کشمیری مائیں کیسی کیسی نئی روایتیں ڈال رہی ہیں

کیا واقعی ماں اتنی جرات مند ہوسکتی ہے یا پھر وادی کشمیر میں رقصاں موت ماؤں کو اپنا کرب چھپانے کی کوشش میں پتھر دل بنانے لگی ہے؟

بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں چند خواتین لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے 2004 میں منعقد ہوئے ایک احتجاجی کیمپ میں بیٹھی ہیں۔ تصویر۔ اے ایف پی

ایسا منظر صرف کشمیر میں ہی دیکھنے کو ملے گا جہاں ایک ماں، جس کا بیٹا سکیورٹی فورسز کے ہاتھوں ہلاک ہوا ہو، سوگواروں سے صبر و تحمل برتنے کی اپیل کرتی ہو۔

کیا واقعی ماں اتنی جرات مند ہوسکتی ہے یا پھر وادی کشمیر میں رقصاں موت ماؤں کو اپنا کرب چھپانے کی کوشش میں پتھر دل بنانے لگی ہے؟

کہیں ایسا تو نہیں کہ کشمیری ماں انتہائی کرب میں مبتلا اپنی پہچان، اپنی ہستی اور ذہنی توازن سے ہی محروم ہو رہی ہے۔ روز روز کی ہلاکتوں اور خون ریزی نے نہ صرف کشمیری عورت کی زندگی بدل ڈالی ہے بلکہ اس کے لیے معاشرتی اور مذہبی ترجیحات بھی تبدیل ہوتی جا رہی ہیں۔

اب مائیں اپنے ’شہید‘ بیٹوں کے جلوس کی قیادت کرتی ہیں، قبرستان تک لے جاتی ہیں اوران کے جنازے میں شامل ہوتی ہیں۔ چند دہائیوں پہلے تک کشمیری عورت محال ہی سڑکوں پر نظر آتی تھی، قبرستان جانا تو دور کی بات۔ اسے مذہبی طور پر بھی جائز تصور نہیں کیا جاتا تھا۔

ان دلدوز مناظر کو دیکھ کر پتھر دل بھی پسیج جاتا ہے مگر بھارتی قیادت پر اس کا کوئی اثر نہیں جو ہر جنگجو کی ہلاکت کو ایک بڑی کامیابی سے تعبیر کر کے جشن مناتی ہے اورعالمی برادری خاموشی اختیار کرکے اپنی بےحسی کا مظاہرہ کرتی ہے۔

یہ کہانی ہے پچھلے ماہ 24 اور 25 اپریل کی رات کی جب اننت ناگ کے باگندر محلے میں بھارتی سکیورٹی فورسز کی ایک ٹولی نے چھاپے کے دوران تین گھنٹے معرکہ آرائی کے بعد دو جنگجوؤں کو مکان سمیت بارود سے اڑا دیا۔

ان میں ایک برہان الدین گنائی تھے جنہیں لوگ ڈاکٹر برہان کے طور پر جانتے تھے۔ ڈاکٹر برہان نے گذشتہ برس فزیوتھیرپی کی ڈگری حاصل کی تھی۔ اس کے چند ماہ بعد سوشل نیٹ ورک کے ذریعے معلوم ہوا کہ وہ جنگجو تنظیم حزب المجاہدین میں شمولیت اختیار کر چکے ہیں۔

یہ 1990 کا زمانہ نہیں جب عسکریت پسند تربیت یافتہ اور اسلحے سے لیس ہوا کرتے تھے۔ چند برسوں سے جو بھی نوجوان عسکری تحریک میں شامل ہوا اس کی ہلاکت ایک سال کے کم عرصے میں ہوئی اور بیشتر محاصرے میں پھنس کر بارود کا ڈھیر بن گئے۔ وجہ ظاہر ہے کہ ان کے پاس نہ کوئی تربیت ہے اور نہ اسلحہ اور نہ کوئی منظم تنظیم۔

پھر بھی جولائی 2016 میں برہان وانی کی ہلاکت کے بعد سینکڑوں نوجوان عسکری تحریک میں شامل ہو رہے ہیں۔ ان میں زیادہ تعداد اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوانوں کی ہے۔

یہ جانتے ہوئے بھی کہ ان کی ہلاکت سے ان کے اہل خانہ پر نہ صرف مصیبتوں کا پہاڑ ٹوٹ پڑتا ہے بلکہ وہ سکیورٹی فورسز کی تاک میں 24 گھنٹے رہتے ہیں، چند سو نوجوان تقریباً سات لاکھ افواج کے ساتھ نبرد آزما ہیں۔

ڈاکٹر برہان کی والدہ نے ان کے لاپتہ ہونے کے 11 ماہ بعد جب اپنے بیٹے کی میت دیکھی تو سوگواروں کے ایک بڑے مجمعے سے مخاطب ہو کر کہا: ’برہان کی ہلاکت پر کوئی ماتم نہیں کرے گا۔ اس نے اپنے لیے جو راستہ اختیار کیا تھا وہ اس پر ثابت قدم رہا۔ انجانے میں اگر اس نے کسی کو کوئی گزند پہنچائی ہو تو اللہ کے واسطے اسے اس غلطی کے لیے بخش دینا‘۔

والدہ کی بات سن کر وہاں ماتم شروع ہو گیا اور وہ خاموشی سے دیکھتی رہیں۔ نہ کوئی سینہ کوبی، نہ کوئی اُف اور نہ کوئی گلہ... بس پتھر کا جگر رکھنے والی ماں آخری رسم میں شامل ہو گئی۔

60 سالہ ظریفہ نے برہان کو ڈاکٹر بنانے کا خواب دیکھا تھا جو ڈگری ختم کر کے اچانک لاپتہ ہو گئے۔ پھر جب واپس ملے تو وہ ان کی گولیوں سی چھلنی لاش تھی۔ میں نے ظریفہ سے پوچھا کہ وہ جنگجو بننے پر کیوں مائل ہوئے جب انہوں نے ڈگری مکمل کرلی تھی؟

’میں اس روز سے جانتی تھی کہ ہمارے محلے میں شاید ہی کوئی فرد ہو گا جو بندوق نہیں اٹھائے گا کیونکہ ہم سب نے 2010 کی شورش کے دوران اپنی آنکھوں کے سامنے چار معصوم بچوں کو بھارتی فوج کے ہاتھوں شہید ہوتے دیکھا تھا۔ ان میں سب سے چھوٹا ساتویں جماعت کا طالب علم تھا جو روٹی لینے گیا تھا اور گھر کی دہلیز پر فوج کی گولیوں کا نشانہ بنا۔ برہان بار بار اس واقعے کو دہراتا تھا۔ پھر جب ہر مرتبہ چھاپے، گرفتاریاں، ماردھاڑ اور عورتوں کو ہراساں کرنے کے واقعات برہان دیکھتا تھا تو وہ کمرے میں جا کر نماز اور قرآن گھنٹوں پڑھا کرتا تھا۔ وہ پریشان رہتا اور اس کی آنکھوں سے بے بسی ٹپکنے لگتی۔ شاید اسی لیے اس نے عسکری راستہ اختیار کرکے اپنی موت کو ترجیح دی جو اب ہمارے اکثر بچے کر رہے ہیں۔ بھارتی فوج کی بےانتہا زیادتیوں کی وجہ سے ہی ہمارے بچے بندوق اٹھا رہے ہیں اور جو مودی سرکار کو راس بھی آتا ہے۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ان کی آواز میں متانت اور ٹھہراؤ تھا۔ میں نے ظریفہ سے پھر پوچھا کہ آپ نے برہان کو تلاش کیوں نہیں کیا؟

وہ آہ بھر کر کہنے لگیں: ’میں نے پولیس، فوج اور انتظامیہ سے درخواست کی کہ اس کو تلاش کرنے میں مدد کریں۔ سب نے جواب دیا اگر وہ انکاؤنٹر (مقابلے) میں پھنس گیا تو ہم آپ کو اس وقت بلائیں گے تاکہ آپ اس کو سرنڈر کرانے میں مدد کرسکیں۔ لیکن فوج نے اسے ہلاک کرنے کے چند گھنٹے بعد ہمیں اطلاع دی‘۔

چند منٹ خاموش رہنے کے بعد وہ بولیں: ’کیا دنیا والوں کو کشمیری ماؤں کا کرب نظر نہیں آتا یا وہ ہمارے درد سے واقف نہیں، کیا وہ ہمارے آنسو نہیں دیکھتے، ہماری گود خالی ہوتے دیکھ کر کسی کو ترس نہیں آتا؟ وہ مودی کی کشمیر پالیسی پر بات کیوں نہیں کرتے، ہمیں اپنے حال پر چھوڑنے کے لیے بھارت پر دباؤ کیوں نہیں ڈالتے، ہمارے بچوں کو زندہ رہنے کا حق کیوں نہیں دیتے؟ کیا ہمیں آزادی سے رہنے کا حق نہیں؟‘

ان کے سوالوں کا میرے پاس کوئی جواب نہیں تھا اور نہ میں یہ پوچھنے کی ہمت کر سکی کہ آپ میں یہ صبر، تحمل اور برداشت کرنے کی طاقت کہاں سے آئی۔

ظریفہ اندرونی کرب میں مبتلا تنہا نہیں بلکہ وہ کشمیر کی آبادی کے اس نصف فیصد کی ترجمانی کر رہی ہیں جو بندوق کے سائے میں ہر پل مرتی ہیں اور پھر زندہ ہوتی ہے۔ اپنی گود خالی ہونے پر ماتم کرتی ہیں اور خود پر ہونے والے ظلم پر ہنستی بھی ہیں۔ کشمیری ماؤں کا یہ مشکل ترین امتحان سات دہائیوں سے جاری ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی نقطۂ نظر