’اینوریکسیا: ’اس بیماری کی گہرائیوں میں اندھیرے بہت ہیں

اینوریکسیا (بھوک نہ لگنے کی بیماری) ایسی ہے جیسے آپ کسی کمرے میں رہ رہے ہیں جس کے پردے بند ہیں۔ برطانیہ میں اس بیماری سے متاثرہ افراد کی تعداد کرونا وبا میں بڑھی ہے۔

نکی گراہم (انسٹاگرام نکی گراہم پیج)

جمعہ نو اپریل کی صبح ’بگ برادر‘ کی سابق سٹار نکی گراہم کا 38 سال کی عمر میں انتقال ہوا۔ اس کی وجہ ان کی بھوک نہ لگنے کی بیماری، اینوریکسیا، کے خلاف طویل عرصے سے جاری لڑائی تھی۔

تمام ذہنی بیماریوں میں اینوریکسیا کی شرح اموات سب سے زیادہ ہوتی ہے۔

مس گراہم نے 2006 میں ’بگ برادر‘ کی سیریز کے دوران شہرت پائی اور ان کے بہت مشہور جملے ’وہ کون ہے؟‘ کو ’بگ برادر‘ کے بہترین شوز میں دکھایا گیا۔ ’بگ برادر‘ کے بعد، انہیں اپنا شو ’شہزادی نکی‘ دیا گیا، جس میں انہوں نے غیرمتوقع ملازمتوں میں کام کی کوشش کی۔ 2010 میں مس گراہم نے اس شو کے آل سٹار ایڈیشن ’الٹیمیٹ بگ برادر‘ میں حصہ لیا تھا۔ وہ دوسرے نمبر پر آئی تھیں۔

مس گراہم چھوٹی عمر میں اینوریکسیا کا شکار ہوئیں اور تمام عمر اس مرض کا مقابلہ کیا۔ وہ اس موضوع پر دو کتابیں تحریر کر چکی ہیں۔ ان کی پہلی کتاب ’دبلا ہونے کے لیے مرنا‘ (ڈائنگ ٹو بی تِھن) 2009 میں جبکہ دوسری کتاب ’نازک‘ (فریجائل) 2012 میں شائع ہوئی تھیں۔

ان کی والدہ نے بتایا کہ ان کی بیٹی نے کھانے سے انکار سات سال کی عمر سے کرنا شروع کر دیا تھا اور یہ کہ لاک ڈاؤن کے دوران ان کی حالت بہت بگڑ گئی۔ گذشتہ ماہ نکی گراہم ایک نجی ہسپتال میں داخل ہوئیں، جب ان کے خاندان نے انتہائی مہنگے علاج کی ادائیگی میں مدد کے لیے ایک GoFundMe پر ایک فنڈریزنگ مہم شروع کیا تھا۔ دوستوں اور خیر خواہوں کے ذریعہ 65500 برطانوی پاؤنڈز (ایک کروڑ 37 لاکھ) سے زیادہ کی رقم جمع ہوئی۔

اینوریکسیا ایک خطرناک بیماری ہے۔ یہ متاثرہ مریض کی جسمانی صحت، دماغ کی فعالیت، شخصیت اور افرادیت کو ہی کھا جاتا ہے۔ اس بیماری کی گہرائیوں میں اندھیرے بہت ہیں۔ مریضوں کو معلوم بھی ہو کہ وہ مر رہے ہیں اور ٹھیک ہونا ان کے لیے ضروری ہے پھر بھی وہ اتنے بیمار ہوتے ہیں کہ بہتر نہیں ہو سکتے۔ 

 

جب انوریکسیا کے شکار افراد جانتے ہیں کہ وہ مر رہے ہیں اور انہیں بہتر ہونے کی ضرورت ہے، تو وہ اس حالت کو بدلنے میں بہت زیادہ بیمار ہوسکتے ہیں۔

اینوریکسیا کے ساتھ ایک دہائی طویل جنگ کے دوران میں ایک ایسا شخص بن گئی جس کو میں نہیں جانتی تھی۔ میں نے کھانے کے بارے میں جھوٹ بولا، میں نے کھانا چھپا لیا، کھانا ذخیرہ کر لیا۔ میں نے جنون کے ساتھ دوسرے لوگوں کے لیے کھانا پکایا۔ میری توجہ ایک تنگ نقطے میں پھنس گئی۔ مجھے اپنے آس پاس کی دنیا سے کوئی دلچسپی نہیں تھی اور میں اس تکلیف سے بالکل ناواقف تھی جو میری بیماری نے میرے دوستوں اور خاندانوں کو دی۔ ہر چیز پر پابندی تھی اور یہ سوچ تھی میرا وزن کم ترین کیسے ہوسکتا تھا۔ میرے بال گر گئے، میری جلد اور ناخن نیلے ہوگئے اور ٹوٹنے لگے تھے۔ میری ریڑھ کی ہڈی میں آسٹیوپینیا ہوگیا۔ یہ آسٹیوپوروسس کے لاعلاج مرض سے ایک قدم دور تھا۔

13 سال کی عمر سے ہی کھانے سے متعلق بیماری کے علامات ظاہر ہونے کے باوجود مجھے صحت سے متعلق پیشہ ور افراد کی طرف سے سنجیدگی سے لینے میں سات سال لگے جب مجھے او پی ڈی کلینک میں جگہ کی پیشکش کی گئی۔ اس وقت تک یہ بیماری اس حد تک جم چکی تھی کہ صحتیاب ہونا شناخت کھونا لگتا تھا اور میں نے اپنے وزن کو دوبارہ حاصل کرنے کے خلاف جدوجہد کی۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ابتدائی مداخلت اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کلیدی حیثیت رکھتی ہے کہ اینوریکسیا کے شکار افراد کو مکمل صحت یابی کا بہترین موقع حاصل ہو۔ جتنا جلد اس بیماری کی تشخیص کی جا سکتی ہے اور علاج کیا جاتا ہے، اس کا امکان زیادہ ہوتا ہے کہ اینوریکسیا کا شکار کوئی زندہ رہے گا۔ بدقسمتی سے، برطانیہ میں کھانے سے متعلق بیماریوں کی شکایت سے نمٹنے کی خدمات پر بہت زیادہ دباؤ ہے جس کی وجہ سے مریضوں کو اس وقت تک علاج فراہم نہیں کیا جاتا جب تک کہ ان کا باڈی ماس انڈیکس (BMI) خطرناک حد تک کم نہ ہو جائے۔ اس ہفتے ارکان پارلیمنٹ نے مطالبہ کیا ہے کہ بی ایم آئی کا کسی کو علاج کی فراہمی کے تعین کے لیے استعمال ختم کیا جائے۔

کرونا وبا کے دوران اینوریکسیا اور بلیمیا سے متاثرہ لوگوں کی تعداد بڑھی ہے جسے ماہر نفسیات مریضوں کی ’سونامی‘ سے تعبیر کر رہے ہیں۔ اس طرح کی طویل انتظار کی فہرستوں اور پوسٹ کوڈ لاٹری کے ساتھ یہ تعجب کی بات نہیں ہے کہ ’پراورٹی گروپ‘ جیسے نجی کلینک میں اینوریکسیا اور کھانے سے متعلقہ دیگر بیماریوں کے علاج کے بارے میں ہوچھنے والے افراد کی تعداد میں تیزی سے اضافہ دیکھا گیا ہے۔

ہمیں کھانے پینے کی بیماریوں اور اس حقیقت کی بہتر تفہیم کے موضوع پر زیادہ سے زیادہ بیداری کی ضرورت ہے کہ وہ صنف، عمر، معاشرتی پس منظر یا نسل سے قطع نظر کسی پر بھی اثر ڈال سکتی ہیں۔ لیکن شعور بیدار کرنا کافی نہیں ہے۔ اہم بات اس سروس کی موجودگی ہے جس سے لوگ صحتیاب ہوسکیں۔

اس حکومت کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ ہمارے قومی صحت کے نظام این ایچ ایس کو مناسب طریقے سے فنڈ فراہم کرے تاکہ کھانے سے متعلق بیماریوں میں مبتلا افراد کو صحت یابی اور زندہ رہنے کا بہترین موقع دیا جائے۔ میں ان سے مطالبہ کر رہی ہوں کہ وہ اس حقیقت کو دیکھیں کہ قومی لاک ڈاؤن کے باعث کھانے کی بیماری میں مبتلا افراد کی تعداد میں انتہائی زیادہ اضافہ ہوا ہے۔ یہ اچھی بات نہیں کہ لوگ خاموشی سے تکلیف برداشت کریں، صحت کے پیشہ ور افراد کی خدشمات دستیاب نہ ہوں اور مریض ایسا محسوس کریں کہ ان کے پاس زیادہ بیمار ہونے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہے کیونکہ تب ہی وہ مدد کے مستحق ہوں گے۔ جیسا کہ نکی گراہم نے کیا تھا۔ کسی کو بھی اپنے طبی علاج کے لیے کراوڈ فنڈ نہیں حاصل کرنا چاہیے۔

صحت یابی ممکن ہے۔ اینوریکسیا ہونا ایک چھوٹے سے کمرے میں رہنے کے مترادف ہے جس کے پردے کھینچے ہوئے ہوں۔ جب ہم بہتر ہونا شروع کرتے ہیں تو، ان پردے کو واپس کھینچ لیا جاتا ہے اور ہم دروازے سے باہر ایک روشن اور زیادہ خوبصورت دنیا میں جانے کے قابل ہوجاتے ہیں۔ یہ کوئی آسان راستہ نہیں ہے اور میں اپنی ذاتی طور پر اندرونی ’کھانے کی ناکارہ آواز‘ کے ساتھ جدوجہد کر رہی ہوں لیکن اب میری زندگی اتنی زیادہ خوشحال اور امکانات سے بھری ہوئی ہے۔

پرسکون لمحات میں، میں اینوریکسیا اور بلیمیا کی اپنی صورت حال کا جائزہ لیتی ہوں اور ضائع ہوئے برسوں، بکھرے ہوئے تعلقات، کھوئے ہوئے تجربات اور اپنی زندگی سے باہر آنے کے طریقے کے بارے میں سوچ کر مجھے شدید غم ہوتا ہے۔ میں نکی اور اس کے اہل خانہ اور ان تمام متاثرہ افراد کے لیے دل سے غمزدہ ہوں، جنہوں نے اپنی زندگی اینوریکسیا کے ہاتھوں کھو دیں جنہیں بغیر کسی سہارے کے خراب ہونے کے لیے چھوڑ دیا گیا ہے۔

برطانیہ میں معلومات اور مدد کے لیے ملاحظہ کریں

beateatingdisorders.org.uk

یا کال 0808 801 0677

© The Independent

زیادہ پڑھی جانے والی فٹنس