’ جامعہ بلوچستان ایک ارب سے زائد کی مقروض‘: مالی بحران شدید ہوگیا

اکیڈمک سٹاف ایسوسی ایشن کے نائب صدر فرید خان اچکزئی کے مطابق: ’صورت حال اس حد تک خراب ہے کہ جامعہ کے جتنے بھی ہیڈز تھے، ان سب کے اکاؤنٹس خالی ہوگئے ہیں اور یونیورسٹی ایک ارب 20 کروڑ روپے کی مقروض بھی ہے۔‘

(فیس بک جامعہ بلوچستان)

کوئٹہ میں واقع صوبے کی قدم درسگاہ جامعہ بلوچستان اس وقت مالی بحران کا شکار ہے، جس کے باعث اساتذہ اور ملازمین کو تنخواہوں کی ادائیگی بند ہوگئی ہے۔

تنخواہوں کی عدم ادائیگی اور دیگر مطالبات کے حق میں اساتذہ ایسوسی ایشن، آفیسرز سٹاف ایسوسی اور ایمپلائز ایسوسی ایشن کے زیر اہتمام جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے پلیٹ فارم سے احتجاج کیا جارہا ہے۔

اس احتجاج میں شامل اکیڈمک سٹاف ایسوسی ایشن کے نائب صدر فرید خان اچکزئی کے مطابق مالی بحران جہاں ایک طرف ہائر ایجوکیشن کی طرف سے فنڈز کی کٹوتی کے باعث ہے، وہیں جامعہ کے انتظامی امور میں ناقص منصوبہ بندی بھی اس کی ایک وجہ ہے۔

انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں فرید اچکزئی نے بتایا: ’اگر بروقت اور درست منصوبہ بندی کے تحت جامعہ کو ملنے والے فنڈز کا استعمال کیا جاتا تو شاید آج اس کی نوبت نہ آتی کہ ملازمین کو تنخواہیں نہیں مل رہی ہیں۔‘

واضح رہے کہ ملک بھر میں جامعات کو ہائر ایجوکیشن کمیشن اور صوبوں کی طرف سے فنڈز ملتے ہیں، جس کے باعث وہ اپنے مالی امور سرانجام دیتے ہیں۔

فرید اچکزئی کے مطابق: ’جامعہ کی انتظامیہ نے مالیاتی فنڈز جیسے جی پی فنڈ، پنشن اور بینوویلنٹ فنڈ کو تنخواہوں میں استعمال کیا، جس کے باعث آج یہ بحران پیدا ہوا۔‘

ان کا مزید کہنا تھا: ’یہ سلسلہ آج کا نہیں بلکہ گذشتہ دس سالوں سے ہم ایسی ہی صورت حال سے دوچار ہیں، جو فنڈز کی کمی کے ساتھ ساتھ انتظامی بحران بھی ہے۔‘

بقول فرید اچکزئی: ’صورت حال اس حد تک خراب ہے کہ جامعہ کے جتنے بھی ہیڈز تھے، ان سب کے اکاؤنٹس خالی ہوگئے ہیں اور یونیورسٹی ایک ارب 20 کروڑ روپے کی مقروض بھی ہے۔‘

فرید اچکزئی نے الزام عائد کرتے ہوئے بتایا کہ ’جامعہ کے انتظامی افسران نے نہ صرف کراچی کے پوش علاقے ڈیفنس میں بنگلے خرید رکھے ہیں بلکہ وہ بعض دیگر جگہوں پرسرمایہ کاری بھی کرچکے ہیں۔‘

ان کا کہنا تھا: ’جامعہ بلوچستان میں اس وقت 12 ہزار سے زائد طلبہ زیر تعلیم ہیں اور یہ پاکستان کا واحد ادارہ ہے، جو سب سےکم فیس کے عوض تعلیمی سہولیات فراہم کررہا ہے۔‘

انہوں نے بتایا کہ ’اس وقت جامعہ کو وفاقی اور صوبائی حکومت کی طرف سے فنڈز کی فراہمی بند ہوگئی ہے اور مالی بحران کے باعث غیر یقینی کی کیفیت ہے۔ تحقیقی کام بند ہوگئے ہیں جبکہ نوٹیفکیشن جاری کیا گیا ہے کہ تحقیق کرنے والوں کو کچھ شعبوں میں فنڈز فراہم نہیں کیے جاسکتے۔‘

فرید اچکزئی کے بقول: ’جب یہ حکومت آئی تو اس نے کہا کہ تعلیم کا بجٹ چار فیصد کریں گے، لیکن اس وقت ایچ ای سی نے یونیورسٹیوں کے بجٹ میں 50 فیصد کٹ لگادیا اور صوبائی حکومت بھی اس کو چلانے سے قاصر ہے۔‘

دوسری جانب فیڈریشن آف آل پاکستان یونیورسٹیز اکیڈمک سٹاف ایسوسی ایشن (فپواسا) نے بھی ہائر ایجوکیشن کمیشن کی طرف سے پاکستانی جامعات کے فنڈز میں 50 فیصد کٹوتی کی مذمت کی ہے۔

تنظیم کی طرف سے جاری کیے گئے بیان میں کہا گیا کہ چیئرمین ہائر ایجوکیشن کمیشن اسلام آباد اور سرکاری جامعات کے وائس چانسلرز کی عدم دلچسپی اور نااہلیت کی وجہ سے جامعات مالی، انتظامی، تعلیمی و تحقیقی مسائل میں گرے ہوئے ہیں۔

جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے مطابق جامعہ کے تمام ملازمین کو ہاؤس ریکوزیشن اور دیگر الاؤنسز کے بغیر نامکمل تنخواہ کی ادائیگی کے ساتھ ساتھ پنشنرز کو وقت پر  پنشن کی ادائیگی نہیں ہوتی جبکہ وفاقی حکومت کی جانب سے تین مارچ کو جاری کی گئے نوٹیفکیشن پر اب تک کوئی قدم نہیں اٹھایا گیا ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

واضح رہے کہ جامعہ کے سینڈیکیٹ کے 87 ویں اور 88 ویں اجلاس میں کیے گئے فیصلوں کے مطابق ریٹائرمنٹ پر گروپ انشورنس، بینوولینٹ فنڈ، ہیلتھ کارڈ، پروموشن، وفات پا جانے والا ملازمین کے لواحقین کی تعیناتی، ملازمین کے اوور ٹائم اور اساتذہ کے ایم فل، پی ایچ ڈی اور امتحانات کے بلز کی ادائیگی عرصہ دراز سے نہیں کی گئی ہے۔

جامعہ کے حکام نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ مالی بحران کے حوالے سے صوبائی وزیر خرانہ اور دیگر حکام سے رابطے جاری ہیں، جنہوں نے جلد فنڈز جاری کرنے کی یقین دہانی کروائی ہے۔

مالی بحران کے حوالے سے  جامعہ کے رجسٹرار سے رابطہ کرنے کی کوشش کی گئی، تاہم انہوں نے فون کا جواب نہیں دیا۔

دوسری جانب جوائنٹ ایکشن کمیٹی نہ صرف احتجاج جاری رکھے ہوئے بلکہ وہ مطالبات تسلیم نہ ہونے پر مزید سخت لائحہ عمل اپنانے کا بھی ارادہ رکھتی ہے۔

 یاد رہے کہ اس وقت بلوچستان کے صوبائی دارالحکومت کوئٹہ میں ہر طرف مظاہرے اور دھرنے جاری ہیں۔ جامعہ بلوچستان کے ملازمین کے ساتھ کوئٹہ کے مرکزی چوک پر سول سیکرٹریٹ کے ملازمین اساتذہ اور دیگر گذشتہ ایک ہفتے سے تنخواہوں میں 25 فیصد اضافےکے لیے سراپا احتجاج ہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی کیمپس