سعودی عرب، ایران میں تعلقات بحالی مذاکرات کی تردید

برطانوی اخبار فنائنشل ٹائمز کی خبر کے مطابق دونوں ملکوں کے اعلیٰ حکام کے درمیان مذاکرات کا پہلا دور نو اپریل کو بغداد میں ہوا تاہم سعودی عرب کے اعلیٰ ذرائع نے ایران سے بات چیت کی تردید کی ہے۔

عراقی وزیراعظم مصطفےٰ الکاظمی نے گذشتہ ماہ سعودی دارالحکومت ریاض میں ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے ملاقات کی تھی (اے ایف پی)

برطانوی اخبار فنائنشل ٹائمز نے کہا ہے کہ سعودی عرب اور ایران کے اعلیٰ حکام دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات میں بہتری لانے کے لیے براہ راست مذاکرات کر رہے ہیں۔

یہ بات چیت دونوں ملکوں کے درمیان پانچ سال پہلے سفارتی تعلقات کے خاتمے کے بعد شروع ہوئی ہے۔

اخبار نے اپنی ایک رپورٹ میں تین حکام کے حوالے سے بتایا، جنہیں مذاکرات کے بارے میں بریفنگ دی گئی تھی۔

دوسری جانب سعودی عرب کے ایک سینیئر عہدے دار نے ایران کے ساتھ کسی بھی بات چیت کی تردید کی ہے جب کہ ایران اور عراق نے اس حوالے سے کوئی تبصرہ نہیں کیا۔

فنائنشل ٹائمز کے مطابق سعودی عرب اور ایران کے درمیان مذاکرات کا اس ماہ عراق کے دارالحکومت بغداد میں ہوئے۔

خیال کیا جاتا ہے کہ 2016 کے بعد سے دونوں ملکوں کے درمیان یہ اہم سیاسی بات چیت ہے، جو ایسے وقت ہو رہی ہے جب امریکی صدر جو بائیڈن عالمی طاقتوں اور ایران کے درمیان 2015 میں ہونے والے ایٹمی معاہدے کی بحالی اور خطے میں کشیدگی کا خاتمہ چاہتے ہیں۔

اخبار کے مطابق تین حکام میں سے ایک نے کہا کہ سعودی عرب اور ایران کے درمیان مذاکرات کا پہلا دور نو اپریل کو بغداد میں ہوا، جس میں حوثی باغیوں کے حملوں کے معاملے پر مثبت بات چیت ہوئی۔

عہدے دار کے مطابق سعودی وفد کی قیادت ملک کے خفیہ ادارے کے سربراہ خالد بن علی الحمیدان نے کی۔ عہدے دار نے مزید کہا کہ بات چیت کا ایک اور دور اگلے ہفتے ہوگا۔

فنائنشل ٹائمز کا کہنا ہے کہ سعودی عرب اور ایران کے درمیان مذاکرات کے لیے عراقی وزیراعظم مصطفےٰ الکاظمی سہولت فراہم کر رہے ہیں۔

انہوں نے گذشتہ ماہ سعودی دارالحکومت ریاض میں ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے ملاقات کی تھی۔

عہدے دار کا کہنا ہے کہ ’یہ معاملہ تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے کیونکہ (ایٹمی معاہدے سے متعلق) امریکی بات چیت تیزی سے آگے بڑھ رہی ہے۔‘

فنانشل ٹائمز نے رپورٹ کیا کہ عراق کے ایک اعلیٰ عہدے دار اور ایک غیر ملکی سفارت کار نے سعودی عرب اور ایران کے درمیان مذاکرات کی تصدیق کی ہے۔

عراقی عہدے دار نے مزید کہا کہ بغداد نے ایران اور مصر اور ایران اور اردن کے درمیان رابطوں کے لیے بھی سہولت فراہم کی۔

عہدے دار کا کہنا تھا کہ ’وزیراعظم کو ذاتی طور پر اس بات میں بہت دلچسپی ہے کہ عراق خطے کی دو مخالف طاقتوں کے درمیان پل کا کردار ادا کرے۔

’ایسا کردار ادا کرنا عراق کے مفاد میں ہے۔ خطے میں محاذ آرائی جتنی زیادہ ہوگی وہ اتنا ہی زیادہ کردار ادا کریں گے۔ اور یہ مذاکرات ہو رہے ہیں۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

یاد رہے کہ 2016 میں تہران میں سعودی سفارت خانے پر حملے کے بعد دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات انتہائی کم سطح پر آ گئے تھے۔

اس کشیدگی میں اس وقت اضافہ ہوا جب سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے ساتھ ہونے والے ایٹمی معاہدے سے یک طرفہ طور پر الگ ہوئے اور ایران پر سخت پابندیاں عائد کر دیں۔

ستمبر 2019 میں یمن کے حوثی باغیوں نے سعودی عرب پر ڈرون حملہ کیا جس سے ملک کے تیل کی پیداوار میں عارضی طور پر آدھی ہو گئی۔

حملے کی ذمہ داری حوثیوں نے قبول کی تھی لیکن سعودی عرب اور امریکی حکام نے ایران پر الزام لگایا۔

واشنگٹن اور ریاض ایران پر الزام لگاتے ہیں وہ حوثیوں کو میزائل اور ڈرون سمگل کرنے میں ملوث ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی ایشیا