ایک فائر فائٹر کی فریاد: ’ساری زندگی داؤ پر لگا دی مگر ریگولر نہ ہوسکا‘

بابو کنبھر اسلام کوٹ تحصیل کے واحد فائر مین ہیں۔ صحرائی علاقہ ہونے کے باعث انہیں فور بائی فور فائر بریگیڈ گاڑی دی گئی ہے تاکہ وہ روڈ سے دور ریتیلے علاقے میں بھی پہنچ کر آگ پر قابو پاسکیں۔ 

بابو کنبھر نہ صرف تحصیل اسلام کوٹ میں آگ بجھانے کام کرتے ہیں  بلکہ دوسری تحصیلوں میں بھی انہیں ضرورت پڑنے پر بلوایا جاتا ہے (تصاویر: غازی بجیر)

صوبہ سندھ کے جنوب مشرق میں واقع 20 ہزار مربع کلومیٹر پر پھیلے خشک خطے صحرائے تھر میں آگ کے واقعات معمول کی بات ہیں۔ آئے دن مقامی اخبارات میں تھر میں آگ لگنے کی ایسی خبریں لگتی رہتی ہیں جن میں گاؤں کے گاؤں جل جاتے ہیں۔

ضلع تھرپارکر کی تحصیل اسلام کوٹ کے فائرمین محمد سومار عرف بابو کنبھر کے مطابق چونکہ تھر ایک خشک خطہ ہے اس لیے آگ لگنا معمول کی بات ہے اور سال کے چند مہینوں میں آگ کے واقعات میں بے پناہ اضافہ ہو جاتا ہے۔  

انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو کرتے ہوئے بابو کنبھر نے بتایا کہ ’تھر ایک صحرائی علاقہ ہے جہاں کم مقدار میں بارشیں ہوتی ہیں، گرمیوں میں ریت خوب تپتی ہے، اس لیے چھوٹی سی چنگاری سے بھی آگ بھڑک اٹھتی ہے۔ مارچ سے جون کے دوران بارش کا کوئی امکان نہیں ہوتا اور موسم بھی گرم ترین رہتا ہے، ان چار مہینوں میں آگ کے واقعات میں کئی گنا اضافہ ہو جاتا ہے۔‘

بابو کنبھر اسلام کوٹ تحصیل کے واحد فائر مین ہیں۔ صحرائی علاقہ ہونے کے باعث انہیں فور بائی فور فائر بریگیڈ گاڑی دی گئی ہے تاکہ وہ روڈ سے دور ریتیلے علاقے میں بھی پہنچ کر آگ پر قابو پاسکیں۔ 

42 سالہ بابو کنبھر بتاتے ہیں کہ انہیں 2004 میں بلدیات شعبے میں چار سکیل کے فائرمین کی نوکری پر کنٹریکٹ پر رکھا گیا۔ 2004 سے پہلے بھی انہوں نے فائرمین کے طور پر چند سال کام کیا تھا۔

’اتنے سالوں کے دوران ہزاروں گھروں میں لگی آگ بجھائی، آج تک ایسی کوئی آگ نہیں جہاں میں پہنچا اور نہ بجھا سکا۔ ہمیشہ اپنی زندگی داؤ پر لگا کر کام کیا، مگر 16 سال گزرنے کے باوجود مجھے شعبے میں ریگیولر نہیں کیا گیا اور آج تک میں دیہاڑی پر کام کرتا ہوں۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انہوں نے کہا: ’ریگولر نہ ہونے کی وجہ سے مجھے کوئی سرکاری سہولت نہیں ملتی، نہ مجھے ریٹائر ہونے کے بعد کوئی پینشن ملے گی۔ میرے پاس فہرست بنی ہوئی ہے، میں ان 16 سالوں میں نے 27 ٹاؤن آفیسرز کو درخواست دی کہ مجھے ریگولر کیا جائے۔ ضلعی حکومت اور ڈپٹی کمشنر کو بھی درخواست دی۔ ایک بار بس سے کراچی بھی گیا کہ صوبائی سیکریٹری کو درخواست دوں، مگر ان سے ملاقات نہ ہوسکی۔‘

’آج میری تنخواہ صرف 20 ہزار ماہوار ہے، اگر مجھے ریگولر کر دیا جائے گا تو میری تنخواہ 40 ہزار ہو جائے گی، ساتھ میں سرکاری مراعات اور میڈیکل بھی مل سکے گا اور ریٹائرمنٹ کے بعد پینشن کا بھی آسرہ ہوگا۔ تو کیا ریگولر ہونا میرا حق نہیں؟‘

بابو کنبھر نہ صرف تحصیل اسلام کوٹ میں آگ بھجانے کا کام کرتے ہیں بلکہ دوسری تحصیلوں میں بھی انہیں ضرورت پڑنے پر بلوایا جاتا ہے۔ وہ اسلام کوٹ سے نگر پارکر، ڈیپلو اور چھاچھرو تحصیلوں کے دور دراز کے نواحی گاؤں میں لگی آگ بجھانے کے لیے دو سو کلومیٹر تک کا سفر کر کے جاتے ہیں۔

’میں نے فائر برگیڈ کی گاڑی میں کلہاڑی، بیلچہ اور کدال رکھی ہوئی ہے، کبھی ریت میں گاڑی پھنس جاتی ہے تو اسے نکالنے کے لیے یا اگر آگ تک گاڑی نہیں پہنچ پاتی تو جھاڑیاں کاٹ کر راستہ بناتے ہیں۔ صحرا میں پانی کی کمی ہے اور اگر گاڑی میں موجود پانی سے آگ نہ بجھے تو کنویں سے پانی بھر کر آگ بھاتے ہیں، کبھی کبھی تو پانی نہ ہونے کی صورت میں اپنے ہاتھوں سے آگ بجھاتا ہوں، یہ بہت محنت کا کام ہے۔‘

انہوں نے کہا: ’آگ بجھانے کے ساتھ وہاں بندھے مویشیوں کو نکالنا اور لوگوں کو بچانا ہوتا ہے۔ یہ انسانی خدمت کا کام  ہے جو میں چھوڑنا نہیں چاہتا۔ بس اتنی التجا ہے کہ مجھے ریگولر کیا جائے تاکہ میرے بچوں کی روزی روٹی پوری ہوسکے۔‘ 

زیادہ پڑھی جانے والی میری کہانی