جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا ’ نیا پاکستان‘

17 اگست 2023 کی صبح قاضی فائز عیسیٰ چیف جسٹس آف پاکستان بن جائیں گے۔ اس کے ملکی تاریخ پر گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

 جسٹس قاضی فائز عیسیٰ چیف جسٹس آف پاکستان ہوں گے تو عام انتخابات کا ماحول ہی اور ہو گا۔  (اے ایف پی فائل)

 

یہ تحریر مصنف کی آواز میں آپ یہاں سن بھی سکتے ہیں


تبدیلی پہلے ہی برف کا باٹ بنی پڑی تھی، جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کیس میں سپریم کورٹ کے فیصلے نے اسے گویا دھوپ میں رکھ چھوڑا ہے۔ عمران خان کے نئے پاکستان کا شباب تمام ہوا، یہ وقت پیری ہے۔ اب جسٹس قاضی فائز عیسی کا ’مزید نیا پاکستان‘ بننے جا رہا ہے۔

دیکھنا یہ ہے کہ اس فیصلے کے ملک کے قانونی اور سیاسی منظر نامے پر کیا اثرات مرتب ہو سکتے ہیں اور کیا یہ فیصلہ اس سیاسی بندو بست کے لیے امید کا پیغام ثابت ہو سکتا ہے جو تیزی سے جوہر ِ حیات سے محروم ہو تا جا رہا ہے؟

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کرونا سے محفوظ رہے (اللہ انہیں محفوظ رکھے)، تو الجہاد ٹرسٹ کیس میں طے کیے گئے اصول کی روشنی میں 17 اگست 2023 کی صبح وہ بطور چیف جسٹس آف پاکستان کورٹ روم نمبر ون میں موجود ہوں گے اور اس منصب پر فائز ہونے کے لیے انہیں وزیر اعظم یا صدر محترم میں سے کسی کی تائید، اجازت اور آشیرباد کی ضرورت نہیں ہو گی۔ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کی تعیناتی نہیں ہوتی نہ ہی کسی کے پاس کوئی صوابدیدی اختیار ہے کہ دو یا تین ناموں سے کسی ایک کو بطور چیف جسٹس منتخب کر لے اور نہ ہی یہاں ایکسٹینشن کی گنجائش موجود ہے۔

یہ مسئلہ ہمیشہ کے لیے حل کر دیا گیا ہے کہ چیف جسٹس کی ریٹائرمنٹ پر سینیارٹی لسٹ میں جو ان کے بعد ہو گا وہ یہ منصب سنبھال لے گا۔ چنانچہ آج ہی سب کو معلوم ہے کہ جناب جسٹس گلزار احمد دو فروری 2022 کو ریٹائر ہو جائیں گے اور ان کی جگہ یہ منصب سنبھالنے والے جسٹس جناب عمر عطا بندیال 16 اگست 2023 کو ریٹائر ہو جائیں گے اور 17 اگست کو جناب جسٹس قاضی  فائز عیسیٰ چیف جسٹس آف پاکستان ہوں گے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

یہ وقت بڑا اہم اور بڑا نازک ہو گا۔ موجودہ قومی اسمبلی کی مدت 13 اگست 2023 تک ہے۔ یعنی جسٹس قاضی صاحب کے چیف جسٹس کا حلف اٹھانے سے صرف تین دن پہلے اسمبلی تحلیل ہو جائے گی۔ اسمبلی کے تحلیل ہونے کے 90 دن کے اندر عام انتخابات ہونے ہوتے ہیں۔ گویا آئندہ عام انتخابات کے وقت جسٹس قاضی فائز عیسیٰ چیف جسٹس آف پاکستان ہوں گے۔ انتخابی عمل کی الف ب سے آگہی رکھنے والے حضرات بخوبی جانتے ہیں کہ اس کا مطلب کیا ہو گا۔ آسان تفہیم کے لیے یوں سمجھ لیجیے کہ کم از کم آر ٹی ایس کے ’تشریف فرما‘ ہو جانے یعنی بیٹھ جانے کا امکانات نہ ہونے کے برابر ہوں گے۔

حالیہ ضمنی انتخابات میں الیکشن کمیشن اپنا آپ ایک حد تک منوا چکا ہے۔ چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ نے جرات مندانہ فیصلے کیے ہیں اور ثابت قدمی سے اپنے فیصلوں کا دفاع کیا ہے۔ ان کا انتخاب 27 جنوری 2020 کو ہوا ہے اور وہ پانچ سال کے لیے چیف الیکشن کمشنر ہیں۔ یہ بھی یاد رہے کہ ان کی یہ مدت بھی آئینی ہے اور وہ وفاقی کابینہ کے رکن نہیں ہیں کہ کسی بھی وقت کان سے پکڑ کر نکال دیے جائیں۔ جنوری 2025 تک اب وہ چیف الیکشن کمشنر ہیں۔

اگلے عام انتخاب میں اگر سکندر سلطان راجہ چیف الیکشن کمشنر ہوں اور جسٹس قاضی فائز عیسیٰ چیف جسٹس آف پاکستان ہوں تو عام انتخابات کا ماحول ہی اور ہو گا۔ نہ انتظامیہ میں یہ ہمت ہو گی کہ وہ چیف الیکشن کمشنر کا فون سننے کسے انکار کر دے اور نہ ہی آر ٹی ایس میں یہ جرات ہو گی کہ وہ عین وقت پر ضد کر جائے کہ میں تو بیٹھنے لگا ہوں۔ جو احباب عالم وارفتگی میں خبر دیتے تھے کہ تبدیلی پانچ سال کے لیے نہیں بلکہ دس سال کے لیے تشریف لائی ہے انہیں معلوم ہونا چاہیے کہ تبدیلی کا دورانیہ اب صرف اس کی کارکردگی اور نامہ اعمال ہی طویل کر سکتا ہے۔ شفاف انتخابات کا ہر گز، لازمی طور پر یہ مطلب نہیں کہ تحریک انصاف ہار جائے گی۔ شفاف انتخابات کے نتیجے میں جو بھی جیت جائے، یہ قوم کے شعور اجتماعی کی کامیابی ہو گی۔ اسی کا نام ارتقا ہے کہ آنے والا کل گذشتہ کل سے بہتر ہو۔

سپریم کورٹ کے حالیہ فیصلے نے صدرپاکستان اور وزیر اعظم کے اخلاقی وجود کے بارے میں بھی کئی سوالات اٹھا دیے ہیں۔ صدر محترم نے جس طرح سپریم کورٹ کے ایک معزز جج کے خلاف ریفرنس بھیجا، کیا وہ اپنے فیصلے کی کوئی اخلاقی اور قانونی توجیح پیش کرپائیں گے؟ کیا وہ آفاقی اصول اب خود ان پر بھی لاگو ہوں گے جن کا وہ حزب اختلاف کے دنوں میں بڑا ابلاغ کیا کرتے تھے اور جن کی روشنی میں اب انہیں اپنے عہدے سے مستعفی ہو جانا چاہیے؟

تحریک انصاف کے بارے میں ’غلط العام‘ یہ تھا کہ اس کے کارکنان دیگر جماعتوں کے کارکنان کی نسبت زیادہ باشعور ہیں۔ اس سارے قصے میں یہ بھی ثابت ہوا کہ تحریک انصاف بھی اپنی ہیئت ترکیبی میں دوسری جماعتوں کی طرح ہی ہے جہاں کارکن کو شرح صدر ہے کہ سچ وہی ہے وہ اس کا گروہی موقف ہے اس کے سوا سب جھوٹ اور باطل ہے۔ تحریک انصاف کے وابستگان کی جانب سے سوشل میڈیا پرجس طرح جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی توہین اور تضحیک کی گئی اور جس طرح اس پر پی ٹی اے سمیت متعلقہ ادارے خاموش رہے یہ ایک افسوسناک باب ہے جو بتا رہا ہے کہ اس اودھم میں کہیں کوئی اہتمام بھی موجود تھا اور حکومت اگر اس عمل میں شریک نہیں تھی تو تجاہل عارفانہ ضرور اختیار کیے ہوئے تھی۔

اب جب سپریم کورٹ نے فیصلہ سنا دیا ہے تو امکان یہ ہے کہ ’حسن تکلم‘ کے نشانے پر اب جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے ساتھ ساتھ پوری سپریم کورٹ کو رکھا جائے گا اور ایسے ایسے مضامین باندھے جائیں کہ الامان۔ ’پوسٹ ٹروتھ‘ کی بنیاد پر جارحانہ پروپیگنڈا جب بہترین حکمت عملی قرار پائے تو پھر ایسے ہی حادثات جنم لیتے ہیں۔ پاکستان تحریک انصاف میں اگر کوئی رجل رشید ہے تو اسے اس اخلاقی بحران سے اپنی جماعت کو نکالنی کی کوئی ترکیب سوچنی چاہیے۔

تحریک انصاف حتساب کے نظام کو معتبر بنانے نکلی تھی لیکن اس نے اس تاثر کی نفی کرنے کی بجائے اسے مزید مضبوط کر دیا ہے کہ یہاں کسی کو اس لیے کٹہرے میں نہیں لایا جاتا کہ وہ کرپٹ تھا بلکہ جسے کٹہرے میں لانا مقصود ہو اس کی کرپشن تلاش کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔

کوئی دکھ سا دکھ ہے۔ شکیل بدایونی بھی کہاں یاد آئے:

اے محبت ترے انجام پہ رونا آیا۔

نوٹ: یہ تحریر کالم نگار کے ذاتی خیالات اور تاثرات پر مبنی ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی زاویہ