کے مسئلے کو حل کر سکتی ہے، جس کے لیے اسے صحت کے عملے کے گھروں کے دورے کے لیے وسائل مختص کرنے چاہییں۔

اس کو یقینی بنانا چاہیے کہ ڈیجیٹل مشاورت معمول کی حیثیت اختیار نہیں کرتی اور ہماری دائیوں کو ان کے کام کو موثر انداز میں سرانجام دینے کے لیے جو بھی مالی مدد درکار ہو انہیں مہیا کی جانی چاہیے۔ میں نے ذہنی صحت، خود کشی کی روک تھام اور مریضوں کی حفاظت کے وزیر نادین ڈوریس کو خط لکھا ہے تاکہ وہ ویسٹ منسٹر ہال مباحثے میں اپنی خیرمقدم شراکت کی طرح اس سلسلے میں ہر ممکن کوشش کرسکیں۔ بیان بازی کا وقت گزر چکا ہے اب صرف کارروائی ہی مناسب ہوگی۔

ہمارے پاس صحت کی خدمت کے ذریعے پہلے سے ہی یہ مدد فراہم کرنے کا ڈھانچہ اور طریقہ کار موجود ہے لیکن جب تک حکومت اس کی مالی اعانت کا وعدہ نہیں کرتی ہے، ہم مستقبل کی ماؤں کے لیے کچھ نہیں کر رہے ہیں اور ان کے لیے ان کے نوزائیدہ بچوں کی دیکھ بھال محدود کر رہے ہیں۔ زچگی سے قبل اور بعد میں ذہنی صحت ایک بہت ہی حقیقی مسئلہ ہے جس پر فوری طور پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ حکومت کو اب حرکت میں آنا چاہیے۔

سارہ اولنی رچمنڈ پارک سے لبرل ڈیموکریٹ پارٹی کی رکن پارلیمان ہیں۔

© The Independent

زیادہ پڑھی جانے والی گھر