’پاکستانی بلے باز معمولی ہدف کو بھی اپنے لیے مشکل بنا سکتے ہیں‘

جنوبی افریقہ کے خلاف پہلے ون ڈے میں پاکستان کے بلے بازوں نے آخری اوور میں تین رنز کا معمولی ہدف بھی اتنا مشکل بنا دیا کہ میچ کا فیصلہ آخری گیند پر ہوا۔

جنوبی افریقی بولر پاکستان سے سنسنی خیز میچ ہارنے کےبعد (اے ایف پی)

اگر کسی معمولی سے بلے باز کے پاس بھی چھ گیندیں ہوں اور ہدف اس کا نصف یعنیٰ تین رنز ہو تو وہ اطمینان سے اسے پورا کر لے گا لیکن اگر پچ پر پاکستان کے بہترین بلے باز بھی موجود ہوں تو وہ آپ کی سانسیں روک سکتے ہیں۔ وہ اس معمولی ہدف کو اتنا مشکل بنا دیں گے کہ میچ آخری گیند تک پہنچ جائے گا۔

سنچورین کے سپر سپورٹس گراؤنڈ پر ایسا پہلی دفعہ نہیں ہوا جب پاکستان ٹیم نے ایک آسان ہدف کے تعاقب کو خود ہی مشکل بنا لیا ہو۔

پاکستان کے لیے 274 رنز کا ہدف کپتان بابر اعظم کی سنچری نے آسان کردیا تھا لیکن میڈل آڈر بلے بازوں نے نہ صرف اسے مشکل بنا دیا بلکہ بابر کی ایک اور قابل دید اننگز کو ضائع کرنے کا پورا بندوبست بھی کرلیا تھا۔

وہ تو غنیمت جانیے کہ آخری گیند پر فہیم اشرف کا شاٹ کیگیسو ربادا روک نہ سکے ورنہ بات سپر اوور تک پہنچ گئی تھی۔ میچ کا فیصلہ سنسنی خیز انداز میں آخری گیند پر ہوا۔

پاکستان کے کپتان بابر جمعے کو کھیلے گئے پہلے ون ڈے میں بہت خوش قسمت رہے۔ وہ پہلے ٹاس جیتے، جس سے ایک تیز باؤنسی وکٹ پر ٹیم پہلے بیٹنگ کرنے سے بچ گئی۔

پھر پاکستانی بولرز  نے جنوبی افریقہ کو زیادہ رنز بھی نہیں کرنے دیے۔ جب ان کی اپنی بیٹنگ آئی تو دو چانسز کے بعد انہوں نے شاندار سنچری بنا ڈالی۔

ان کی بیٹنگ میں سکون اور اعتماد جھلک رہا تھا۔ شروع میں رن ریٹ سلو ہونے کے باوجود وہ قطعاً نہ گھبرائے اور امام الحق کے ساتھ پارٹنر شپ کو بڑھاتے رہے۔

جنوبی افریقہ کے 273 رنز کا مجموعہ پاکستان کی بیٹنگ کے عدم تسلسل سے مشکل تو نظر آرہا تھا لیکن بابر اعظم پر سب کو اعتماد بھی تھا اور انہوں نے ایک بار پھر یہ کر دکھایا۔

بابر اور امام نے ایسے وقت میں 177 رنز کی رفاقت کی جب پاکستان بظاہر کمزور نظر آرہا تھا۔  فخر زمان ایک بار پھر ناکام رہے اور آٹھ رنز بنا کر آؤٹ ہوئے۔

امام ابتدا میں پریشان نظر آئے لیکن جب بابر کو اعتماد سے کھیلتا دیکھا تو انہیں بھی ہمت ملی۔

بابر جب 103 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے تو سب کچھ صحیح سمت میں جا رہا تھا۔ امام نے بھی 70 رنز جڑ لیے تھے  لیکن اس وقت افریقن بولر نورکیا نے یکے بعد دیگرے چار وکٹ لے کر پاکستانی کیمپ کا سکون ختم کردیا اور میچ اپنی ٹیم کی گود میں ڈال دیا۔

پہلے امام اور پھر آصف علی غیر ضروری شاٹ کھیلتے ہوئے آؤٹ ہوئے۔ پہلی بار کھیلنے والے دانش عزیز کا آغاز بھی مثالی نہ بن سکا وہ محض تین رنز بنا کر رخصت ہوئے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

یوں 203 پر پاکستان کی پانچ وکٹیں گر چکی تھیں۔تاہم اس موقعے پر شاداب خان اور محمد رضوان نے 53 رنز کی پارٹنر شپ لگا کر میچ ایک بار پھر پاکستان کی طرف موڑ دیا۔

 اس موقعے پر جب رضوان 40 رنز بنا کر آؤٹ تو ہوئے تب بھی میچ پاکستان کی گرفت میں تھا۔ شاداب 33 رنز پر کھیل رہے تھے اور آخری اوور میں فتح کے لیے ٹیم کو صرف تین رنز درکار تھے ایسے میں شاداب نے غیر ضروری اونچا شاٹ کھیلا اور آؤٹ ہوگئے۔

پاکستان کی سات وکٹیں گر چکی تھیں لیکن اطمینان کی بات یہ تھی کہ فہیم ابھی کریز پر موجود تھے۔

تاہم امیدوں کے برعکس انہوں  نے ہدف کو مزید مشکل بنا کر شائقین کی سانسیں روک لیں لیکن آخر کار پاکستان آخری گیند پر جیت ہی گیا۔

جنوبی افریقہ کی طرف فان دا ڈوسن  نے 123 رنز کی شاندار اننگز کھیلی لیکن ان کی یہ سنچری رائیگاں گئی۔ انہوں نے مشکل حالات میں ٹیم کو سہارا دیا لیکن دوسرے بلے باز جلد بازی کا شکار رہے۔ فقط ڈیوڈ ملر نے ذمہ داری سے بیٹنگ کی اور 50 رنز بنائے۔

پہلے ایک روزہ میچ میں بابر  نے اپنی 13ویں سنچری سکور کی۔ اس طرح اب وہ افغانستان اور بنگلہ دیش  کے علاوہ ہر ٹیسٹ سٹیٹس ٹیم کے خلاف سنچری بنا چکے ہیں۔

پاکستان کے ایسے میچز جو سنسنی خیز انداز میں جیت پر مکمل ہوئے ان میں سے یہ میچ بھی شامل ہو چکا ہے۔

 

زیادہ پڑھی جانے والی کرکٹ