’ انسانیت کا درس دینے والے‘ آئی اے رحمٰن چل بسے

پاکستان کے ممتاز سماجی اور انسانی حقوق کے کارکن اور ہیومن رائٹس کمیشن کے سابق ڈائریکٹر آئی اے رحمٰن انتقال کر گئے۔

آئی اے رحمٰن اگرچہ صحافی تھے لیکن ان کا انسانی حقوق کے حوالے سے کام اور کردار ان کی اصل پہچان بنا(ایچ آرسی پی ویب سائٹ)

پاکستان کے ممتاز سماجی اور انسانی حقوق کے کارکن اور ہیومن رائٹس کمیشن کے سابق ڈائریکٹر آئی اے رحمٰن 90 سال کی عمر میں انتقال کر گئے۔ 

آئی اے رحمٰن کا پورا نام ابن عبدالرحمٰن تھا لیکن وہ پوری عمر اپنے قلمی نام سے پہچانے جاتے رہے۔

آئی اے رحمٰن اگرچہ صحافی تھے لیکن ان کا انسانی حقوق کے حوالے سے کام اور کردار ان کی اصل پہچان بنا۔ ان کو پاکستان میں انسانی حقوق کی تحریکوں کا بنیاد گزار گردانا جاتا ہے۔

وہ 1989 میں روزنامہ ’پاکستان ٹائمز‘ کے چیف ایڈیٹر جبکہ 1992 میں پاکستان ہیومن رائٹس کمیشن ( ایچ آر سی پی) کے جوائنٹ ڈائریکٹر بنے۔ انہوں نے مظہر علی خان کی ادرات میں شائع ہونے والے میگزین ’ویو پوائنٹ‘ اور اخبار ’آزاد‘ کے لیے بھی کام کیا۔

آئی اے رحمٰن کے قریبی ساتھی اور ایچ آر سی پی کے سابق ڈائریکٹرحسین نقی نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ان دونوں کا ساتھ 60 سال سے اوپر کا تھا۔

’وہ صحافت میں مجھ سے 10 برس پہلے آئے جس کے بعد صحافت ہو یا انسانی حقوق کمیشن پاکستان، ہم نے تقریباً اکٹھے کام کیا۔‘ انہوں نے بتایا کہ 1970 میں جب ’پاکستان ٹائمز‘ سے کئی ملازمین کو نکالا گیا تو آئی اے رحمٰن، مظہر علی خان، حمید اختر، عباس اطہر اور دوسرے ساتھیوں نے مل کر ایک اخبار ’آزاد‘ کے نام سے جاری کیا۔

تاہم ذوالفقار علی بھٹو کے دور حکومت میں ’پاکستان ٹائمز‘ کے تمام ملازمین کو بحال کرنے کے بعد آئی اے رحمٰن واپس اسی روزنامے میں آ گئے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہیومن رائٹس کمشن آف پاکستان قائم کرنے کا مرکزی خیال سابق وفاقی وزیر قانون مرحوم اقبال حیدر کا تھا، جس کو ایچ آر سی پی کی سابق چیئرپرسن مرحومہ عاصمہ جہانگیر نے عملی جامہ پہنایا اور یوں 1986 میں ایچ آر سی پی قائم کیا گیا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

’1991 یا 92 میں رحمٰن صاحب اور میں ویو پوائنٹ میں کام کرتے تھے جب عاصمہ جہانگیر نے ہم سے کہا کہ ہم ایچ آر سی پی میں شمولیت اختیار کریں تاکہ عوام کی بہتر خدمت کر سکیں۔‘

حسین نقی نے آئی اے رحمٰن کے انتقال کو ذاتی نقصان قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ مجھ سے بھی بڑا پاکستانی عوام اور انسانی حقوق کی تنظیموں کا نقصان ہے۔

آئی اے رحمٰن کے ایک اور قریبی ساتھی اور ہیومن رائٹس کمیشن کے سابق چیئرمین ڈاکٹر مہدی حسن کے مطابق آئی اے رحمٰن 1930 میں ہریانہ، بھارت میں پیدا ہوئے اور تقسیم ہند کے بعد پاکستان چلے آئے۔

انہوں نے بتایا کہ آئی اے رحمٰن نے پاکستان ٹائمز سے اپنے صحافتی کیریئر کا آغاز بطور فلمی رپورٹر کیا اور ان کے معروف شاعر فیض احمد فیض کے ساتھ دوستانہ تعلقات یہیں ملازمت کے دوران استوار ہوئے۔ ’وہ آج بھی فیض کا ذکر بڑے احترام اور جوش کے ساتھ کرتے تھے۔‘

’آئی اے رحمٰن کی سب سے بڑی خصوصیت یہ تھی کہ میں نے انہیں کبھی غصے میں نہیں دیکھا۔ ہمیشہ دھیمے لہجے میں بات کرتے۔ مشکل حالات میں بھی تحمل کا دامن نہیں چھوڑتے تھے۔

’یقیناً آئی اے رحمٰن کا جانا پاکستان میں انسانی حقوق کے حوالے سے جاری جدوجہد میں ایک بہت بڑا نقصان ہے جس کا مداوا ممکن نہیں۔‘

ڈیموکریٹک کمیشن فار ہیومن رائٹس کی سیکریٹری تنویر جہان آئی اے رحمٰن کے حوالے سے انڈپنڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے اشک بار ہو گئیں اور کہنے لگیں کہ ’میں روحانی طور پر دوسری بار یتیم ہوئی ہوں۔ گذشتہ برس ڈاکٹر مبشر حسن دنیا سے گئے اور اب آئی اے رحمٰن۔ یہ دونوں میرے روحانی والد تھے۔‘ 

انہوں نے بتایا کہ آئی اے رحمٰن نے فزکس میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کر رکھی تھی لیکن صحافت اور انسانی حقوق کے حوالے سے نام کمایا۔

’آئی اے رحمٰن نے تقریباً تین نسلوں کو صحافت اور انسانیت کا درس دیا۔‘

انہوں نے بتایا کہ وہ شوگر اور ہائی بلڈ پریشر کے مرض میں مبتلا تھے جبکہ کچھ عرصے سے ان کے پاؤں بھی ٹھیک کام نہیں کر رہے تھے۔ ان کی اہلیہ کا کچھ عرصہ قبل انتقال ہوا تھا۔

 ان کے تین بیٹے اور پانچ بٹیاں ہیں۔ ان کے ایک صاحب زادے اشعر رحمٰن ایک انگریزی (ڈان) روزنامے کے لاہور میں ریزیڈنٹ ایڈیٹر رہ چکے ہیں۔

سوشل میڈیا پر آئی اے رحمٰن کی تعزیت کا سلسلہ جاری ہے۔ دانش ور اور اکیڈیمک عادل نجم نے لکھا: ’وہ اپنے اصولوں کے لیے کھڑے ہوتے تھے، نعروں یا دکھلاوے کے لیے نہیں۔ وہ ہمارے اخلاق قطب نما اور اجتماعی شعور تھے۔ 

صحافی نسیم زہرہ نے ٹوئٹر پر لکھا: ’وہ پاکستان کی جمہوری جدوجہد کے ہراول دستے کے رکن تھے اور پاکستان کے کمزور اور پسے ہوئے طبقے کے انسانی حقوق کے لیے پیش پیش رہے۔ 

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے اپنی ٹویٹ میں انہیں کچھ یوں خراج عقیدت پیش کیا۔

سینیئر صحافی حامد میر نے ٹوئٹر پر لکھا ’الوداع آئی اے رحمٰن صاحب۔ ہم آزادیِ صحافت اور انسانی حقوق کے لیے آپ کی طویل اور انتھک جدوجہد کو ہمیشہ یاد رکھیں گے۔ آپ نے کبھی جمہوریت کے دشمنوں کے آگے سر نہیں جھکایا۔ ہم آپ کو سلام پیش کرتے ہیں۔‘

 

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان