رانا ثنا اللہ کی جُگتیں

ایک طویل عرصے تک سمجھا جاتا رہا کہ حفیظ شیخ اور جہانگیر ترین ناقابل تذلیل ہیں۔ اگر یہ سب کچھ ان کے ساتھ ہو سکتا ہے تو اس حکومت میں کون سی دستار ایسی ہے جو بچ پائے گی؟

جہانگیر ترین جیسے لوگ اگر  2018 میں سیاسی منظر نامہ تبدیل کروانے میں کارآمد ہو سکتے ہیں تو وہ اگلے انتخابات میں ایسا کیوں نہ کریں گے؟ (اے ایف پی)

رانا ثنا اللہ فیصل آباد کی روایت کے مطابق جگت لگانے کا کوئی موقع نہیں چھوڑتے۔ جہانگیر ترین کی کورٹ پیشیوں پر معنی خیز انداز سے ہنستے ہوئے یہ کہنا کہ ظلم کی رات ختم ہونے والی ہے کیوں کہ جہانگیر ترین ضمانت قبل از گرفتاری کے لیے جج کے سامنے درخواست دیتے ہوئے دیکھے گئے ہیں۔ یہ ایک کاٹ دار سیاسی حملہ بھی ہے اور بالواسطہ نیم مزاحیہ جملہ بازی بھی۔

مگر جملے کی اصل شرارت نظام کی ان کمزوریوں کی نشاندہی ہے جس کے کئی حوالے جہانگیر خان ترین اور ان کے خاندان سے جڑتے ہیں۔

پہلا حوالہ تو وہ بےمثال سیاسی روایت ہے جس کی ایجاد اسی حکومت کے دور میں ہوئی اور وہ ہے اپنے محسنوں کو اپنے نقادوں سے زیادہ رگیدنے کا عمل۔

اس کی حالیہ مثال تو ڈاکٹر حفیظ شیخ ہیں جن کو اسد عمر کو گرا کر کھڑا کر کے ایک معاشی دیوتا و مسیحا کے طور پر پوجا پاٹ کا اڑھائی سال تک نظام بنایا گیا۔

یوں لگتا تھا کہ حفیظ شیخ نہیں ہمارے مقدر کا سکندر آ گیا ہے جو معاشی فتوحات کے وہ جھنڈے گاڑے گا کہ نریندر مودی جل مرے گا۔ ڈاکٹر صاحب کے ساتھ آخر میں جو ہوا وہ اپنے بنائے بتوں کی شکنی کی ایک اعلی مثال ہے۔

عوام میں سب سے ناپسندیدہ حقیقت یعنی گھروں کو تباہ کرنے والی مہنگائی کا ذمہ دار ٹہراتے ہوئے الزامات کی بارات کے ساتھ رات و رات رخصت کر دیا۔

اب وہ انفرادی ملاقاتوں میں چہرے پر مصنوعی مسکراہٹ جمائے دوستوں کو یہ باور کرواتے ہیں کہ اصل نقصان پاکستان کا ہوا ہے۔ حقیقت میں ڈاکٹر صاحب کے ساتھ بھی ہاتھ کچھ کم نہیں ہوا۔

اگر وہ جہانگیر خان ترین کے ساتھ بننے والے حالات پر تھوڑی سی توجہ دے لیتے تو اپنی تاج پوشی کے بعد سرکاری تعریف کی دھند میں سے اپنے نام کو بٹہ لگنے کے امکانات سے متعلق اشاروں کو دیکھ لیتے۔

جہانگیر ترین پاکستان تحریک انصاف کی اٹھان کو کامیابی کی حقیقت میں تبدیل کرنے والے شاید ایک واحد شخص ہیں جنہوں نے عمران خان کے لیے ایسے بندوبست بھی کیے جو اس کی سیاسی ذمہ داری نہیں تھی۔

2018 کے انتخابات کی تمام تر منصوبہ بندی کا مرکزی کردار، ہر قسم کے مسائل کے لیے تریاق کے طور پر پیش کیا جانے والا یہ جادوگر عمران خان حکومت کے ہاتھوں ایسے گھسیٹا جائے گا کہ شریف خاندان بھی اس سے ہمدردی کرنے لگے۔ کبھی سوچا بھی نہ ہو گا۔

چینی سکینڈل کے نام پر پہلے ملک سے بھگایا اور پھر یہ امید دلائی کہ واپس آکر خاموشی سے کام کریں تو معاملات درست ہو جائیں گے۔

مگر اب ویسی ہی ایف آئی آرز ہیں کہ جیسے بدترین مخالفین کے خلاف درج کروائی جاتی ہیں۔ کالے دھن کو سفید کرنے اور معاشی فراڈ کر کے شیئر ہولڈرز کو چونا لگانے کے وہی کیسز ہیں جو شہباز شریف کے خاندان کے خلاف بنائے گئے ہیں۔

جب گھر کی خواتین کے نام داماد سمیت مقدمات کی زینت بننے لگیں تو شہزاد اکبر جیسے نمائندگان کے بیانات زخموں پر نمک پاشی کے مترادف ہیں کہ جہانگیر ترین کو ہدف نہیں بنایا جا رہا۔

اگرچہ رانا ثنا اللہ نے یہ بات اشارے کے طور پر کی ہے لیکن یہ حقیقت اب کھل چکی ہے کہ عمران خان نے پنجاب جیسے اہم صوبے میں اپنے ذاتی تحفظات کو ایک ایسے خطرے میں تبدیل کر دیا ہے کہ جس کی موجودگی میں کسی بیرونی دشمن کی ضرورت نہیں۔

جنوبی پنجاب سے تین بڑے نام موجودہ نظام سے نالاں ہیں۔ جاوید ہاشمی پارٹی چھوڑ چکے، جہانگیر ترین تھانہ کچہری کے چکر میں ڈال دیے اور شاہ محمود قریشی کو جنوبی پنجاب سیکریٹریٹ کو بذریعہ لاہور کنٹرول کرنے والے نوٹیفیکیشن کے تنازعے نے اس حد تک بدظن کیا ہوا ہے کہ وہ بامشکل خود کو قابو میں رکھ کر اپنا کام کر رہے ہیں۔ جب کوئی جماعت اپنے بنانے والوں کو ڈھانے لگے تو فیصل آباد والے جملے تو کسیں گے۔

دوسرا حوالہ کارکردگی سے متعلق ہے۔ پچھلے ہفتے اتفاقا پنجاب حکومت کے چھ وزرا سے بات کرنے کا موقع ملا۔ ان میں اتحادی جماعتوں کا بھی ایک اہم نمائندہ موجود تھا۔ مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والے یہ وزرا بظاہر بہترین تجربے سے گزر رہے ہیں، جھنڈے والی گاڑیاں، طاقت، اثر و رسوخ، حلقے کی سیاست اپنے قبضے میں، ان کی طرف سے عثمان بزدار کے خلاف شکایت کی کوئی وجہ نہیں تھی لیکن انفرادی بات چیت میں سب سر پیٹتے ہوئے محسوس ہوئے۔ انداز حکمرانی کی ایسی ایسی داستانیں سنائیں کہ آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں۔

آفس میں چپڑاسیوں کی تعیناتیوں سے لے کر بڑے لیول پر تبادلے کے نہ ختم ہونے والے سلسلے نے پنجاب کی بیوروکریسی کو تہس نہس کر دہا ہے۔

یہ منسٹرز ایک ہی بات دہرا رہے تھے کہ کس طرح پنجاب گورننس کے اعتبار سے بلوچستان کے قریب پہنچ گیا ہے۔ ایک تو اس کو فیصلہ سازی میں کے پی گروپ کی غیر معمولی مرکزیت کو مورد الزام ٹہرا رہا تھا اور کہہ رہا تھا کہ یہ سب کچھ جان بوجھ کر کیا جا رہا ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

یہ وہ لوگ ہیں جو پنجاب کی حکومت کے بازو اور ٹانگیں ہیں۔ اب یہ اعضا گواہی دے رہے ہیں کہ جسم کی حالت کیا ہے۔ پنجاب میں گورننس کے ہدف کے تمام جھٹکے پنڈی اور آبپارہ میں محسوس کیے جاتے ہیں۔

یہاں پر اہم فیصلہ ساز نمائندگان بازار میں ہونے والی پریشان کن بات چیت سے ناآشنا نہیں ہیں۔ وہ یہ جانتے ہیں کہ اس تمام فساد کا الزام عوام کس پر دھرتے ہیں۔

ان کی طرف سے دی جانے والی وضاحت کہ فی الحال پنجاب میں متبادل موجود نہیں ہے اب ان حالات کا دفاع کرنے میں مکمل طور پر ناکام ہیں جس کا آدھے پاکستان کے صوبے کو سامنا تھا۔

ستم ظریفی یہ ہے کہ خیبر پختونخوا میں بھی معاملات انتہائی مخدوش ہیں لیکن چونکہ توجہ پنجاب پر مبذول ہے لہذا وہاں کی داستانیں پس منظر میں چلی جاتی ہیں۔

تو ایک طرف محسن کشی اور دوسری طرف گورننس پر خود کشی۔ مل کر یہ دونوں عوامل ان امکانات کی طرف اشارے کرتے ہیں جن پر رانا ثنا اللہ نے پھبتی کسی۔

یہی وجہ ہے کہ اپوزیشن کے اتحاد پی ڈی ایم کی شکست و ریخت سے حکومت فائدہ اٹھانے کی پوزیشن میں نہیں ہے۔ ویسے بھی پی ڈی ایم نے جلسے جلوسوں کے علاوہ کبھی خطرے کی ایسی گھنٹی نہیں بجائی کہ حکمرانوں کی دوڑیں لگ جائیں۔

لہذا پی ڈی ایم کا ہونا، آپس میں لڑنا اور لڑ کر نہ ہونا حکومت کا درد سر یا فائدہ نہیں ہے۔ حکومت کا اصل چیلینج وہ اندھے کنویں ہیں جو اس نے بڑی محنت سے اپنے لیے کھود رکھے ہیں۔

اگر جہانگیر ترین جیسے لوگ 2018 میں سیاسی منظر نامہ تبدیل کروانے میں کارآمد ہو سکتے ہیں تو وہ اگلے انتخابات میں ایسا کیوں نہ کریں گے؟ جو منسٹرز طاقت میں ہو کر مغموم ہیں وہ کسی بھی بہانے سے وقت آنے پر ساتھ کیوں نہ چھوڑیں گے۔ جنہوں نے پاکستان بچانے کے لیے یہ گورکھ دھندہ بنایا تھا کیا وہ اپنی عزت بچانے کے لیے نہیں گرائیں گے؟

حفیظ شیخ اور جہانگیر ترین ایک طویل عرصے تک یہ سمجھتے رہے کہ وہ ناقابل تذلیل ہیں۔ اگر یہ سب کچھ ان کے ساتھ ہو سکتا ہے تو اس حکومت میں کون سی دستار ایسی ہے جو بچ پائے گی؟


نوٹ: یہ تحریر مصنف کی رائے پر مبنی ہے ادارے کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی زاویہ